حضور احسن العلماء عليه الرحمه ایک نظر ميں
از قلم : ادیب شہیرعلامہ نور محمد خالد مصباحی برکاتی ازہری حفظہ اللہ
جنرل سکریٹری: علما فاؤنڈیشن نیپال
خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ بر صغير کی وہ عظیم خانقاہ ہے جس کی عظمت کاقصیدہ پڑھتے ہوئے مجدد اعظم امام احمد رضا قدس سره فرماتے ہیں:
اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
خانقاہ برکاتیہ بر صغير کے وہ واحد خانقاه ہے جس کے ایک گنبد کے سائے میں 7 عظیم المرتبت اقطاب آرام فرما ہیں، جن كی خدمات دينيہ كا زما نہ معترف ہے ۔اسی خانوادہ زیدیہ واسطیہ میں حضور احسن العلماء كی ولادت ہوئی۔
نام : مصطفے حيدر،عرف : حسن مياں
لقب : شيخ المشايخ .احسن العلماء .سراج الاصفياء، سراج السالكين
ولادت:10شعبان المعظم 1345ھ مطابق 13فروری سن 1927 ء
والد مكرم : سيد شاه العبا قادری زيدی واسطی قدس سره ابن سيد شاه حسين حيدر زيدی واسطی قدس سره
والده : حضرت بی بی سيده اكرام فاطمہ شهر بانو رحمة الله عليہا بنت مجدد بركاتيت حضور سيد شاه ابو القاسم اسماعيل حسن مياں جی قدس سره
احسن العلما کی جائے ولادت : خانقاہ برکاتیہ میں کوٹھی کے نام سے موسوم اقامتی حصے کے اندرونی دالان میں آپ کی ولادت ہوئی ۔
پیدائش کے وقت آپ ایک قدرتی غلاف میں سر سے پیر تک لپٹے ہوئے تھے اور اس غلاف کے اوپری حصے پر تاج کی شکل بنی ہوئی تھی، آپ کی بہن حضرت حافظہ سيده زاهده خاتون مد ظلها العالي كا بيان ہے کہ دایہ نے زمین پر ہاتھ مار کر اپنا لاکھ کا کڑا توڑا اور اس کی نوک سے غلاف كو قطع كيا تو معا ایسا لگا کہ اس نیم تاریک اقامتی حصہ میں ایک اجالا سا پھیل گیا ہو۔
نومولود کا چہرہ مہر درخشاں اور ماہ تاباں کی طرح روشن اور منور تھا۔
آپ کی ولادت پر نانا مجدد بركاتيت حضور سید شاہ اسمعیل حسن شاه جی مياں قدس سره نے بڑی خوشیاں منائیں اور دادا حضرت سيد شاه حسين حيدر زيدی واسطی قدس سره خليفہ حضور سيد شاه آل رسول احمدی نے سجدہ شکر ادا کیا۔
آپ کا سلسلہ نسب پدری و مادری دونوں حضرت سيد محمد صغری فاتح بلگرام علیہ الرحمة و حضرت سيد ابو الفرح واسطی عليه الرحمة سے ہوتا ہوا حضرت امام حسين شهيد كربلا رضي الله عنہ سے ہو كر حضور نبی كريم صلي الله علیہ سلم سےجا ملتا ہے۔
بيعت وخلافت: آپ کو اپنے نانا مجدد بركاتيت حضور سيدی سيد شاه ابوالقاسم اسمعيل حسن شاه جي مياں عليه الر حمة سے حاصل تھی۔
آپ کو آپ کے نانا نے کم عمری ہی میں اپنی نگاہ بصیرت سے اپنی ذات اور اپنی نسل دونوں کا سجادہ نشین بنا دیا تھا۔
بچپن: حضور احسن العلماء عليه الرحمة كو بچپن اور لڑکپن میں کسی کھیل سے کوئی رغبت نہ تھی۔
بچپن میں آپ کبوتروں سے بہت محبت فرماتے تھے، وقت پر ان کے دانہ پانی کا انتظام فرماتے تھے، مگر آپ کو کبوتر اڑانے کا کوئی شوق نہ تھا۔
تعلیم وتربیت:
حضور احسن العلماء نے سوا دو پارہ قرآن عظيم اپنی والدہ محترمہ سے حفظ كيا بقیہ اجزاء حافظ سلام الدين قريشي و حافظ عبد الرحمن علیھما الرحمة سے حفظ كيا، 11 سال کی عمر میں آپ نے حفظ مکمل كيا، آپ کے اساتذہ کرام میں آپ کے سگے مامو مورخ خاندان بركات حضور تاج العلماء عليہ الرحمہ
