استحصال کے سائے میں دبتی ہوئی معلم کی صدا
راقم الحروف:
انیس الرحمٰن حنفی رضوی،
بہرائچ شریف
پرنسپل، جامعہ رضویہ زینت العلوم
سرس کھیڑا، ضلع مرادآباد (یوپی)
یہ کوئی افسانہ نہیں، نہ کسی بدگمانی کا نتیجہ ہے، بلکہ ایک ایسا تلخ سچ ہے جو مدارس کے مقدس نام کے پیچھے چھپ کر پروان چڑھ رہا ہے، اور افسوس یہ ہے کہ اسے دیکھنے والی آنکھیں بھی اکثر مصلحت کی دبیز تہوں میں دفن ہو جاتی ہیں؛ مدارس، جنہیں علم، تقویٰ اور اخلاق کی آماجگاہ ہونا چاہیے تھا، جہاں انصاف سانس لیتا اور اخلاص پھلتا پھولتا، وہی بعض جگہوں پر ایک ایسے نظام میں بدل چکے ہیں جہاں معلم، جو اس عمارت کی بنیاد ہے، سب سے زیادہ محروم، سب سے زیادہ مجبور اور سب سے زیادہ مظلوم نظر آتا ہے، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذات کو مٹا دے، اپنی خواہشات کو دفن کر دے، اپنی صحت، اپنا وقت، اپنی توانائیاں سب کچھ ادارے کے نام کر دے، اس کے لیے دن رات ایک کر دے، طلبہ کی تربیت میں اپنی زندگیاں جھونک دے، مگر جیسے ہی اس کے حق کی بات آتی ہے، جیسے ہی اس کی تنخواہ، اس کی بنیادی ضروریات، اس کی عزت نفس کا سوال اٹھتا ہے، وہی ذمہ داران جو اس سے قربانیوں کے تقاضے کرتے نہیں تھکتے، اچانک بے بس، لاچار اور خاموش نظر آنے لگتے ہیں، گویا کہ اس معلم کا کوئی حق ہی نہیں، گویا کہ اس کی محنت کسی کھاتے میں درج ہی نہیں،مہینوں کی مسلسل محنت کے باوجودتنخواہ روک لینا، تاخیر کا شکار بنانا، یا معمولی سے معمولی بہانے سے کٹوتی کر دینا ایک ایسا
معمول بن چکا ہے جس پر کسی کو شرم بھی نہیں آتی، بلکہ بعض اوقات اسے احسان جتانے کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جیسے کہ یہ اس کا حق نہیں بلکہ کوئی خیرات ہو، اور اگر وہ اس پر سوال اٹھا دے تو اس کی نیت، اس کے اخلاص اور اس کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا جاتا ہے، یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو منبروں پر کھڑے ہو کر حقوق العباد کے وعظ دیتے ہیں مگر عملی زندگی میں انہی حقوق کو پامال کرنے میں کوئی تردد محسوس نہیں کرتے، اور یہ تضاد صرف ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ ایک گہری منافقت کی علامت ہے،
اسی کے ساتھ ساتھ وعدوں کا ایک ایسا جال بچھایا جاتا ہے جس میں ایک معلم کو اس طرح الجھا دیا جاتا ہے کہ وہ حقیقت اور فریب میں تمیز ہی کھو بیٹھتا ہے، اسے بار بار یقین دلایا جاتا ہے کہ حالات جلد بدلیں گے، اس کی تنخواہ میں اضافہ ہوگا، اس کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا، مگر یہ سب الفاظ محض ایک سراب ثابت ہوتے ہیں، سال در
سال گزر جاتے ہیں مگر نہ حالات بدلتے ہیں نہ وعدے وفا ہوتے ہیں، صرف ایک چیز برقرار رہتی ہے اور وہ ہے استحصال، اور اس استحصال کو مزید گہرا کرنے کے لیے اس معلم پر ایسی کڑی نگرانی رکھی جاتی ہے
جیسے وہ کوئی خائن ہو، اس کے ہر قدم، ہر لفظ، ہر عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اس کی چھوٹی سی لغزش کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ اس کی برسوں کی خدمات مٹی میں مل جاتی ہیں، گویا کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک مشین ہو جس سے غلطی کا کوئی حق نہیں، اور اگر اس سے کوئی کمی رہ جائے تو اسے اس طرح اچھالا جاتا ہے جیسے کوئی بڑا جرم سرزد ہو گیا ہو، جبکہ اس کی خوبیوں، اس کی محنت، اس کی لگن کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، یہ رویہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ایک ایسے بیمار ذہن کی عکاسی ہے جو تعمیر کے بجائے تخریب میں یقین رکھتا ہے، اور اس سب کے درمیان سب سے زیادہ مجروح ہوتی ہے اس معلم کی عزت نفس، اسے بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ محض ایک تابع ہے، ایک ایسا فرد جس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں، اس کی رائے
بے معنی، اس کی ضرورت غیر اہم، اور اس کی موجودگی محض ایک مجبوری ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہی معلم اس ادارے کی روح ہے، وہی اس کا معمار ہے، وہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی سے یہ ادارہ روشن ہے، مگر جب اسی چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جائے، اس کی روشنی کو کمزور کیا جائے، تو پھر اندھیرا ہی مقدر بن جاتا ہے، اور یہی وہ
اندھیرا ہے جو آج بعض مدارس کے ماحول
میں صاف محسوس کیا جا سکتا ہے،
یہ تحریر کسی فرد واحد کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے رویے کے خلاف ہے جو خاموشی کے ساتھ ایک پورے نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے، اور اگر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو وہ دن دور نہیں جب مدارس کا وقار محض ایک قصہ بن کر رہ جائے گا، اس لیے یہ ایک کھلا پیغام ہے ہر اس ذمہ دار کے لیے جو اپنے آپ کو دینی خدمت کا علمبردار سمجھتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے ادارے کے اندر انصاف قائم کرے، کیونکہ جس جگہ معلم مظلوم ہو، وہاں علم کا چراغ نہیں جلتا بلکہ صرف اندھیرے جنم لیتے ہیں، اور یہ ایک وارننگ بھی ہے ہر نئے آنے والے مدرس کے لیے کہ وہ آنکھیں کھول کر اس میدان میں قدم رکھے، خالی نعروں اور وعدوں پر یقین کر کے اپنی عزت اور اپنے حقوق کو داؤ پر نہ لگائے، کیونکہ یہ دنیا دعووں سے نہیں بلکہ حقائق سے چلتی ہے، اور جو ان حقائق کو نظر انداز کرتا ہے وہ بالآخر اسی چکی میں پس جاتا ہے جس میں بے شمار معلمین پہلے ہی اپنی زندگیاں کھو چکے ہیں۔🌿 اللّٰہ ہمیں انصاف اور حق کہنے کی توفیق عطا فرمائے 🌿
