القابات کی حقیقت اور مقصد؟
محمد اختر نظامی 📍ضلع مہراج گنج (یوپی)
مُبَسْمِلًا وَحَامِدًا وَمُصَلِّيًا وَمُسَلِّمًا
القابات کی حقیقت اور مقصد
انسانی معاشرہ ابتدا ہی سے عزت و احترام اور پہچان کے مختلف انداز رکھتا آیا ہے___
کسی کا نام اس کی شناخت ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کے ساتھ ایسا لقب بھی جڑ جاتا ہے جو اس کی علمی دینی اخلاقی یا سماجی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے___
یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اہل علم اہل فضل اور اہل خدمت لوگوں کو مختلف القابات سے یاد کیا جاتا رہا ہے___
مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لقب صرف لفظ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ذمہ داری ایک اعتماد اور ایک کردار کا اعلان بھی ہوتا ہے___
اسلام نے انسان کو عزت کا صحیح معیار بتایا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- [1]
ترجمہ تفسیر کنزالایمان: بیشک اللّٰه کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اصل عزت نسب مال شہرت یا لقب سے نہیں بلکہ تقویٰ سے ہے۔ اگر کسی کے پاس بڑے بڑے القابات ہوں مگر تقویٰ نہ ہو تو وہ حقیقی عزت سے محروم ہے___
اور اگر کسی کے پاس دنیاوی لقب نہ ہو مگر دل میں خوف خدا ہو تو وہ اللّٰه کے نزدیک معزز ہے___
القابات کا اصل مقصد کسی انسان کی خوبی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اس کی بہترین مثال صحابہ کرام رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُم ہیں۔ حضرت ابوبکر رَضِيَ تعالیٰ عَنْهُ کو صدیق کہا گیا کیونکہ آپ سچائی اور تصدیق میں سب سے آگے تھے۔ حضرت عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کو فاروق کہا گیا کیونکہ آپ حق و باطل میں فرق ظاہر کرنے والے تھے۔ حضرت عثمان غنی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کو ذوالنورین کہا گیا۔ حضرت خالد بن ولید رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کو سیف اللّٰه کہا گیا۔ یہ القابات کسی اشتہار کی زینت نہ تھے بلکہ کردار کی گواہی تھے___
حدیث شریف میں ہے: [2] نبی اکرم نور مجسم صَلَّی اللّٰهُ تعالیٰ عَلَیْهِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ (لفظ ابنِ ماجہ) [3]
میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ بطور فخر نہیں۔_
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی لقب حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں تکبر نہ ہو تو اس کا بیان جائز ہے۔ حضور اکرم صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شان بیان فرمائی مگر فخر و غرور کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت کے اظہار کے طور پر___
ایک اور حدیث شریف میں فرمایا: چنانچہ [4] نبی پاک صاحب لولاک صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ واٰلِہٖ وَسَلَّم:
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الْأُمُورِ وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا [5]
اللّٰه ربّ العزت بلند اخلاق اور اعلیٰ کاموں کو پسند فرماتا ہے___
بنے۔ لقب کا مطالبہ نہ کرے بلکہ کردار ایسا بنائے کہ لوگ خود عزت دیں۔
اسلامی تعلیمات میں نام اور لقب دونوں میں حسن کا حکم دیا گیا ہے۔ حضور صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعض نام بدل دیے جو نامناسب تھے اور اچھے نام رکھنے کی ترغیب دی۔ اس سے
معلوم ہوا کہ الفاظ کی بھی اہمیت ہے۔ لیکن صرف اچھا نام کافی نہیں جب تک عمل اچھا نہ ہو___پ
حضرت علی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کا قول ہے:
قِيْمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهٗ [6]
ترجمہ: ہر شخص کی قیمت وہ ہنر و کمال ہے جو اس میں پایا جائے__
یعنی انسان کی اصل قیمت اس کے کام اور کردار سے ہوتی ہے نہ کہ دعووں اور خطابات سے۔
حضرت عمر فاروق رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فرماتے ہیں:
حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا (لفظ الترمذی) [7]
ترجمہ: اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے اگر کسی شخص کو بڑا لقب دیا گیا ہے تو اسے اپنے نفس سے پوچھنا چاہیے کہ کیا میں واقعی اس لقب کے لائق ہوں۔ اگر جواب نفی میں ہو تو اسے اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
امام شافعی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں:
مَنْ أَرَادَ الدُّنْيَا فَعَلَيْهِ بِالْعِلْمِ وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ فَعَلَيْهِ بِالْعِلْمِ [8]
جو دنیا حاصل کرنا چاہے تو اس پر علم حاصل کرنا ضروری ہے اور جو آخرت کی کامیابی چاہے اس پر بھی علم حاصل کرنا ضروری ہے___