برکات حضرت شيخ العلماء غلام جيلاني گھوسوی علیہ الرحمہ ، مفتی سندھ خلیل العلماء حضرت علامہ خليل احمد صاحب قبلہ قادری بركاتی عليہ الرحمہ، شير بيشہ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علي عليہ الرحمہ، اردو کے استاد منشي سعيدالدين صاحب اور انگریزی کے استاد ماسٹر سمیع الدین صاحب عليھما الرحمہ تھے۔
دینی وعلمی خدمات: حضور حافظ وقاری حضرت علامہ مفتی سيد احسن العلماء عليہ الرحمہ خانقاہ كے کاموں سے فرصت پاتے تو خیرکم من تعلم القران وعلمہ پر عمل کرتے ہوئے مدرسہ قاسم البرکات میں درس وتدریس کا کام بھی انجام دیتے تھے
آپ درگاہ معلی کے سجادہ منتخب ہونے سے بہت پہلے ہی سے خانقاہ کی مسجد ’’مسجد برکاتی‘‘ میں جمعہ سے آدھا گھنٹہ قبل وعظ ونصیحت فرماتے جس میں قرآن وحديث وفقہي مسائل پر مشتمل آپ کے بیان ہوتے آپ کے ان بیانات وملفوظات کو آپ کے سگے بھانجے حضرت علامہ ڈاکٹر سید جمال الدین اسلم حفظہ اللہ نے بشکل ملفوظات "طریقہ احسن" کے نام سے مرتب کرکے دارالاشاعت برکاتی خانقاہ برکاتیہ بڑی سرکار مارہرہ مطہرہ سے شائع کیا ۔
وعظ ونصیحت كا یہ سلسلہ 54 برس تک چلتا رہا طریقہ احسن نامي كتاب کے مطالعہ سے آپ کے اردو عربی زبان وادب پر عبور کا پتہ چلتا ہے۔
اعلی حضرت مجدد اعظم عليہ الرحمہ سے آپ کو ایک خاص قسم کا انس تھا آپ کو کلام الامام امام الکلام کثرت سے یاد تھا۔
آپ اعلی حضرت كا نام لینے سے پہلے چشم چراغ خاندان برکات کا لقب اکثر استعمال فرماتے اعلی حضرت كانام سنتے ہی آپ کا چہرہ کھل جاتا اور یہی ایک عاشق صادق کی نشانی ہے کہ عاشق کے عاشق سے محبت كرے۔
آپ کو اعلی حضرت کے کلام میں
کعبہ کے بدر الدجی تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحي تم پہ کروڑوں درود
واہ کیا جود وکرم ہے شہ بطحا تيرا
نہيں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
بہت پسند تھا۔
حضور احسن العلماء كی رسم سجادگی :
آپ کی رسم سجادگی ,3شعبان المعظم 1375ھجری مطابق 17 مارچ عیسوی بروز شنبہ بوقت عصر بڑے دھوم دھام کے ساتھ کثير علماء ومشايخ کی موجودگی میں مارھرہ مقدسہ میں منائی گئی۔
علماء كا اعزاز : رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادرى رحمہ اللہ عليہ تحرير فرماتے ہیں:
"ايک بار میں صبح کے وقت مارہرہ شریف حاضر ہوا .بزرگوں کے کریمانہ اخلاق وخرد نوازی کے قصے میں نے بارہا کتابوں میں پڑھے تھے۔
لیکن اس دن پڑھنے کا نہیں بلکہ شرمسار آنکھوں سے مجھے دیکھنے کا موقع ملا۔ انتہائی پر تکلف ناشتہ سے فراغت کے بعد انھوں نے مجھ حقير بے توقير کو اس مقدس تخت کی زیارت کرائی جس پر اعلی حضرت کے پیر ومرشد نے انہیں داخل سلسلہ کیا تھا۔ اور عالم محسوس ميں ان كا ہاتھ سرکار غوث الوری كے ہاتھ میں دیا تھا۔ اس کے بعد اپنے بزرگوں کے ان خلوت کدوں میں ہماری حاضری كرائی، جہان سالہا سال کی ریاضت ومجاہدے کے ذریعہ انہیں سلوک و معرفت کے مقامات طے کرائے جاتے تھے۔
