May 10, 2026 05:26 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
*عصری تقاضے اور مدارس کی تعلیم*

*عصری تقاضے اور مدارس کی تعلیم*

07 May 2026
1 min read

*عصری تقاضے اور مدارس کی تعلیم*

ابوالخالد

محمد اظہرالدین علیمی*

دارالعلوم حسینیہ نظامیہ رضا نگر بھٹنڈی جموں 

آج کے دور میں مدارس کی تعلیم کے بارے میں یہ سوال بہت اہم ہو گیا ہے کہ کیا پرانا طرزِ تعلیم ہی کافی ہے یا وقت کے تقاضوں کے مطابق اس میں تبدیلی ضروری ہے۔ یہ ایک حساس اور سنجیدہ موضوع ہے، جس پر جذبات کے بجائے حکمت، توازن اور دور اندیشی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مدارس کی بنیاد اور اصل مقصد کیا ہے۔ مدارس کا بنیادی کام دینِ اسلام کی تعلیم دینا، قرآن و حدیث، فقہ، عقائد اور اسلامی تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔ صدیوں سے یہی نظام امت کے لیے علماء، مفتیانِ کرام اور مصلحین تیار کرتا رہا ہے۔ پرانے طرزِ تعلیم، جسے عموماً درسِ نظامی کہا جاتا ہے، نے بے شمار عظیم شخصیات پیدا کیں جنہوں نے دین کی خدمت کی۔ اس اعتبار سے یہ نظام اپنی اصل میں نہایت مضبوط، مفید اور بابرکت ہے، اور اسے یکسر چھوڑ دینا یا اس کی اہمیت کم کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔

لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ آج کی دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات، اور عالمی رابطوں کی دنیا ہے۔ لوگوں کے سوالات بدل گئے ہیں، معاشرتی مسائل کی نوعیت بدل گئی ہے، اور دین کے خلاف اٹھنے والے شبہات بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔ ایسے میں اگر ایک عالمِ دین صرف قدیم علوم تک محدود رہے اور جدید تقاضوں سے بالکل ناواقف ہو، تو وہ معاشرے کی مکمل رہنمائی 

کرنے میں مشکل محسوس کر سکتا ہے۔

یہاں اصل بات توازن کی ہے، نہ کہ ٹکراؤ کی۔ پرانا نظام غلط نہیں ہے، بلکہ اس میں جان ہے؛ لیکن اس کے ساتھ کچھ ضروری اضافے کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ اگر مدارس میں بنیادی دینی علوم کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر، اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مضامین شامل کر دیے جائیں، تو اس سے طلبہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، نہ کہ کمی۔

انگریزی زبان سیکھنے سے طلبہ دنیا بھر کے علمی مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور اسلام کا پیغام عالمی سطح پر بہتر انداز میں پہنچا سکتے ہیں۔ ریاضی اور سائنس سے ذہنی تربیت ہوتی ہے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے۔ کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کی تعلیم سے دعوت و تبلیغ کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ اس طرح ایک عالم دین نہ صرف مسجد اور مدرسہ تک محدود رہتا ہے بلکہ سوسائٹی کے ہر طبقے تک مؤثر انداز میں پہنچ سکتا ہے۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تبدیلی کا مطلب بنیادوں کو ختم کرنا نہیں ہوتا۔ اگر 

تبدیلی اس انداز میں کی جائے کہ قرآن،  حدیث، فقہ اور عربی علوم کی اہمیت کم ہو جائے، تو یہ نقصان دہ ہوگا۔ لیکن اگر جدید مضامین کو اس طرح شامل کیا جائے کہ وہ دینی تعلیم کے معاون بنیں، تو یہ ایک بہترین اور متوازن نظام بن سکتا ہے۔

بعض لوگ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ جدید تعلیم شامل کرنے سے طلبہ دنیا داری کی طرف مائل ہو جائیں گے اور دین سے دور ہو جائیں گے۔ یہ خدشہ اپنی جگہ، لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ہم جدید علوم سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لیں، بلکہ اصل حل یہ ہے کہ تربیت کو مضبوط بنایا جائے۔ اگر عقیدہ مضبوط ہو، نیت درست ہو اور اساتذہ کی نگرانی ہو، تو جدید علوم نقصان کے بجائے فائدہ ہی دیں گے۔

آج امت کو ایسے علماء کی ضرورت ہے جو ایک طرف قرآن و سنت کے گہرے عالم ہوں اور دوسری طرف جدید دنیا کے مسائل کو بھی سمجھتے ہوں۔ جو نوجوانوں کے سوالات کا جواب ان کی زبان میں دے سکیں، جو سوشل میڈیا، یونیورسٹیوں اور عالمی فورمز پر اسلام کا مؤثر دفاع کر سکیں۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب مدارس اپنے نظام میں حکمت کے ساتھ مناسب وسعت پیدا کریں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پرانا طرزِ تعلیم اپنی جگہ بالکل درست اور قیمتی ہے، لیکن زمانے کے اعتبار سے اس میں کچھ مفید اور ضروری تبدیلیاں کرنا بھی ناگزیر ہے۔ بہترین راستہ یہی ہے کہ دینی بنیاد کو مضبوط رکھتے ہوئے جدید علوم کو معاون حیثیت سے شامل کیا جائے، تاکہ ایسے علماء تیار ہوں جو دین اور دنیا دونوں میں امت کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)