حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ درس و تدریس کے میدان میں
از: محمد چاند رضا المصباحی الامجدی بہرائچ شریف
اللہ تعالی نے اس دنیائے فانی میں بے شمار انسانوں کو بھیجا اور اُنھیں حصول علم کے ساتھ احکامِ شریعت کی پابندی کا حکم دیا جن میں سے بعض نے علم دین حاصل کیا اور شرعی احکام پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کی تو ایک زبردست عالم،فاضل، محدث،مفکر اور فقیہ بن کر اعلی سے اعلی مراتب پر فائز ہوئے اور تقوی شعاری اختیار کر کے اللہ کے برگزیدہ بندوں کی صفوں میں شامل ہو گئے اور ولی اللہ کے لقب سے سرفراز ہوئے، انھیں میں سے ایک نام فقیہ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ و الرضوان کا ہے جنہوں نے علم و عمل کے ساتھ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔
آپ کا آبائی وطن ہندوستان کے صوبہ اتر پردیش کے مشہور ضلع بستی کی ایک مشہور آبادی اوجھاگنج ہے جہاں آپ کے والدین کریمین نے آپ کی تعلیم و تربیت فرمائی اور آپ کو علم و عمل سے آراستہ و پیراستہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔
تعلیم :
آپ نے سات سال کی عمر میں ناظرہ اور حفظ قرآن کی تعلیم اپنے والد کے شاگرد مولوی محمد زکریا صاحب سے حاصل کی اور ساڑھے دس سال کی عمر میں حافظ قرآن ہو گئے۔ پھر ابتدائی عربی اور فارسی کی چھوٹی بڑی ١٢/کتابیں مولانا عبد الباری صاحب سے پڑھیں اور ١٩٤٧ عیسوی کے ہنگامہ کے فوراً بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے ناگپور تشریف لے گئے۔ وہاں دن بھر کام کرتے جس سے اپنا اور گھر کا خرچ چلتا اور بعد مغرب اپنے ١٠/ دس ساتھیوں کے ہمراہ تقریباً ١٢/بجے رات تک حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ سے مدرسہ اسلامیہ شمس العلوم بکرا منڈی مومن پورہ میں درس نظامیہ کی تعلیم حاصل کرتے اور بعد فجر و عصر ايک قاری صاحب سے قرأت پڑھتے۔ بالآخر ٢٤/شعبان المعظم ١٣٧١ ہجری مطابق ١٩/مئی ١٩٥٢ عیسوی کو ١٨/سال کی عمر میں حضرت علامہ ارشد القادرى علیہ الرحمہ والرضوان سے سند فراغت حاصل کی۔ اس طرح سے آپ اوجھاگنج کی تاریخ میں سب سے پہلے قاری اور فارغ التحصیل عالم ہوئے۔ علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ آپ کی بحیثیت استاذ ہر ممکن رہنمائی فرماتے اور حصول علم کیترغیب دیتے، یہی وجہ ہے کہ آپ علامہ کی حد درجہ تعظیم و توقیر کرتے۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:"الحمدللہ میں ان لوگوں میں سے
نہیں ہوں کہ جب تک استاد کا محتاج رہے ان کی عزت کرے اور جب کسی قابل ہو جائے تو غداری و بے وفائی پر اتر آئے اور اذیت پہنچائے بلکہ آج بھی میں اپنے اساتذہ کی بہت عزت کرتا ہوں اور استاذی و شاگردی کے رشتہ کو احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرتا ہوں"۔
شاید انہیں خصلتوں کے پیش نظر علامہ ارشد القادرى علیہ الرحمہ ١٥/صفر المظفر ١٤٠١ ہجری مطابق ٢٦/دسمبر ١٩٨٠ عیسوی کے ایک مکتوب میں فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:"کئی سو علماء میں صرف تنہا آپ کی ذات ہے جس نے شاگردی اور استاذی کا رشتہ نبھایا ہے اور اب تک نباہ رہا ہے، ورنہ نئی نسل کی خود سری، سرکشی اور احسان فراموشی سے خدا کی پناہ"۔ (ماخوذ از خطبات محرم)