پھر ہمیں جنت کے اس لالہ زار کی طرف لے گئے جسے ہم جنتیوں کی ابدی آرام گاہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ماتھے کی آنکھیں مزارات کی چادروں سے آگے نہیں بڑھ سکیں دل کی آنکھ رکھتے تو نور کے لہراتے ہوئے وہ چشمے دیکھ لیتے جس کا سوتا مدینے کے منبع انوار سے جا ملتا ہے۔ مجھے شرابور ہونے کے لئے الطاف و عنایات کی اتنی ہی بارش بہت تھی ۔اس پر مزید کرم یہ ہوا کہ جب رخصت ہونے لگے تو حضرت نے زبر دستی ایک لفافہ میرے جیب میں ڈال دیا جب میں نے بہت انکار کیا تو فرمایا "رکھ لیجئے۔اس خانقاہ كي یہی روایت ہے۔" باہر جاکر لفافہ کھولا تو اس میں پانچ سو کے نوٹ موجود تھے، واپس ہوتے ہوئے راستہ بھر میں یہی سوچتا رہا کہ روایت کا مطلب سوا اس کے اور کیا ہو سکتا ہے۔کہ اوپر سے ایسا ہوتا چلا آرہا ہے، تخیل کے سہارے ہم اوپر کی طرف بڑھنے لگے سلسلہ کی آخری کڑی تک پہونچے تو ایک آواز کان میں گونجی ۔،" انما انا قاسم اللہ يعطي " اللہ عطا كرتا ہے، اور میں تقسیم کرتا ہوں ۔اب سمجھ میں آیا کہ یہ گھرانہ ہی تقسیم کرنے والوں کا ہے۔اپنی زندگی میں بہت سی خانقاہوں کو ہم نے دیکھا ہے ليكن اس خانقاہ كي یہ ریت دیکھ کر یہ کہنے کو دل چاہتا ہے۔کہ یہ صرف خانقاہ ہی نہیں بلکہ عصر حاضر كي خانقاہوں كي آبرو بھی ہے۔( اہل سنت کی آواز صفحہ 57_58 )
*علمائے کرام کی قدر ومنزلت کے سلسلے میں حضور احسن العلماء کے بارے میں شارح بخاري مفتي شريف الحق صاحب امجدي عليہ الرحمہ رقم طراز ہیں:*
" حضرت كی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس عہد کے پیروں کے بر خلاف علماء كا ان کے شایان شان پورا پورا احترام فرماتے ۔عرس مبارک میں یہ منظر قابل دیدنی ہوتا کہ عرس مبادک کے اجلاس عام میں حضرت خود اور خاندان کے تمام افراد زمیں پر ہوتے اور علمائے کرام تخت پر ( اہلسنت كي آواز صفحہ 47)
یہی علماء نوازی اللہ تعالی نےحضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کے چاروں صاحبزادگان کو عطاء فرمایا ہے۔
ان میں حضور سيد افضل مياں قادرى عليہ الرحمہ سے راقم کے بڑے اچھے مراسم تھے، عرس قاسمی برکاتی میں جب بھی مارہرہ شریف حاضر ہوتا تو آپ بڑی شفقت فرماتے، ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ سنا ہوں کہ نیپال کا پہاڑی شہد بڑا ذائقہ دار ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب آپ جامعہ ملیہ کے وائس چانسلر مقرر ہوئے اسی سال میں دہلی سے بذریعہ فلائٹ مدرسہ احسن البركات كے چندے کے سلسلہ میں دو حہ قطر جا رہا تھا حضرت كو شہد كا ہديہ پیش کیا، آپ نے قبول فرمایا اور دعاوں سے نوازا، مگر کسے پتہ تھا کہ یہ حسن اخلاق كا پیکر ہم لوگوں کو داد مفارقت دے کر روتا بلکتا ہوا چھوڑ جائے گا 2000عيسوي تا 2020عیسوی اکثر سال عرس قاسمی برکاتی میں حاضري كاشرف حاصل ہوتا رہا. اور سركاروں كے فیوض وبرکات سے مالا مال ہوتا رہا۔حضرت احسن العلماء علیہ الرحمہ کے تبلیغی اسفار
