ملک نیپال کے حالیہ صورت حال پر ایک تجزیہ...
تجزیہ نگار:بلال برکاتی
نیپال، جو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور ہمالیہ کے دامن میں بسا ایک خوبصورت ملک ہے، اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کن موڑ سے گزر رہا ہے۔ سال 2025 نیپال کے لیے سیاسی ہلچل، عوامی بیداری اور معاشی چیلنجز کا سال ثابت ہو رہا ہے۔
نیپال میں حالیہ مہینوں میں آنے والی سیاسی تبدیلی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ستمبر 2025 میں ملک نیپال میں ایک عظیم عوامی تحریک اٹھی، جسے "Gen Z Revolution" (نئی نسل کا انقلاب) کہا جا رہا ہے۔ طویل عوامی احتجاج اور ہنگاموں کے بعد وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا ہے۔ اس احتجاج کی خاص وجہ یہ رہی کہ حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا (جیسے ٹک ٹاک ، فیسبک یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا ایپس) پر پابندی اور بڑھتی ہوئی کرپشن بنی۔ نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر سیاسی بھرسٹچار نیتاؤں کے خلاف آواز بلند کیا۔ اور حکومت گرادیا، فی الوقت ملک نیپال میں ایک عبوری حکومت قائم ہے اور سابق چیف جسٹس محترمہ سشیلا کارکی کو ملک کی پہلی خاتون سربراہِ
حکومت (Interim PM) کے طور پر ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ ملک کو نئے انتخابات کی طرف لے جایا جا سکے۔نیپال کی معیشت اس وقت ملے جلے رجحانات کا شکار ہے۔ ایک طرف سیاحت میں بہتری آئی ہے، تو دوسری طرف سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ کاروں اور تجار کو پریشان کر رکھا ہے۔
(International Bank) عالمی بینک کے مطابق، 2025 میں نیپال کی معاشی ترقی کی شرح تقریباً 4.6 فیصد رہی، لیکن حالیہ سیاسی بد امنی اور آئے دن احتجاجات کی وجہ سے 2026 میں اس کے کم ہو کر 2.1 فیصد تک گرنے کا خدشہ ہے۔کووڈ-19 (Corona Virus) کے بعد نیپال کی سیاحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ اور نیپال کے تاریخی مقامات اب بھی دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ نیپال کی معیشت کا ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک کام کرنے والے نیپالی شہریوں کی رقوم پر منحصر ہے، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دے رہا ہے۔ اس وقت ملک نیپال میں تقریبا 28.6٪ GDP بیرون ملک رہنے والے نیپالی مزدوروں کی وجہ سے آتا ہے جس سے ملک کو چلانے میں کافی مدد ملتی ہے ،نیپال نہ صرف سیاسی بلکہ قدرتی طور پر بھی حساس خطے میں واقع ہے۔ ہمالیہ کے گلیشیئرز کا پگھلنا نیپال کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ حالیہ برسوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ (زمین کھسکنے) کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس سے زراعت (کھیتی باڑی) اور بنیادی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ جس کے سدھار کے لئے کافی بجٹ درکار ہے اور اس وقت ملک نیپال اس پوزیشن میں نہیں ہیکہ اتنی جلد معاملات کو درست کر سکے ، نیپال کی نئی نسل اب تعلیم یافتہ ہے اور وہ روایتی سیاست کے بجائے شفافیت اور ڈیجیٹل آزادی چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 کا احتجاج کسی سیاسی جماعت کے بجائے عام نوجوانوں کی قیادت میں ہوا،نیپال ہمیشہ سے دو بڑے پڑوسیوں،چین اور بھارت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بھارت کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی تعلقات (بیٹی روٹی کا رشتہ) گہرے ہیں، جبکہ چین بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کی تعمیر میں نیپال کی مدد کر رہا ہے۔ موجودہ حالات میں نیپال کی نئی قیادت کی کوشش ہے کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے دونوں سے فائدہ اٹھائے۔ نیپال اس وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اگرچہ سڑکوں پر ہونے والے تشدد اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کو عارضی طور پر کمزور کیا ہے، لیکن نوجوانوں کی اس بیداری نے یہ امید بھی پیدا کی ہے کہ مستقبل میں نیپال میں ایک زیادہ شفاف اور عوامی امنگوں کے مطابق نظامِ حکومت قائم ہوگا۔ جس سے نیپالی عوام کو فایدہ حاصل ہوگا ، ملک نیپال کے تنزلی کا ایک سبب یہ بھی ہیکہ یہاں دھرم مذہب کے نام پر آئے روز احتجاج ہوتا رہتا ہے روڈز بلاک کردیے جاتے ہیں ، توڑ پھوڑ کیا جاتا ہے جس سے ملک استحکام کے بجائے غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے اور جہاں انسانوں کی جان و مال محفوظ نہ ہو وہاں سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنے سے بہت زیادہ گھبراتے ہیں اور پھر اس وجہ سے ملک کا کافی نقصان ہوتا ہے ، موجودہ حکومت کو اس جانب خاص توجہ دینی ہوگی تاکہ ملک میں امن بھائی چارہ قائم ہوسکے اور لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ، اس کے لئے قانون کی بالا دستی اور سخت قوانین کا نفاذ نہایت ضروری ہے ، جہاں قانون کا راج ہوتا ہے وہاں امن چین اور بھائی چارہ عروج پر ہوتا ہے جس سے ملک اور ملک کے باسیوں کے لئے ایک بہترین پہول تصور کیا جاتا ہے ،
