Feb 7, 2026 06:10 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
رجب المرجب: شورِ کائنات میں سکوت روح اور استقبال رمضان کا فلسفہ

رجب المرجب: شورِ کائنات میں سکوت روح اور استقبال رمضان کا فلسفہ

25 Dec 2025
1 min read

رجب المرجب: شورِ کائنات میں سکوت روح اور استقبال رمضان کا فلسفہ

        از:

 ڈاکٹر مفتی محمد سبطین رضا مرتضوی___

اسلامی کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں چار مہینے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے 'حرمت والا' قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی ان مہینوں کی عظمت پر مہر لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ“ (التوبہ: 36)

بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ (کنز الایمان) ان چار مہینوں میں رجب المرجب ایک خاص انفرادیت رکھتا ہے کیونکہ یہ باقی تین مہینوں (ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام) کے برخلاف تنہا آتا ہے۔ عرب قبل از اسلام بھی اس مہینے کی حرمت کے قائل تھے۔ قدیم عرب میں اسے "رجب الاصم" (بہرہ رجب) کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پورے مہینے میں عرب کے ریگزاروں میں نہ تو تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی تھی اور نہ ہی کسی غارت گری کا شور بلند ہوتا تھا۔ گویا یہ امن کا ایک ایسا عالمی معاہدہ تھا جس کی پابندی ہر قبیلہ اپنے اوپر فرض سمجھتا تھا۔

اس "بہرے پن" کی ایک نہایت لطیف اور ایمان افروز توجیہ امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمائی ہے۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ” ہر مہینہ اپنے ہر قسم وقائع (یعنی واقعات) کی گواہی دے گا سوائے رجب کے، کہ حسنات (اچھائیاں) بیان کرے گا اور سیئات (برائیوں) کے ذکر پر کہے گا: میں بہرا تھا، مجھے خبر نہیں۔ اس لیے اسے "شہرِ اصم" کہتے ہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، ج:٢٧، ص:٤٩٦، ط: رضا فاؤنڈیشن لاہور)

رجب مثل ہوا:___

امام ابوبکر الوراق البلخی رحمہ اللہ نے رجب، شعبان اور رمضان کے باہمی تعلق کو سمجھانے کے لیے ایک نہایت بلیغ استعارہ استعمال فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: "مَثَلُ شَهْرِ رَجَبٍ مَثَلُ الرِّيحِ، وَمَثَلُ شَعْبَانَ مَثَلُ الْغَيْمِ، وَمَثَلُ رَمَضَانَ مَثَلُ الْمَطَرِ" رجب کی مثال ہوا جیسی ہے، شعبان کی مثال بادل جیسی ہے، اور رمضان کی مثال بارش جیسی ہے۔ (لطائف المعارف، ص:٢٣٤، وظیفۃ شہر رجب)

غور کیجیے، جب بارش ہونی ہوتی ہے تو سب سے پہلے ٹھنڈی ہوا چلتی ہے جو گرد و غبار کو صاف کرتی ہے اور بادلوں کے لیے راستہ بناتی ہے۔ رجب کی حیثیت اس "ہوا" جیسی ہے جو غفلت کی گرد کو صاف کرنے کے لیے چلتی ہے۔ اگر رجب میں توبہ اور استغفار کی ہوا نہ چلے، تو دل کے آسمان پر شعبان کے بادل (رحمت کی امید) نہیں چھائیں گے، اور اگر بادل ہی نہ ہوں تو رمضان کی بارش سے بنجر دل کیسے سیراب ہوگا؟ رجب بیج بونے کا موسم_____

ہوا کے اس جھونکے سے جب فضا سازگار ہو جاتی ہے، تو بیج بونے کا مرحلہ آتا ہے۔ امام ابو بکر الوراق البلخی رحمہ اللہ کا ہی ایک اور نہایت خوبصورت قول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے، آپ فرماتے ہیں: "شهر رجب شهر الزرع، وشهر شعبان شهر سقي الزرع، وشهر رمضان شهر حصاد الزرع" رجب کا مہینہ بیج بونے کا ہے، شعبان اس کھیتی کو سیراب کرنے کا ہے اور رمضان اس کی فصل کاٹنے کا مہینہ ہے۔(حوالۂ سابق) یہ استعارہ ایک گہری نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہے۔ انسانی نفسیات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھیبڑی تبدیلی اچانک نہیں آتی۔ رجب وہ وقت ہے جب انسان اپنے ارادوں کی بنجر زمین میں "توبہ" اور "نیت" کا بیج بوتا ہے تاکہ مستقبل میں ثمر حاصل کر سکے۔