آپ نے تبلیغ سنيت کے لئے نیز سلسلہ برکاتیہ کے فروغ کے لئے ملک وبیرون ممالک کاسفر طے کیا، گونڈل، پور بندر، دھوراجی، رتلام، کوٹہ، سورت، بڑودہ، بمبئی، کلکتہ، اڑیسہ، ناگپور، حيدرآباد، بنارس، كراجي، سندھ لاہور، نیپال کے ترائی علاقے کے علاوہ بہت سے شہروں کا آپ نے سفر کیا، ان علاقوں کے مسلمان آپ کی نورانی صورت اور عرفانی سیرت کا ذکر كرکے جو با حيات ہيں آج بھی آب دیدہ ہو جاتے ہیں۔اہل سنت کی آواز شمارہ ۲میں ہے: "میں نے بہت سے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا كہ حضرت صاحب كے چہرے پر ایسا نور ہے جسے دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے، جس ریل گاڑی میں سفر کرتے اس کا گارڈ وڈرائیور تک چچا میاں سے ملاقات و مصافحہ کرکے جاتا " آپ کے اسم گرامی ’’سید شاہ مصطفے حيدر حسن میاں قادری‘‘ ميں جتنے حروف تہجی ہیں آپ ان سب کے جامع ہیں.’’س‘‘ سے سیادت۔ ’’ی‘‘ سے یاد الہی۔ ’’د‘‘ سے دلجوئی، دانش مندی۔ ’’ش‘‘ سے شیرینی بیانی۔ ’’ا‘‘ سے الفت رسول۔ ’’ہ‘‘ سے ہمت۔ ’’م‘‘ سے محبت اولياء۔ ’’ص‘‘ سے صدور کشف وکرامات۔ ’’ط‘‘ سے طریقہ اجداد پر عمل۔ ’’ف‘‘ سے فضلاء كی عزت۔ ’’ی‘‘ سے یکانگت عامہ۔ ’’ح‘‘ سے حلم۔ ’’ی‘‘ سے یقین کی دولت۔ ’’د‘‘ سے دین کی خدمت۔ ’’ر‘‘ سے ریا سے نفرت۔ ’’ح‘‘ سے حكمت کی باتیں کرنے کی عادت۔ ’’س‘‘ سے سرداری۔ ’’ن‘‘ سے نعمتوں کی تقسیم۔ ’’م‘‘ سے مہمان نوازی۔ ’’ی‘‘ سے یقین کی دولت۔ ’’ا‘‘ سے انساں نوازی۔ ’’ن‘‘ سے نمازون کی کیفیت۔ ’’ق‘‘ سے قرآن فہمی۔ ’’ا‘‘ سے اعزہ پروری۔ ’’د‘‘ سے دریا دلی۔ ’’ر‘‘ سے ریا سے نفرت۔ ’’ی‘‘ سے یقین محكم عمل پیہم۔آپ کی زندگی میں یہ ساری خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں۔
آپ کے وجود مسعود کی برکتیں کے عنوان سے صاحبزادہ والا تبار حضرت سيد محمد اشرف قادرى بركاتی دام ظلہ اہل سنت كي آواز خصوصي شمارہ اكابر مارہرہ جلد.دوم ص ، 599تا ،،600 میں رقمطراز ہیں:"جس دن پاپا سفر سے واپس آئے، اور خیریت معلوم کی،تو سب سے پہلے میں نے ان کو بتایا کہ گھر میں روزانہ سانپ نکل رہے ہیں، وہ مسکرائے اور فرمایا کہ آج کے بعد اس طرح سانپ نہیں نکلیں گے، خدا گواہ ہے کہ اس دن کے بعد سانپوں کا لگاتار بر آمد ہونا موقوف ہوا۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ اسی زمانے میں انہوں نے مجھے سانپوں کو باندھ دینے کی خاندانی دعا تعلیم فرمائی جسے پڑھنے کے بعد سانپ ایک خاص دائرے سے باہر نہیں نکل پاتا، ایک غير مرئی دائرے کے اندر چکر لگاتا رہتا ہے۔ اللہ اكبر یہ ہے اللہ والوں کی شان، انسان تو انسان جانور بھی ان کا ادب واحترام كرتے ہیں۔
حضور احسن العلماء عليہ الرحمہ کے اولاد وامجاد :
1۔ سيد محمد جميل رحمہ اللہ علیہ 1950 ميں مارہرہ شريف میں پیدا ہوئے، اور بچپن ہی میں آپ کا وصال ہو گیا۔
2۔ سيد محمد خالد رحمۃ اللہ علیہ 1951 میں اپنے دادیہال سیتا پور میں پیدا ہوئے، اور بچپن ہی میں اللہ کے پیارے ہو گئے۔
