Feb 7, 2026 09:25 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
علم و معرفت کی ترویج و اشاعت میں خانقاہ برکاتیہ کانمایاں مقام

علم و معرفت کی ترویج و اشاعت میں خانقاہ برکاتیہ کانمایاں مقام

13 Nov 2025
1 min read

علم و معرفت کی ترویج و اشاعت میں خانقاہ برکاتیہ کانمایاں مقام

ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی: پروفیسر بلغاریہ اسلامک اکیڈمی روس

جماعت اہل سنت کے ایک نوجوان عالم دین حضرت مولانا عبدالجبار صاحب علیمی قابل مبارک باد ہیں کہ انہوں نے خانقاہ برکاتیہ نمبر نکالنے کی کوشش کی ان کا یہ قدم قابل صد تحسین ہے اور خانقاہ برکاتیہ سے ان کے لگاؤ اور بے پناہ محبت کی دلیل ہے ، میں دعا کرتا ہوں کہ رب قدیر ان کو ان کے اس نمایاں کارنامے پر سعادت دارین سے مالامال فرمائے ۔

توکل علیٰ اللہ صوفیائے کرام کے عمل میں ایک نمایاں مقام کا حامل ہے ،مگر توکل علیٰ اللہ کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا ہے ، کہ اللہ کا بندہ سست تدابیر عمل سے غافل  ہوجائے اس کے نتیجے میں اس کو دوسروں کا دست نگر بننا پڑے ، بلکہ اہل اللہ کے نزدیک رزق حلال حاصل کرنا ایک عبادت ہے ، اسی لیے جب ہم صوفیائے کرام کی زندگی پر گہری نظر ڈالتے  ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صوفیائے کرام نے اپنی زندگی میں سستی کاہلی ، اور بے روزگاری کے اسباب کو ترجیح نہیں دی ہے بلکہ  علم و عمل کی تحریک بن کر کام کرتے رہے ہیں ، اس تناظر میں جب ہم ہندوستان کی خانقاہوں پہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں خانقاہ برکاتیہ ہندوستان کی ایک ایسی خانقاہ نظر آتی ہے جہاں توکل علیٰ اللہ کا مطلب اسباب  رزق سے بے نیازی اور جیب غیر پر نظر محتاجگی  نہیں ہے ، بلکہ اس خانقاہ کے بزرگوں نے جہاں پر ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے طریق و معرفت میں اعلیٰ مقام حاصل کیا  وہیں پر اس خانقاہ کے بزرگوں نے خوداری اور توکل علیٰ کی ایسی نظیر قائم فرمائی کہ ایک عالم ان کے در سے پلتا رہا ، جب کہ وہ کسی کے دست نگر اور محتاج نہ رہے ۔

علاوہ ازیں اس خانقاہ نے رسم و رواج پیری مریدی کے فرسودہ نظام کو کچلتے ہوئے میدان علم میں وہ مقام حاصل کرلیا  جس کو دیکھ کر تصوف کے وہ مخالفین انگشت بدنداں رہ گئے ، جن کاتصوف اور اہل تصوف پر یہ الزام رہا ہے کہ یہ لوگ پیری مریدی کے چند رسم و رواج سے آگے نہیں بڑھتے  اور ان کے یہاں  علوم و معرفت، تحقیق و تدقیق کی گہرائی و گیرائی  نہیں پائی جاتی ہے ۔

اب ہم خانقاہ کے برکاتیہ کے ا ن عظیم بزرگوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے طریقت و معرفت کے علاوہ علم کے میدان میں بھی ایسا منارہ علم تیار کیا ہے کہ جسے دیکھ کر بڑے بڑے اہل علم کی کلاہ  کج ہوجاتی ہے ، مثال کے طور سید آل رسول مارہروی(1296ھ  1879 عیسوی) کی ذات بابرکات کو لے لیجئے  جو اپنے وقت کے جلیلالقدر محدث شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ کے شاگرد اور ان کے مجاز تھے علاوہ ازیں اپنے وقت کے معقولات کے امام بھی تھے ، ایلیدس اور ہندسہ کے ماہر بھی تھے ، فن طب میں اپنے والدہ گرامی حضرت سید آل برکات  اور حکیم فرزند علی خان مہانی کے جانشین تھے ۔ 

اس خانقاہ کی دوسری عظیم علمی شخصیت حضرت سید ابوالحسن نوری مارہروی کو لے لیجئے جنہوں نے اپنے عالدہ گرامی حضرت سید آل رسول مارہروی کے علاوہ  شیخ الاسلام زین الدین زکریا محمد بن انصاری سے حدیث کے اسناد عالیہ سے سرفراز تھے ، النُّور والبَهاء في أسانيد الحديث وسلاسل الأولياء وغیرہ اور آپ کی علمی عظمت کے لیے اتنا کافی ہے کہ وقت کا مجدد علمائے زمانہ کا امام سینکڑوں کتابوں کا مصنف اعلیٰ حضرت کے لقب سے سرفراز ہونے والے ذات بابرکت امام احمد رضاخان علیہ الرحمۃ والرضوان جیسے ذات نے اپ سے ہی علم جفر اور علم تکسیر جیسے دقیقی علوم و فنون حاصل کرکے زمانے کے خاتم المحققین کہلائے ، اعلیٰ حضرت کی تنہا ذات اس بات کے لیے کافی ہے کہ خانقاہ برکاتیہ پیری مریدی کی فرسودہ نظام کی امین نہیں بلکہ تحریک و عمل کی ایسی مثال ہے کہ جس پر علوم و معرفت کو خود ناز ہے ۔علوم و معرف کی امین یہ خانقاہ زمانہ ماضی کی قصہ پارینہ بن کر نہ رہی بلکہ عصر حاضر میں بھی اس نے علم کے میدان میں ایسا نمایاں کام کیا کہ پوری جماعت اہل سنت کے سر افتخار کو بلند کردیا ، اور ایک ایسے دور میں جب جماعت اہل سنت شحت الرجال سے جھوجھ رہی تھی اس وقت اس خانقاہ نے صرف علی گڑھ و اطراف نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے سنیوں کی لاج رکھتے ہوئے البرکات کی شکل میں ایک عظیم دانش گاہ دے کر ہم کو سجدہ شکر ادا کرنے  کی سعادت نصیب فرمائی ، البرکات کی شکل میں یہ عظیم تعلیم گاہ در حقیقت حضور احسن العلما علیہ الرحمہ کے حسن تدبیر کا نتیجہ ہے جنہوں نے اپنے چاروں صاحبزادوں کی ایسی تربیت نہ کی جو پیری مریدی کو ذریعہ معاش بنائیں  ، بلکہ آپ نے اپنے صاحبزادوں کی ایسی تربیت کی کہ وہ امت کے لیے( ید علیا)بن کر غیروں کے لیے مشعل راہ رہیں، یہ اسی حکیمانہ تربیت اور والد گرامی کے نظر کیمیا کا اثر ہے کہ حضور سرکار امین ملت دامت برکاتہم العالیہ  علی گڑھ یونیورسٹی جیسی آزاد فضا میں رہ کر مسلک و ملت کی حفاظت کرتے رہے ، اور مسلک و ملت کی حفاظت اور اس کی سربلندی کے لیے ہی البرکات کا قیام کرکے امت پر عظیم احسان کیا ہے ۔اللہ رب العزت ان بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پہ دراز فرمائے۔آمین

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383