بندگی کی معراج اور رجب____

نیت کا یہی بیج جب دل کی گہرائیوں میں جڑ پکڑتا ہے، تو ایک مومن کے قلب میں وہ تڑپ پیدا ہوتی ہے جس کا اظہار ان الفاظ میں ہوتا ہے: ” اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ“ یہ طلبِ برکت دراصل وقت اور توانائی کو نتیجہ خیز بنانے کا ایک شعوری عہد ہے۔ یہاں برکت سے مراد یہ ہے کہ انسان کو ان لمحات میں وہ ہمت اور توفیق میسر آ جائے کہ وہ رمضان کے بڑے امتحان سے پہلے اپنی کمزوریوں کا احاطہ کر سکے۔ رجب کی ایک گہری نسبت سفرِ معراج سے بھی ہے، جہاں کائنات کے مادی قوانین بندگی کے سامنے ہیچ ہو گئے۔ قرآن کریم نے اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے "عَبْدِہٖ" (اپنے بندے) کا لفظ استعمال کر کے واضح کر دیا کہ کائنات کی بلندیاں بندگی (Submission) کے راستے سے ہی ممکن ہیں۔ اسی سفر میں امت کو نماز کا جو تحفہ ملا، وہ دراصل "معراجِ مومن" ہے، جو رجب کے اس خاموش ماحول میں انسان کو اپنے خالق سے مکالمے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔

قرآنِ حکیم میں حرمت والے مہینوں کے حوالے سے ایک سخت تاکید وارد ہوئی ہے: "فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ" (پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو)۔ مفسرین کے نزدیک ان مہینوں میں گناہ کی سنگینی اس لیے بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ امن اور تقدس کے ایام ہیں۔ یہاں "نفس پر ظلم" کا مفہوم نہایت وسیع ہے؛ غفلت میں وقت ضائع کرنا، حقوق العباد کی پامالی اور توبہ میں تاخیر، یہ سب دراصل اپنے روحانی وجود کے خلاف وہ زیادتی ہے جو انسان کو رمضان کی برکات سے محروم کر دیتی ہے۔ رجب میں لایعنی گفتگو اور سماجی شور سے کنارہ کشی اختیار کرنا 'الاصم' کے اس تصور کی اصل روح ہے؛ جہاں ایک طرف اللہ کی رحمت بندے کے گناہوں سے درگزر فرما رہی ہے (جیسا کہ اعلیٰ حضرت نے فرمایا)، تو دوسری طرف بندے کا بھی یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی زبان کو لایعنی شور سے پاک

کر لے۔ یہ مہینہ تقاضا کرتا ہے کہ زبان کو دوسروں کے عیب جوئی سے روک کر اپنی ذات کے اندھیروں کی طرف موڑا جائے۔ یہی وہ وقت ہے جب قرآن سے تعلق کی نوعیت بھی بدل جانی چاہیے۔ رمضان میں تلاوتِ کلامِ پاک کی کثرت کا ثمر تبھی ملتا ہے جب رجب میں قرآن کو بطورِ "شفا" پڑھ کر اپنے باطنی امراض (حسد، کینہ، بغض) کا علاج ڈھونڈا جائے۔ جو انسان رجب کی خاموشی میں اپنے رب سے صلح کر لیتا ہے، رمضان کی بہاریں اس کے دل کے آنگن میں دیر تک قیام کرتی ہیں۔

رجب کا پیغام استقامت اور اعتدال:__

دل کی اس زمین کو ہموار کرنے کے بعد، جو دوسرا اہم مرحلہ درپیش ہوتا ہے وہ "استقامت" اور "اعتدال" کا ہے۔ انسانی جبلت اکثر جوش اور جذبات کی رو میں بہہ کر آغاز تو نہایت پرزور کرتی ہے، لیکن تسلسل برقرار رکھنے میں ناکام رہ جاتی ہے۔ رجب کا مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عبادات میں ریاکاری اور بوجھ کے بجائے وہ پائیداری پیدا کی جائے جو روح کا حصہ بن جائے۔ جس طرح ہوا کا ایک جھونکا کثافتوں کو اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے، اسی طرح زندگی کے کسی ایک بھی پہلو میں لائی گئی مثبت تبدیلی اگر مستقل بنیادوں پر اختیار کر لی جائے، تو وہ رمضان کےبڑے اہداف کے حصول کو سہل بنا دیتی ہے۔ اس مرحلے پر انسان کو اپنے معمولات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا ہماری صبحیں وہی غفلت کا منظر پیش کر رہی ہیں جو رجب سے پہلے تھیں؟ کیا ہمارے معاملات میں وہی تلخی برقرار ہے جو غیر حرمت والے مہینوں میں تھی؟ اگر جواب اثبات میں ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے "حرمت" کے اس قلعے میں ابھی تک داخلہ ہی نہیں پایا۔