درس و تدریس کا مشغلہ بہت سی افادیت کا حامل ہوتا ہے اس میدان میں اچھے اچھے بغلیں جھانکتے نظر آتے ہیں کیوں کہ اس میدان میں صاحب صلاحیت،ذی استعداد افراد درکار ہوتے ہیں خطیب و مقرر تو بہت نظر آئیں گے مگر نباض و حاذق مدرس بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن فقیہ ملت قدس سرہ ایسی شخصیت کے مالک تھے جو دل پذیر خطیب و بے باک مناظر کے ساتھ ساتھ ایک ماہر مدرس اور شفیق استاد بھی تھے اور کیوں نہ ایک عظیم مدرس ہوتے جب آپ کو رئیس القلم علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ آپ نے اپنے استاد محترم سے خوب خوب سیرابی حاصل کی تھی۔ اور علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے بھی آپ کو تدریس کا ملکہ عطا فرما دیا تھا۔
تدریس :
فراغت کے بعد آپ نے جو مدرسہ دبولیا بازار میں قائم کیا تھا اسی میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے اور جب وہاں ترقی کی راہیں مسدود نظر آئیں تو ذی القعدۃ ١٣٧٣ ہجری مطابق ١٩٥٤ عیسوی میں مستعفیٰ ہو کر حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی طلب پر جمشیدپور(بہار)چلے گئے لیکن جامعہ فیض العلوم میں بر وقت کسی مدرس کی ضرورت نہ تھی،اس لیے آپ کو ایک مکتب میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا گیا مگر دل برداشتہ ہو کر تقریباً پانچ ماہ بعد حضرت علامہ علیہ الرحمہ کی اجازت سے گھر
واپس چلے آئے۔پھر جمادی الاولی ١٣٧٤ ہجری مطابق جنوری ١٩٥٥ عیسوی میں شعیب الاولیاء حضرت شاہ محمد یار علی صاحب قبلہ اور شیر بیشۂ اہل سنت حضرت مولانا حشمت علی خان صاحب علیہما الرحمہ و الرضوان کی اجازت سے مدرسہ قادریہ رضویہ بھاؤ پور ضلع بستی کے مدرس مقرر ہوئے مگر ڈیڑھ سال بعد وہاں کے اختلافات کی وجہ سے استعفی دے دئے،اسی دوران حضور شعیب الاولیاء نے مکتب فیض الرسول کو دارالعلوم بنا دیا تو آپ حضرت کی طلب پر براؤں شریف چلے گئے اور یکم ذی الحجہ ١٣٧٥ ہجری مطابق ١٠/جولائی ١٩٥٦ عیسوی سے دار العلوم فیض الرسول کے مدرس رہے۔
طریقۂ تدریس :
آپ کا طریقۂ تدریس یہ تھا کہ مکتب کے قاعدہ پڑھنے والے چھوٹے بچوں کو "ذ،ز،ظ" کو"ج" کی آواز سے ہرگز نہیں پڑھنے دیتے اور اردو کے اعتبار سے جب تک حرفوں کی ادائیگی صحیح نہ ہو جاتی آگے نہیں بڑھنے دیتے اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ حرفوں کو صحیح آواز سے پڑھنے کے لیے کبھی ٹوکنا نہیں پڑتا، یہی وجہ ہے کہ آپ مکتب کے مدرسین کو تنبیہ فرماتے اور اگر کوئی عذر پیش کرتا کہ بچے اس پر قادر نہیں تو آپ فرماتے کہ آپ لوگوں کا یہ عذر وہی لوگ صحیح مان سکتے ہیں جنہوں نے کبھی مکتب نہیں پڑھایا ہے، ہم نہیں تسلیم کر سکتے۔ مکتب کے چھوٹے بچوں کو آپ رٹا کر پڑھانے سے گریز کرتے اور روز مرہ کے مسائل زبانی بتا دیا کرتے تھے جس کا فائدہ یہ ہوتا کہ بچے شروع ہی سے حروف پہچاننے اور اسلامی طور طریقے کے عادی ہو جاتے۔
