Feb 7, 2026 07:41 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
انسان محبت سے عشق الہیٰ تک

انسان محبت سے عشق الہیٰ تک

11 Dec 2025
1 min read

انسان محبت سے عشق الہیٰ تک 

محمد علی شیر قادری نظامی : روضہ شریف مہوتری  نیپال

دنیا کی اصل بنیاد محبت ہے ۔یہ وہ لطیف جذبہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، نفرتوں کو مٹاتا ہے، اور انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں بندگی کی معراج نصیب ہوتی ہے ۔تصوف کا پہلا زینہ بھی یہی ہے -محبت۔ اور محبت صرف زبانی دعوی نہیں، بلکہ دل کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے قول و فعل میں نرمی، خدمت، ایثار اور خلوص کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔صوفیا کے نزدیک سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ انسان مخلوق خدا کے لیے دل میں رحم رکھے ،ان کے دکھ درد میں شریک ہو،اور ان کی خدمت کو رب کی خدمت سمجھے۔ جو دل انسانوں سے نفرت کرتا ہے ،وہ خدا کے قریب نہیں ہو سکتا، چاہے اس کے سجدوں کی تعداد زمین کے ذروں کے برابر ہی کیوں نہ ہو ۔عبادت وہی معتبر ہے جو دل کو نرم اور انسان کو انسان دوست بنائے۔راہ تصوف میں سب سے بڑی رکاوٹ" خود پسندی" اور "عیب جوئی"ہے. اگر کسی کے چہرے کو دیکھ کر تمہیں اس کی خامیاں یاد آئیں، تو جان لو کہ تم ابھی تصوف کے دروازے میں داخل نہیں ہوئے۔ صوفی کی آنکھ عیب نہیں دیکھتی، وہ تو ہر چہرے میں جمال الہی کی جھلک تلاش کرتی ہے۔ کیونکہ جو انسانوں کو حقیر سمجھتا ہے، وہ دراصل اپنے خالق کی کاریگری کو کمتر ٹھہراتا ہے۔محبت وہ خوشبو ہے جو انسان سے انسان تک سفر کرتی ہے اور ہر دل کو خدا کی پہچان کرواتی ہے۔ جو ٹوٹے دل کو جوڑ دیتا ہے وہ در اصل خدا کے قریب ترین ہوتا ہے ،کیونکہ خدا خود ٹوٹے دلوں میں بسیرا کرتا ہے۔ صوفیا فرماتے ہیں کہ" کسی ٹوٹے دل کو جوڑ دینا ہزار سجدوں سے بہتر ہے "-کیونکہ سجدہ جسم کا ہوتا ہے، مگر دل کو جوڑنا روح کی عبادت ہے۔دور حاضر کا انسان ترقی کے زینوں پر چڑھ گیا ہے ،مگر دلوں سے خلوص، احساس اور انسانیت کا نور ماند پڑتا جا رہا ہے۔عبادت گاہیں آباد ہیں، مگر دل ویران۔ زبانوں پر خدا کا نام ہے ،مگر عمل میں خود غرضی۔ ہم نے مذہب کو رسم بنا دیا ،عبادت کو فخر کا زیور ،اور محبت کو کمزوری سمجھ لیا ۔حالانکہ تصوف ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کا سب سے سیدھا راستہ خدمت خلق ہے۔ جو دل دوسروں کے لیے دھڑکتا ہے، وہی رب کا محبوب ہوتا ہے۔انسان کی اصل پہچان نہ اس کا لباس ہے ،نہ اس کا نسب، نہ اس کی زبان یا رنگ، اصل انسان وہ ہے جو دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے۔ جو روتے ہوئے چہرے کو مسکراہٹ دیتا ہے، جو بھوکے کو روٹی اور غمزدہ کو تسلی دیتا ہے، یہی انسانیت ہے، یہی تصوف ہے، یہی محبت ہے ۔اور یہی بندگی کی حقیقت۔پس اے انسان! اگر تو واقعی خدا سے محبت کرتا ہے، تو اس کی مخلوق سے محبت کرنا سیکھ۔ اگر تو انسان کا احترام نہیں کرتا، تو سمجھ لے کہ تو رب کی مخلوق کی توہین کر رہا ہے ۔دلوں کو توڑنے سے پہلے یہ سوچ کہ شاید وہ دل تیرا رب دیکھ رہا ہو۔محبت ہی وہ راہ ہے جو انسان کو خالق تک پہنچاتی ہے ۔اور جس نے انسان سے محبت کی، اس نے خالق سے رشتہ جوڑ لیا۔

یا اللہ! ہمارے دلوں میں انسانیت کی محبت اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کے جذبے کو ہمیشہ زندہ رکھ 

آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین 

 خادم علم وتدریس: مدرسہ اقبالیہ برکاتیہ، لوہار پٹی نگر پالیکا،مہوتری نیپال

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383