3۔ پیر طریقت رہبر راہ شریعت آقائے نعمت سیدی و مرشدی ومولائی سیدنا سرکار امین ملت دامت برکاتھم القدسیہ اس خاکدان گیتی پر 16 /اكتوبر 1952 عیسوی کو تشریف لائے، اگر زندگی سلامت رہی تو آپ کے حالات و كوا ئف پر ایک ضخیم مقالہ تحرير كروں گا۔
آپ خانقاہ قادریہ برکاتیہ کے متولی وگدی نشین ہیں اللہ تعالی آپ کا سایہ عاطفت ہم غرباء اہل سنت پر قائم ودائم رکھے، ہم اہل نیپال کے لئےباعث سعادت ہے کہ آپ جامعہ احسن البركات كے سالانہ جلسہ بنام ا نٹر نیشنل صوفی سید شاہ برکت اللہ کانفرنس کے موقع پر نیپال تشریف لا چکے ہیں، اور میرے لئے مزید باعت سعادت ہے کہ میرے غريب خانہ تولہوا نیپال پر تشریف لاکر میری اہلیہ رفیق النساء، بيٹا حافظ احمد رضا بركاتی سلمہ جو فی الحال جامعہ ازہر مصر ميں زير تعليم ہے، اور چھوٹے بیٹے حامد رضا برکاتی سلمہ جو دسویں کلاس میں زیر تعلیم ہے، اور بيٹی عشرت جہاں برکاتی سلمہا بارہویں کلاس میں زیر تعلیم ہے، باقی اہل خانہ كو مريد فرما كر داخل سلسلہ قادریہ برکاتیہ فرمايا۔ الحمد للہ علي كرمہ ومنہ۔
4۔ سید محمد اشرف قادری بركاتی دام ظلہ العالی جو اردو ادب ميں اپنا ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، آپ ہند میں ایک اعلی عہدہ پر فائز ہیں۔
5۔ سيدہ قادریہ رحمہ اللہ عليہا۔
6۔ سيدہ ثمينہ خاتون مد ظلہا۔
7۔ سید محمد افضل رحمہ اللہ علیہ آپ کی ولادت سن1963 ء مارہرہ مطہرہ ميں ہوئی۔
آپ کے کچھ حالات ميں نے اسی مضمون میں بیان کر دیا۔
8۔ پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضور سید نحيب حيدر مياں قادری بركاتی، نائب سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف۔
آپ کی ولادت سن 1967ء مارہرہ مطہرہ ميں ہوئی۔
آپ اپنے دور کے زندہ ولی ہیں، جس کسی پر آپ کی نگاہ ولایت پڑ گئی اس کے اوپر یہ شعر صادق آجاتا ہے:
نگاہ ولی میں وہ تاثير ديكھی
بدلتے ہزاروں کی تقدیر دیکھی
اہل نیپال کےلئے باعث شرف ہے کہ آپ جامعہ اسلاميہ احسن البركات تولہوا نيبال کے انٹر نیشنل کانفرنس میں تشریف لا چکے ہیں، اور ہم غلامان برکات کو اپنے فیوض وبرکات سے مالا مال کر چکے ہیں۔
حضور احسن العلماء کے شہزادگان فی زماننا علماء ومشايخ كے مابین ایسے ہی چمکتے ہیں جیسے ستاروں کی جھرمٹ میں چاند چمکتا ہے۔
*آپ کا تقوی وطہارت*
شہزادہ حضور احسن العلماء سيد محمد اشرف قادری بركاتی دام ظلہ اپنے آنکھوں دیکھا احوال اہل سنت كی آواز ميں رقمطراز ہیں: "وہ فجر سے بہت پہلے بیدار ہو جاتے اور وضو کرکے خاندانی وظائف و اوراد میں مشغول ہو جاتے یہ تقریبا رات کے تیں بجے کا عمل ہوتا تھا، اس وقت کی عبادت کا اختتام گرئے پر ہوتا تھا وہ بلک بلک کر خدائے ذوالجلال سے دعائیں مانگتے ۔اس وقت میری آنکھ کھل جاتی جو اکثر ان کے رونے کی آواز سے کھلتی تو میں پلنگ پر لیٹا آنکھیں بند کئے سوچا کرتا کہ ہاہا تو اتنی بڑی عمر کےجوان ہیں، بچے تو ہیں نہیں تو آخر رات گئے بچوں کی طرح روتے کیوں ہیں؟ ان کے گریے کی آواز سے دہشت طاری ہو جاتی " اسے کہتے ہیں اللہ کاولی جو الذين امنوا اشد حبا للہ کا پیکر ہوتا ہے جن کی زندگی کا مشن ہی یاد الہی ہوتا ہے۔