اور دارالعلوم کے طلبہ کو پڑھانے کا انداز یہ تھا یہ تسہیل المصادر، نحو میر اور میزان بلکہ صرف میں پنج گنج،علم الصیغہ اور فصول اکبری تک کے لڑکوں کا پچھلا سبق سننے کے بعد ہی آگے پڑھاتے اور جو یاد نہیں کرتا اسے مناسب سزا بھی دیتے؛اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ دوسرے دن وہ سبق یاد کر کے لاتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ چھوٹی کتابیں پڑھنے والے طلبہ کو بھی چالیس پچاس منٹ کی پوری گھنٹی پڑھاتے اور متوسط و منتہی کتابیں پڑھنے والوں کے لیے یہ طریقہ اختیار فرماتے کہ ہر طالب علم سے کم زیادہ تعداد کے اعتبار سے ایک ایک دو دو سطر عبارت روزانہ پڑھاتے اور اول و آخر یا درمیان میں جہاں سے چاہتے پڑھاتے، اس صورت میں ہر لڑکے کو عبارت پڑھنے کے لیے روزانہ محنت کرنی پڑتی اس لئے یہ طریقہ بے انتہا مفید ثابت ہوا اور جو بچے عبارت خوانی پر قادر نہ ہوتے وہ بھی محنت کر کے عبارت خوانی میں عبور حاصل کر لیتے۔
حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ جب ضعیف ہو گئے تو کچھ دماغی کمزوری کی وجہ سے آپ نے فیض الرسول میں دینی خدمات کی انجام دہی سے مستعفیٰ ہو کر اپنے آبائی وطن اوجھا گنج تشریف لے آئے چوں کہ آپ آرام پسند نہ تھے اس لئے آپ نے اپنے آخری عمر میں دارالعلوم امجدیہ اہل سنت ارشد العلوم بنام مرکز تربیت افتا قائم کیا جہاں فارغ التحصیل علماء و فضلاء آکر آپ کی بارگاہ میں تدریب افتا کی مشق کرتے جو آج کہنہ مشق مفتی بن کر زبردست علمی و دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اور ایسا کیوں نہ ہو جب آپ نے خود کو خدمت خلق کا عظیم فریضہ انجام دے کر چمن اسلام کی آبیاری کرنے کے لیے ہر جہات سے تیار کر رکھا تھا۔اس طرح سے آپ نے سب سے پہلے مفتی ساز ادارہ قائم کرنے کا سہرا اپنے سر باندھا جہاں سے مفتیان کرام فارغ ہو کر ہند و بیرون ہند میں آن لائن و آف لائن خط و کتابت اور فقہ و فتاویٰ کے ذریعے زبردست دینی و ملی خدمات انجام دے رہے ہیں۔شاید انہیں مقاصد کے پیش نظر اپنے لگائے ہوئے چمن کو عروج ارتقا کی منزلوں پر گامزن کرنے کے لیے حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ تا دمِ حیات اپنے ہی قائم کردہ ادارہ مرکز تربیت افتا اوجھاگنج ضلع بستی یوپی پی میں دینی خدمات انجام دیتے رہے؛ کیوں کہ:
دیوانے کی نظروں کو جہاں دیکھ رہا ہے
دیوانہ خدا جانے کہاں دیکھ رہا ہے
مگر افسوس کہ ٣/جمادی الآخرہ ١٤٢٣ ہجری مطابق ٢٣/ اگست ٢٠٠١ عیسوی بوقت شب جمعہ ١٢/بج کر ٥٥/منٹ پر علم و حکمت کا یہ درخشندہ ستارہ ڈوب گیا "انا للہ وانا الیہ راجعون"۔
آپ کا مزار پاک آپ کے قائم کردہ مفتی ساز ادارہ مرکز تربت افتا اوجھاگنج کے احاطہ میں واقع ہے جو آج اہل السنّۃ والجماعۃ کے مابین مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالی آپ کے مزار پاک پر رحمت و انوار کی برسات نازل فرمائے، آپ کی ان مساعئ جمیلہ و عظیم دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،آپ کے لگائے ہوئے چمن مرکز تربیت افتا اوجھاگنج ضلع بستی کو مزید عروج و ارتقا کی منزلوں پر گامزن فرمائے اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چل کر اپنی زندگی گزارنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری
خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تجھ پر
از: محمد چاند رضا المصباحی الامجدی بہرائچ شریف
متعلم : مرکز تربیت افتا اوجھاگنج ضلع بستی یوپی
١٧/جمادى الاولى ١٤٤٧ه
مطابق ٩/نومبر ٢٠٢٥ء