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کو عالم فاضل مفتی محدث یا خطیب کہا جائے تو اس لقب کے پیچھے حقیقی علم ہونا چاہیے۔ صرف لفظوں سے کوئی عالم نہیں بنتا___
امام غزالی رحمہ اللّٰه نے لکھا کہ عالم وہ نہیں جو صرف معلومات رکھتا ہو بلکہ عالم وہ ہے جس کے علم کا اثر اس کے عمل پر ظاہر ہو۔ [9] یہی اصل معیار ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض جگہ القابات بہت آسان ہو گئے ہیں اور بالخصوص جلسوں کے اسٹیج پر نقیب صاحبان اور پڑھے لکھے حضرات بڑے بڑے القابات تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔ ابھی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک صاحب کسی مفتی صاحب کو نہ جانے کتنے عظیم عظیم القابات دے رہے تھے۔ میں ان حضرت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اتنے بڑے بڑے القابات دینا واقعی درست بھی ہے یا نہیں۔
اور جن صاحب کو یہ القابات دیے جا رہے تھے وہ خود اپنے موبائل فون میں مشغول تھے۔ نہ مجلس کی طرف توجہ تھی نہ اسٹیج کی سنجیدگی کا احساس۔ یہ منظر دیکھ کر دل کو افسوس ہوا کہ کردار مشکل ہو گیا ہے اور القابات آسان ہو گئے ہیں۔
آج نام کے ساتھ لمبی لمبی فہرستیں لگا دی جاتی ہیں مگر مجلس میں وقار کم نظر آتا ہے۔ عوام رہنمائی چاہتی ہے مگر انہیں صرف تعارف سنایا جاتا ہے۔ لوگ مسائل کا حل چاہتے ہیں مگر ان کے سامنے لفظوں کی نمائش پیش کی جاتی ہے۔ اگر لقب خدمت کے بغیر ہو تو وہ عزت نہیں بلکہ بوجھ بن جاتا ہے___
لقب مانگا نہیں جاتا بلکہ کمایا جاتا ہے۔ جب انسان اخلاص سے دین کی خدمت کرے لوگوں کی
رہنمائی کرے اپنے اخلاق سے دل جیتے اپنے علم
سے اندھیرے دور کرے تو پھر لوگ خود اسے
عزت دیتے ہیں۔ ایسی عزت دیرپا ہوتی ہے۔
اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اگر کسی کو محسن قوم کہا جائے تو وہ قوم کا درد رکھے۔ اگر کسی کو فخر ملت کہا جائے تو وہ ملت کی آبرو بنے۔ اگر کسی کو زینت مسند تدریس کہا جائے تو وہ علم کا چراغ جلائے۔ اگر کسی کو تاجدار خطابت کہا جائے تو اس کی زبان سے حق نکلے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ [10]
فرما دیجیے عمل کرو عنقریب اللّٰه تمہارے عمل کو دیکھے گا___
یہ آیت بتاتی ہے کہ اصل چیز عمل ہے۔ لقب نہیں عمل دیکھا جائے گا۔ شہرت نہیں کردار دیکھا جائے گا۔ الفاظ نہیں حقیقت دیکھی جائے گی___
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ القابات کی حقیقت عزت ہے اور مقصد خدمت کی پہچان۔ اگر لقب اور عمل جمع ہو جائیں تو شخصیت روشن ہو جاتی ہے۔ اگر لقب رہ جائے اور عمل نہ رہے تو صرف آواز باقی رہتی ہے اثر باقی نہیں رہتا۔ اس لیے ہمیں القابات سے زیادہ اوصاف پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ عزت زبانوں سے نہیں کردار سے ملتی ہے___
آخر میں کچھ سوال درکار ہیں:
کیا ہر بڑے لقب کے پیچھے واقعی بڑا کردار بھی موجود ہے؟ کیا القابات دینا آسان اور ان کا حق ادا کرنا مشکل نہیں ہو گیا؟ کیا صرف لمبے تعارف سے عوام کی اصلاح ہو سکتی ہے؟ کیا مجلسوں میں علم سے زیادہ القابات کا شور نہیں بڑھ گیا؟ کیا جنہیں بڑے بڑے القابات دیے جاتے ہیں وہ ان ذمہ داریوں کو محسوس بھی کرتے ہیں؟ کیا عوام رہنمائی سننے آتی ہے یا صرف تعریفیں سننے؟ کیا لقب خدمت کے بغیر عزت بن سکتا ہے؟ کیا ہم نے کردار کے بجائے الفاظ کو معیار بنا لیا ہے؟ کیا اسٹیج پر بیٹھنے والوں کو اپنا محاسبہ نہیں کرنا چاہیے؟ کیا وقت نہیں آ گیا کہ القابات سے پہلے اوصاف دیکھے جائیں؟
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہمیں بڑے بڑے القابات والے نہیں بلکہ بڑے کردار والے لوگ چاہییں۔
یہ تحریر اصلاح و بیداریٔ معاشرہ کے لیے ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
اگر اس میں کوئی کمی یا سہو رہ گیا ہو تو ازراہِ کرم نشاندہی فرمائیں، ہم تہِ دل سے ممنون ہوں گے۔
وما علینا الا البلاغ۔
#محمد_اختر_نظامی
Contact_ https://telegram.me/Muhammad_Akhtar_bot
جاری کردہ: بتاریخ 26 اپریل 2026ء مطابق 8 ذوالقعدہ 1447ھ بروز اتوار
حوالہ جات
[1] پارہ:26، سورہ الحجرات:13،
[2] حضرت ابو سعید خدری رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
[3] ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب: ذكر الشفاعة، حدیث:4308
[4] حضرت سیدنا حسین بن علی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما
[5] سلسلة الأحاديث الصحيحة، الاداب والاستئذان، حدیث: 2740
[6] نہج البلاغہ باب الحکمۃ، صحفہ:81
[7] ترمذی شریف، كتاب صفة القيامة والرقائق والورع، حدیث نمبر:2459
[8] تہذیب الاسماء واللغات، جلد:1، صفحہ:54،
[9] احیاء العلوم، کتاب العلم، صفحہ
[10] پارہ:9، سورہ التوبہ، آیت:105،