*خلفائے کرام:*
آپ کے مریدین تو پوری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں، اور اس کا صحيح انداذہ کسی کو نہیں ہے البتہ خلفاء كی تعداد بہت كم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بہت تفتیش کے بعد کسی کو خلافت دیتے تھے۔ مگر جن کو دیا وہ اپنے زمانے کے تاجور بن گئے جب آپ کے خلفاء كا یہ عالم ہے کہ اپنے اپنے دور میں آسمان ولایت کے آفتاب وماہتاب ہیں، تو پھر مرشد کا عالم کیا ہوگا۔
چند خلفاء کے اسماء گرامی یہ ہیں:
1 جناب سيد شاہ آل رسول حسنين مياں نظمی علیہ الرحمہ آپ کے چاروں صاحبزدگان۔
5 جانشين مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی اختر رضا رحمہ اللہ عليہ
6 حضرت علامہ سيد شاہ ضياء الدين علیہالرحمہ كالپی شریف
7 حضرت علامہ مفتي جلال الدين علیہ الرحمہ براؤں شريف
8 حضرت علامہ مفتي عبد المنان اعظمی عليہ الرحمہ مبارکپور
9 خطيب البراہين حضرت علامہ صوفي نظام الدين علیہ الرحمہ امر ڈوبھا
10نائب مفتی اعظم حضرت علامہ مفتی شريف الحق امجدي علیہ الرحمہ
11 شير نيپال مفتی اعظم نيپال حضرت علامہ مفتی جيش محمد قادري بركاتي علیہ الرحمہ جنك پور نیپال (راقم کے حضور شير نيپال سے بڑے گہرے روابط تھے میرے قائم کردہ جامعہ۔غوثيہ.احسن البركات، نيا بازار كاٹھمنڈو کی سنگ بنیاد سن 2000 عيسوي مين آپ ہی کے ہاتھوں رکھی گئی، فقير نے اپنے دادا پیر حضور احسن العلماء کی نسبت سے اس ادارہ کا نام جامعہ غوثيہ احسن البركات تجويز فرمايا اور پھر اپنے دادا ہی کے نام سے منسوب اپنے آبائی قصبہ تولہوا بازار میں جامعہ اسلامیہ احسن البركات کے نام سے تولہوا كپلوستو نیپال سن 2005 عيسوي میں دوسرا ادارہ بر ائے طالبات قائم فرمایا الحمد للہ فقير قادري بركاتي كو سب سے پہلے نیپال میں اللہ تعالي نے آپ کے نام مبارک پر دو عظیم الشان دینی ادارہ قائم کرنے کاشرف بخشا)
ان حضرات كے علاوہ حضور احسن العلماءعلیہ الرحمہ كے بیسوں خلفاء كرام ہیں جنكا نام تحرير كرنا مضمون کے طوالت کا باعث ہوگا۔
*وصال پرملال :*
دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے اٹھ جاؤں گا میں
دیکھتی کی دیکھتی دنیا رہ جائے گی مجھے
آخر كار 11 ستمبر سن1995ء مطابق 15 ربیع الاخر 1416ھ شب سہ شنبہ کو وہ ماہتاب طریقت آفتاب شریعت دہلی کے جی بی اسپتال میں 35 دن زير علاج رہنے کے بعد ہماری ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا، جو لاکھوں مریدین وتوسلین کے دلوں کا قرار تھا، ہزاروں علمائے کرام ومشایخ عظام کے آنکھوں کا نور تھا، 13ستمبر 1995ء كو تقريبا 6:15 pm آپ کو آپ کےاباء واجداد كرام ومرشدگان عظام کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ دوران علالت آپ کے ذریعہ جن کرامتوں كا ظہور ہوا وہ آپ کے مقبول بارگاہ الہی ہونے کی دلیل ہے ۔
ابرحمت تيری مرقد پر گہر باری کرے ۔۔۔ حشر تک شان كريمی ناز برداى كرے
