ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی فلم فیسٹول 2025 ایوارڈ سے سرفراز
پریس ریلیز
نیپال اردو ٹائمز
خصوصی نامہ نگار
ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی نے ممبئی میں 18 نومبر کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف لوکل سیلف گورنمنٹ کے کانفرنس ہال میں منعقد ہونے والے بھارت نیشنل ایوارڈ شو میں اپنی موجودگی سے نہ صرف تقریب کو روشن کیا بلکہ پورے ہال کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔
فلم فیر کے بینر تلے ہونے والے اس شو میں ملک کی چوٹی کی شخصیات شریک تھیں، جن میں ٹائمز آف انڈیا کے نامور صحافی، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز، سینسر بورڈ کے ارکان، معروف فلمی اداکار، پروڈیوسر اور کئی سرکردہ سماجی رہنما شامل تھے۔ تقریب میں جیسے ہی ڈاکٹر ساجد کا نام پکارا گیا، ہال تالیوں سے گونج اٹھا، اور یہ لمحہ ان کی علمی اور ادبی جدوجہد کا شاندار اعتراف بن کر سامنے آیا۔
ڈاکٹر ساجد کی کتاب “تھینک یو فار دا پین” نے اس سال ادبی دنیا میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کی اور یہی مقبولیت انہیں بھارتی نیشنل ایوارڈ کے اسٹیج تک لے آئی۔ تقریب کے بعد میڈیا نے انہیں گھیر لیا، اور اسی موقع پر ایک تیز اور چبھتے ہوئے سوال نے ماحول کو سنجیدگی سے بھر دیا۔
ایک صحافی نے پوچھا کہ آخر ہندوستان میں آج بھی مسلمانوں کا تعارف اجمل قصاب جیسے کرداروں سے کیوں کرایا جاتا ہے؟ اس سوال کے ساتھ پورا میڈیا ہال جیسے خاموش ہو گیا۔ ڈاکٹر ساجد نے مسکراتے ہوئے نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا کہ یہ رویہ ایک مخصوص ذہنیت کی پیداوار ہے جو گجرات کے واقعات کے بعد سے سیاسی فائدے اور ووٹ بینک کے لیے دانستہ طور پر پروان چڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تعارف کرانا ضروری ہے تو ٹیپو سلطان، عبدالحمید، اشفاق اللہ خان، علامہ فضل حق خیرآبادی اور مفتی عنایت احمد کاکوروی جیسے محسنوں کا تعارف بھی کرایا جا سکتا ہے، مگر ایسا نہیں کیا جاتا کیوں کہ کچھ حلقے نفرت کو سرمایہ بنا کر اپنی سیاست چلاتے ہیں۔
ان کا یہ جواب نہ صرف صحافیوں کے لیے حیران کن تھا بلکہ کئی رپورٹرز نے بعد میں نجی گفتگو میں اعتراف کیا کہ ڈاکٹر ساجد نے ایک ایسے مسئلے پر جرات مندانہ بات کی جس پر بولنے سے بڑے بڑے دانشور بھی ہچکچاتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران مختلف حساس موضوعات — مذہبی ہم آہنگی، نوجوان نسل کی سمت، میڈیا کا کردار اور معاشرتی زہریلی بیان بازی — پر بھی سوالات اٹھے۔ ڈاکٹر ساجد نے ہر سوال کا جواب مدلل، پُرسوز اور انتہائی شائستگی کے ساتھ دیا۔ ان کے لب و لہجے نے اس بات کو واضح کیا کہ وہ صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک سماجی مفکر بھی ہیں جو قلم کو صرف تحریر کا ذریعہ نہیں بلکہ بیداری کا چراغ سمجھتے ہیں۔
تقریب کے دوران کئی معروف فلمی چہروں اور پروڈیوسروں نے ڈاکٹر ساجد سے ملاقات کی اور ان کی کتاب کے مواد، اس کے اثرات، اور عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ کچھ پروڈیوسروں نے تو یہ تک کہا کہ “تھینک یو فار دا پین” میں فلمی اسکرپٹ بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر ساجد کی موجودگی ممبئی کی ادبی فضاؤں پر ایک دیرپا نقش چھوڑ گئی۔ اس ایوارڈ کے ساتھ وہ نہ صرف نیپال اور بھارت کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ جنوبی ایشیائی علمی روایت کو عالمی سطح پر نئی شناخت بھی دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ایوارڈ تقریب کے دوسرے دن ڈاکٹر ساجد کی خصوصی پریس کانفرنس منعقد ہوگی جس میں ملک کی درجنوں میڈیا ایجنسیوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ پریس کانفرنس کے بعد وہ ممبئی ہی سے لندن کے لیے روانہ ہوں گے، جہاں انہیں ورلڈ ریکارڈ بک کی جانب سے خصوصی عالمی اعزاز پیش کیا جائے گا۔ یہ یقینی ہے کہ “تھینک یو فار دا پین” اور ڈاکٹر ساجد احمد علیمی کا یہ سفر صرف آغاز ہے۔ ان کی موجودہ رفتار دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ برسوں میں ان کا قلم جنوبی ایشیا کی فکری دنیا میں بڑے بڑے سنگِ میل قائم کرنے والا ہے۔