تزکیہ کا یہ عمل محض تسبیح کے دانوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اثر انسان کے اخلاقی رویوں پر ظاہر ہونا چاہیے۔ رجب المرجب میں حقوق العباد کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دینا دراصل اپنے اس روحانی سفر کو رکاوٹوں سے پاک کرنا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک زمین پتھروں اور خودرو جھاڑیوں سے صاف نہ ہو، اس میں بونے والے بیج کی نشوونما ممکن نہیں ہوتی۔ بالکل اسی طرح، جب تک سینہ کینہ، بغض اور حسد جیسی باطنی غلاظتوں سے پاک نہ ہو، اس میں محبتِ الہیہ کی شمع فروزاں نہیں ہو سکتی۔ رجب ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم ان رشتوں کو جوڑیں جو ٹوٹ چکے ہیں، ان لوگوں کو معاف کریں جنہوں نے ہماری دل آزاری کی ہے، اور ان سے معافی مانگیں جن کے ہم قرض دار ہیں۔ یہ اخلاقی صفائی دراصل وہ "ہوا" ہے جو غبار کو چھانٹ دیتی ہے اور دل کے آسمان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہاں شعبان کی رحمتوں کے بادل برسنے کے لیے تیار ہو سکیں۔

اس کے ساتھ ہی، رجب میں خیرات اور سخاوت کا پہلو بھی ایک نئی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں سخاوت سے مراد محض مال کا خرچ کرنا نہیں، بلکہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو اللہ کی مخلوق کے لیے وقف کرنا بھی ہے۔ جب ایک انسان رجب میں دوسروں کے کام آنے کو اپنا شعار بناتا ہے، تو وہ دراصل اپنی انا کے بت کو توڑ رہا ہوتا ہے۔ انا کا ٹوٹنا ہی بندگی کی وہ معراج ہے جس کا ذکر سفرِ معراج کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ یوں یہ مہینہ ہمیں ایک مکمل انسانی پیکر میں ڈھلنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے؛ جہاں ایک طرف وہ اپنے رب کے حضور "عَبْد" بن کر جھکتا ہے، تو دوسری طرف اللہ کی مخلوق کے لیے سراپا شفقت بن جاتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک مومن کو عام انسانوں سے ممتاز کرتا ہے اور اسے اس بلند مقام پر فائز کرتا ہے جہاں وہ رمضان کی تجلیات کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کے لائق ہو جاتا ہے۔

رجب میں قرآنی فکر اور خلوت:____

تجلیاتِ الہیہ کے اسی مشاہدے اور معرفت کا سب سے معتبر ذریعہ اللہ کا کلام ہے، جو انسانی فکر کی رہنمائی کرتا ہے۔ چنانچہ رجب میں قرآنِ کریم سے تعلق کی نوعیت محض تلاوت کے اسلوب تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اسے فکری ہم آہنگی کا ذریعہ بننا چاہیے۔ رمضان المبارک میں جہاں قرآن کی تلاوت ایک سماجی اور عباداتی جشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے، وہیں رجب کا تقاضا یہ ہے کہ اس کتاب کے ساتھ ایک انفرادی اور تحقیقی ربط قائم کیا جائے۔ اس مرحلے پر قرآن کا مطالعہ اس نیت سے ہونا چاہیے کہ وہ انسانی فکر کی اصلاح کر سکے اور ان باطنی الجھنوں کا حل پیش کرے جو عملی زندگی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ جب ایک انسان رجب کی علمی فضا میں قرآن کے مفاہیم اور اس کے سیاق و سباق پر غور کرنا شروع کرتا ہے، تو رمضان تک پہنچتے پہنچتے اس کا ذہن ان آیات کے فکری ڈھانچے سے مانوس ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ مانوسیت ہی وہ بنیاد ہے جس پر رمضان کی طویل تراویح اور تلاوت کے دوران فکری یکسوئی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

