ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی کا چیچنیا کا تین روزہ تاریخی دورہ
غروزنی/محج قلعة —
خصوصی رپورٹ:
ابو الفاتح توصیف رضا علیمی
، فاؤنڈر انٹرنیشنل اسکالر اسوسییشن، اسطنبول، ترکیا
00919760169776
مفکرِ اسلام ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب نے 14 تا 17 نومبر 2025 تک چیچنیا اور داغستان کا تین روزہ علمی و سماجی دورہ کیا، جس میں کئی اہم مذہبی اداروں کے وزٹ، بین الاقوامی علمی نشستیں اور سرکاری و مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں شامل رہیں۔ ڈاکٹر صاحب اس سے قبل 2016 میں غروزنی میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس "مَن هم أهل السنّة؟" میں بھی شرکت کر چکے ہیں، جہاں ان کی ملاقات مفتیِ مصر شیخ علی جمعہ، شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب، اور عالمی داعی سید الحبیب علی الجفری جیسی ممتاز شخصیات سے ہوئی تھی۔ اس تاریخی شرکت کو برصغیر اور چیچنیا کے علمی روابط کے فروغ میں اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔
موجودہ دورہ 14 نومبر کو ڈاکٹر بغدادی صاحب کی چیچنیا آمد سے شروع ہوا، جہاں مطار محج قلعة پر
انہیں خصوصی VIP پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ استقبال کرنے والوں میں شیخ ڈاکٹر رضوان بن ابی بکر، محمد حمزہ الشیشانی اور داغستان کے محققین شامل تھے۔ اسی روز باہمی تعاون، دینی تعلیم کے فروغ اور تحقیقی روابط پر گفتگو ہوئی۔
15 نومبر کو غروزنی میں شیخ خواجہ احمد بن شروانی کی رہائش گاہ پر ایک علمی مجلس منعقد ہوئی، جس میں شیخ آدم شہیدوف، شیخ بیكخان الكرشلي، شیخ اویس الأزهري اور شیخ ڈاکٹر رضوان بن ابی بکر نے شرکت کی۔ اس مجلس میں عصری فکری چیلنجوں، کلاسیکی متون کی اہمیت، اور نوجوان نسل کی علمی تربیت کے موضوعات پر اہم گفتگو ہوئی۔
اگلے روز ڈاکٹر بغدادی نے المعهد الإسلامي باسم الحاج أحمد قاديروف، غروزنی کا دورہ کیا، جہاں طلبہ و اساتذہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ڈاکٹر بغدادی نے "عصرِ حاضر میں فتنوں کا مقابلہ اور فکری استقامت" کے عنوان سے خطاب کیا، جسے علمی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔ اس موقع پر انہیں ادارے کے نصابی پروگراموں اور تدریسی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
17 نومبر کو وفد نے محج قلعة میں مفتیِ اعظم داغستان شیخ احمد آفندی نقشبندی سے ملاقات کیکئی مسائل پر گفتگو ہوئی انہوں نے اپنی روایت کے مطابق مہمانوں کی ضیافت کی اور ذاتی طور پر دروازے تک رخصت کیا، جسے ان کی اعلیٰ اخلاقی شخصیت کی جھلک قرار دیا گیا۔ اس دورے کا مکمل انتظام و انصرام ڈاکٹر بغدادی صاحب کے ممتاز شاگرد شیخ ڈاکٹر رضوان بن ابی بکر نے انجام دیا، جنہوں نے گزشتہ سال اپنی پی ایچ ڈی ڈاکٹر بغدادی کی نگرانی میں مکمل کی تھی۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر حسین بن واخ، پروفیسر چیچنیااسٹیٹ یونیورسٹی غروزنی سمیت کئی علمی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، جنہوں نے چیچنیا میں علمی، سماجی اور مذہبی ترقی کے پہلوؤں پر مفصل گفتگو کی۔یہ تین روزہ دورہ چیچنیا اور داغستان کے ساتھ علمی، فکری اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنا، جبکہ مقامی مذہبی اداروں نے مستقبل میں مشترکہ علمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔
