Feb 7, 2026 10:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ادیرا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا شاندار انعقاد

ادیرا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا شاندار انعقاد

25 Dec 2025
1 min read

ادیرا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا شاندار انعقاد

’’نگاہِ کرم‘‘ کی رسمِ اجرا، سرکردہ شعرا کی شرکت

لکھنؤ:(ابوشحمہ انصاری)

پریس ریلیز

 تہذیب و ثقافت کے شہر لکھنؤ میں گزشتہ شب ادب و فن کی ایسی خوبصورت ساعتیں رقم ہوئیں جنہوں نے سامعین کے دلوں میں دیرپا نقوش چھوڑ دیے۔ گومتی نگر کے سنگیت کلا اکادمی کے سبزہ زار پر رنگِ اودھ اور ادیرا فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام ’’روایت‘‘ کے عنوان سے گزشتہ روز جاری سہ روزہ میلے کے آخری دن نہ صرف ایک شاندار ادبی نشست منعقد ہوئی بلکہ اس دوران لفظ و احساس کی وہ بارش برسی جس نے ماحول کو محبت، تہذیب، شائستگی اور ادبی جمالیات سے معمور کر دیا۔ شریک سامعین نے جہاں بھرپور دلچسپی کے ساتھ پورے پروگرام کو سنا وہیں بار بار گونجتی تالیوں اور واہ واہ کی صداؤں نے اس ادبی محفل کو یادگار بنا دیا۔

اسی موقع پر فلم ہدایت کار اور معروف فیشن ڈیزائنر مظفر علی کے فرزند، اداکار و شاعر مراد علی کے شعری مجموعہ ’’نگاہِ کرم‘‘ کا بھی شان دار اجرا عمل میں آیا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر فلم ساز مظفر علی کے ساتھ آل انڈیا اتحاد المسلمین کے نمائندہ عاصم وقار، آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے چیئرمین عباس علی زیدی، ادیرا فاؤنڈیشن کی فاؤنڈر ریتیکا چودھری، معراج حیدر، مسعود عبداللہ سمیت متعدد معزز سماجی و ادبی شخصیات موجود رہیں۔ تقریب کی نظامت معروف دانشور ڈاکٹر منتظر قائمی نے نہایت شایانِ شان انداز میں انجام دی۔

کتاب کی رونمائی کے بعد آل انڈیا مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت بزرگ شاعر واصف فاروقی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض بلدیو سنگھ نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ ملک کے مختلف حصوںسے آئے ممتاز شعرا نے اپنے منفرد اسلوب اور پُراثر کلام سے سامعین کے دل جیت لیے۔

مشاعرے میں پیش کیے گئے چند منتخب اشعار نذرِ قارئین ہیں۔

میری شناخت میری انا ہے ضمیر ہے

اور اپنا یہ لباس بدلتا نہیں ہوں میں

 واصف فاروقی

برف کی آنچ سے موسم بھی دہائی مانگے

ایسی سردی ہے کہ سورج بھی رضائی مانگے

 ڈاکٹر منتظر قائمی

زباں شگفتہ سخن نرم و مخملی ہوگا

میں لکھنوی ہوں تو لہجہ بھی لکھنوی ہوگا

احمد جمال کوثر

جو دنیا میں تم چاہتے ہو سنورنا

حسد اپنے دل سے مٹا کر تو دیکھو

محمد علی"ساحل"

ویسے ہنسی اس دور میں اتنی سستی بھی نہیں ہے

شکر اتنا ہے کہ ہنسنے پر جی ایس ٹی نہیں ہے”

 سوربھ جائسیوال

کانٹوں سے مجھ کو کوئی بھی شکوہ گلہ نہیں

میں زخم کھا کے رہ گئی پھولوں کے درمیان

وندنا انعم

دنیا میں اگر ہوں میں تو بیتاب بہت ہوں

دنیا جو ہے اندر میرے بیتاب نہیں ہے

جانی لکھنوی

ہماری جان کے دشمن نے ہم نے اور رب نے

ہماری چیخ سنی صرف تین لوگوں نے

 منیش شکلا

ہم کو اُڑنے کے طریقے نہ سکھاؤ ہم لوگ

پیڑ سے آئے ہیں پنجرے سے نہیں آئے ہیں

سلیم صدیقی

للہ نہ کر عشق کو محتاجِ تکلم

یہ دیکھ کہ آنکھوں سے عیاں ہے کہ نہیں ہے

شاداب جاوید

جیتنے والے نے بس جیت لیا ہے مجھ کو

میں ہوں اُس شخص کا جس شخص نے ہارا ہے مجھے

سلمان ظفر

ان کے علاوہ ربینہ ایاز، معید رہبر،فیض خمار، ساجدہ صبا اور ڈاکٹر علی ملیح آبادی نے بھی اپنا پُراثر کلام پیش کیا جسے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔تقریب کے اختتام پر شعرا کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسی محافل نہ صرف ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو زبان، تہذیب اور ثقافتی قدروں سے جوڑے رکھنے میں بھی سنگ میل ثابت ہوتی ہیں

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383