معروف قلمکار ڈاکٹر محمد ساجد علیمی لندن میں بوک آف ورلڈ ایوارڈ سے سرفراز
ملک کے گوشے گوشے سے لوگوں نے مبارکباد پیش کی
پریس ریلیز
شیلٹن، لندن
نیپال اردو ٹائمز
– آج صبح 9 بجے لندن ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علمی، تحقیقی، سماجی اور ادبی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو عالمی سطح پر اعزازات پیش کیے گئے۔ اسی سلسلے میں نیپال کے معروف محقق، مصنف، معلم اور سماجی علوم کے محقق ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی کو بھی خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ اُن کی کتاب "تھینک یو فار دا پین" کے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے اعتراف میں پیش کیا گیا۔ تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے محققین، پروفیسرز، مصنفین، اسکالرز، سماجی نمائندگان اور میڈیا کے اراکین نے شرکت کی۔
تقریب کا مقصد ایسے علمی و تحقیقی کاموں کی قدردانی کرنا تھا جو عالمی معیار پر پورا اترتے ہوں اور جن کے ذریعے بین الاقوامی علمی دنیا میں نئے زاویے، نئے بیانیے اور نئی تحقیق کو فروغ ملتا ہو۔ لندن ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی کی کتاب "تھینک یو فار دا پین" نے ایک منفرد اور مستند عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ نہ صرف اس کتاب کی اشاعت، مواد اور اُس کی تحقیقی نوعیت کو سراہا گیا بلکہ اس کی عالمی سطح پر قبولیت، تعلیمی حلقوں میں اس کی گردش، اور قاری تک اثر انگیزی کو بھی ریکارڈ سازی کے عوامل میں شامل کیا گیا۔ کتاب کی اسٹڈی کے مطابق یہ تحریر مذہبی، ثقافتی اور انسانی تجربات کے تناظر میں لکھی گئی ہے جس میں درد، جدوجہد اور انسانی شخصیت کی تکمیل جیسے موضوعات کو تحقیقی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ لندن کی کمیٹی نے رپورٹ میں ذکر کیا ہے کہ یہ کتاب عالمی قارئین کے لیے ایک اہم اضافہ ہے۔ ایوارڈ تقریب میں کتاب کے علاوہ ڈاکٹر علیمی کی بطور تعلیمی منتظم خدمات کا بھی باضابطہ اعتراف کیا گیا۔ آئی اے آر مشن انگلش بورڈنگ اسکول میں بطور پرنسپل اُن کے چار سالہ دورِ انتظام کو اعلیٰ معیار کا حامل قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ: * ادارے میں تعلیمی نظم و نسق بہتر ہوا * تدریسی معیار میں اضافہ ہوا * طلباء کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی * جدید تعلیمی طریقہ کار شامل کیے گئے * تعلیمی نظم و ضبط کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا گیا یہ تمام پہلو اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیے گئے کہ ڈاکٹر علیمی نے صرف ادبی یا تحقیقی نہیں بلکہ انتظامی سطح پر بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی کا نام جنوب ایشیا کے اُن مصنفین میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مختلف زبانوں اور مختلف موضوعات پر مسلسل تحقیقی اور ادبی خدمات انجام دیں۔ ماضی میں وہ کئی معروف اخبارات میں مستقل کالم نگاری کرتے رہے، جن میں شامل ہیں:
1. پاکستان کا معروف روزنامہ 92 نیوز
2. کشمیر کا اخبار لازوال
3. شان سدھارتھ (اترپردیش)
4. روزنامہ انقلاب
5. سہارا انڈیا
6 نیپال اردو ٹائمز اخبار