اسی فکری مشق کے ساتھ "خلوت" کا تصور جڑا ہوا ہے۔ عصری زندگی میں انسان مسلسلمعلومات کے ہجوم اور سماجی شور کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے اس کی اپنی ذات کے ساتھ شناسائی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ رجب المرجب وہ وقت ہے جہاں انسان کو شعوری طور پر "ارادی تنہائی" (Voluntary Solitude) کا انتخاب کرنا چاہیے۔ یہ تنہائی کسی رہبانیت کا نام نہیں، بلکہ روزمرہ کے لایعنی ہنگاموں سے ایک فکری وقفہ ہے تاکہ انسان اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کر سکے۔ رجب کی قدیم صفت "الاصم" (خاموش) کا ایک عملی اطلاق یہ بھی ہے کہ انسان اپنی سماعتوں کو بیرونی شور سے بچا کر اپنے اندرونی احتساب کی طرف متوجہ ہو۔ جو انسان اس مہینے میں اپنی گفتگو اور اپنے خیالات کو غیر ضروری بحثوں سے بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اس کے لیے رمضان کے علمی اور روحانی فیوض کو جذب کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یوں یہ مہینہ ایک ایسی نفسیاتی اور فکری تربیت فراہم کرتا ہے جہاں انسان اپنی شخصیت کے بکھرے ہوئے پہلوؤں کو یکجا کر کے ایک با مقصد زندگی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔

حاصلِ کلام:____

یوں یہ مہینہ ایک ایسی نفسیاتی اور فکری تربیت فراہم کرتا ہے جہاں انسان اپنی شخصیت کے بکھرے ہوئے پہلوؤں کو یکجا کر کے ایک با مقصد زندگی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ مضمون کے ان تمام مباحث کا نچوڑ یہ ہے کہ رجب المرجب محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک "روحانی انقلاب" کا پیش خیمہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب کائنات کا ذرہ ذرہ خاموشی سے ایک بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو حرمت عطا کر کے دراصل انسان کو اس کی اپنی حرمت یاد دلائی ہے۔

اس پوری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ رجب کی مثال اس ہوا جیسی ہے جو غفلت کے غبار کو صاف کرتی ہے تاکہ توبہ کا بیج بارآور ہو سکے۔ یہ بیج بونے کا موسم ہمیں خبردار کرتا ہے کہ جو آج نیت اور ارادے کی زمین ہموار نہیں کرے گا، وہ کل برکتوں کی فصل کاٹنے سے محروم رہے گا۔ اسی طرح رجب الاصم کی خاموشی ہمیں لایعنی شور سے نکال کر رب کی پکار پر لبیک کہنا سکھاتی ہے، جبکہ ترکِ ظلم کا قرآنی حکم ہمیں نفس کی اصلاح اور گناہوں سے دوری کی ترغیب دیتا ہے۔ یہی وہ معراجِ بندگی ہے جو انسان کو اس مقام پر فائز کرتی ہے جہاں نماز بوجھ نہیں بلکہ روح کی تسکین بن جاتی ہے۔

آج کے دور میں جب ہم رجب کو "الاصم" (بہرہ) کہتے ہیں، تو اس کا ایک نیا اطلاق سامنے آتا ہے۔ آج کی دنیا "شور" کی دنیا ہے۔ سوشل میڈیا کا شور، خواہشات کا شور، اور اپنی انا کو منوانے کا شور۔ قدیم عرب رجب میں تلواریں نیام میں ڈال دیتے تھے، لیکن آج ہمیں اپنے لفظوں کی تلواریں، اپنی تنقید کی کاٹ اور اپنے موبائل فونز کے غیر ضروری استعمال کو نیام میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔

رجب کا چاند جب غروب ہو رہا ہو، تو ہمارے دلوں میں یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ ہم نے اپنے رب سے صلح کر لی ہے۔ ہم نے اپنی زمین ہموار کر لی ہے، توبہ کے آنسوؤں سے اسے سیراب کر لیا ہے اور اب ہم اس لائق ہو چکے ہیں کہ شعبان کی برکتوں سے گزر کر رمضان کی رحمتوں کے سائے میں پناہ لے سکیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رجب کی ان ساعتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہماری نیتوں میں اخلاص پیدا کرے اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرمائے جو رمضان تک اس حال میں پہنچیں کہ ان کے دل پاک اور ان کی روحیں بیدار ہوں۔ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ۔ آمین! بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم 

 

 

محمد سبطین رضا مرتضوی

ایڈیٹر سہ ماہی صدائے مناظر اہلسنت اتردیناج پور 

sibtainraza160@gmail.com

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383