مختلف انگلش اخبارات جن میں اُن کے حالاتِ حاضرہ پر مبنی تجزیاتی مضامین شائع ہوتے رہے۔ ان تحریروں میں معاشرتی مسائل، بین الاقوامی سیاست، جنوبی ایشیائی ثقافت، مذہبی تصور، اخلاقی مباحث اور سماجی تبدیلی جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے تجزیاتی نوٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر علیمی نے اپنے کالمز میں ہمیشہ غیر جانب دارانہ اور تحقیقی طرز اختیار کیا اور ہر موضوع کو دستاویزی شواہد، حوالہ جات اور معروضی انداز میں پیش کیا۔ ڈاکٹر علیمی کی ایک نمایاں خصوصیت اُن کی مسلسل تحقیقی اور تصنیفی سرگرمیاں ہیں۔ مذہبی، سماجی، تہذیبی، تعلیمی اور فکری موضوعات پر اب تک اُن کے نوک قلم سے تقریباً 88 کتابیں وجود پا چکی ہیں۔
ان کتابوں میں: *
معاشرتی مسائل *
مذہبی و فلسفیانہ تجزیے
* شخصیت سازی
* نوجوانوں کے مسائل
* عالمی تبدیلیاں *
جنوبی ایشیا کی سیاسی حرکیات *
سماجی اصلاحات
جیسے موضوعات شامل رہے۔ "تھینک یو فار دا پین" ان کی انہی علمی کاوشوں کا وہ اہم مرحلہ ثابت ہوئی جس نے عالمی سطح پر ریکارڈ قائم کیا۔ تقریب میں خطاب کے دوران ڈاکٹر علیمی نے اپنی آئندہ آنے والی کتاب کے متعلق بھی تفصیلات بیان کیں۔ یہ کتاب: انگلش زبان میں ہوگی * نیپال کے سیاسی، سماجی اور نئی نسل سے متعلق فکری موضوعات پر مبنی ہوگی * نئی نسل یعنی Gen Z کے ذہنی رجحانات، سماجی تحریکوں، سیاسی بیداری اور تیزی سے بدلتی ہوئی نیپالی معاشرت کا تجزیہ پیش کرے گی * بین الاقوامی تعلقات، ڈیجیٹل انقلاب، اور مشرقی معاشروں میں ہونے والی سیاسی حرکیات کو جدید تحقیق کی روشنی میں بیان کرے گی کتاب کے ابتدائی خاکے کو علمی حلقوں میں پہلے ہی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علیمی نے اپنے تعلیمی سفر میں رہنمائی کرنے والے تمام اساتذہ اور اداروں کے نام باقاعدہ طور پر پیش کیے۔ انہوں نے درج ذیل اداروں کی خدمات کا اعتراف کیا: جامعہ نعیمیہ، کرشنا نگر جامعہ مٹہنا جامعہ علیمیہ، جمدا شاہی جامعہ نظام الدین اولیا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اُنہوں نے کہا کہ انہی اداروں کی علمی فضا اور اساتذہ کی علمی سرپرستی نے اُن کی تحقیق، سوچ اور تحریری صلاحیتوں کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تقریب میں خصوصی طور پر انہوں نے کہا کہ ان کی تمام علمی کامیابیاں، تحریری خدمات، تدریسی ذمہ داریاں اور اعزازت اُن کے والد گرامی کی شفقت، تربیت اور رہنمائی کا نتیجہ ہیں۔ اگرچہ انہوں نے یہ بات سادگی سے بیان کی، تاہم اسے تقریب میں موجود مختلف مہمانوں نے ایک اہم اعتراف کے طور پر نوٹ کیا۔
تقریب کے اختتام کے بعد جاری کردہ شیڈول کے مطابق: * ڈاکٹر علیمی آج ہی لندن سے واپسی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں * وہ دو شنبہ کو کسی بھی وقت کرشنا نگرپہنچیں گے * آمد کے فوراً بعد وہ مقامی صحافیوں سے ایک تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے * اس پریس کانفرنس میں وہ لندن ورلڈ ریکارڈ ایوارڈ کی تفصیلات نئی کتاب کے موضوعات مستقبل کے منصوبوں اور آئندہ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کے حوالے سے میڈیا کو بریف کریں گے۔ لندن ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی کا کام جنوبی ایشیا کے علمی منظرنامے میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔
ان کی تحقیقی کتابوں، علمی مضامین اور تعلیمی خدمات نے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی علمی حلقوں میں اثرات مرتب کیے ہیں۔
