امام صاحب! اگر دوکان بند کردیں تو ہم لوگ تنخواہ بڑھا دیں گے
آصف جمیل امجدی
چار مئی دو ہزار چھبیس کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے میرے ایک شاگرد کا فون آیا۔ وہ کانپور اور اناؤ کے درمیان کسی علاقے میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کافی عرصے بعد گفتگو ہو رہی تھی اس لیے باتیں بھی طویل ہوتی چلی گئیں۔ حالاتِ زندگی۔۔۔۔۔۔ذمہ داریاں۔۔۔۔۔۔۔گھریلو پریشانیاں۔۔۔۔۔اور زمانے کی سختیاں۔۔۔۔۔سبھی موضوعات زیرِ گفتگو آئے۔اُن کی باتوں میں ایک عجیب تھکن تھی ایسی تھکن جو صرف جسم کی نہیں بلکہ حالات سے لڑتے لڑتے روح پر اُتر آتی ہے۔ میں خاموشی سے سنتا رہا۔ پھر اچانک انہوں نے اپنے ایک دوست کا ذکر چھیڑا جو ایک گاؤں کی مسجد میں امامت کرتے ہیں۔کہنے لگے“حضرت! اُن کی تنخواہ صرف چھ ہزار روپے ہے۔”یہ جملہ سنتے ہی دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔
آج کے اس مہنگائی بھرے دور میں جہاں ایک معمولی مزدور بھی اس سے زیادہ کما لیتا ہے وہاں ایک امام۔۔۔۔۔۔جو دین کی خدمت کرتا ہے قوم کی رہنمائی کرتا ہے بچوں کو قرآن سکھاتا ہے پانچ وقت لوگوں کو اللہ کے دربار میں حاضر ہونے کی دعوت دیتا ہے… اُس کی پوری ماہانہ تنخواہ صرف چھ ہزار روپے!سوچیے…!چھ ہزار میں آخر کیا آتا ہے؟
گھر کا راشن؟ بچوں کی تعلیم؟
دوائیں؟کپڑے؟ یا بجلی کا بل؟
زندگی تو شاید اب چھ ہزار میں چند دن بھی نہ گزرے۔
مجبور ہوکر اُس امام صاحب نے مسجد کے اوقات کے
ت علاوہ ایک چھوٹی سی دوکان کھول لی۔ مقصد صرف اتنا ھا کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے بچوں کی ضروریات پوری ہوجائیں اور عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی میسر آجائے۔
یہ خودداری تھی…
محنت تھی…
حلال روزی کی ایک خاموش کوشش تھی۔
مگر افسوس کہ کچھ لوگوں کو امام کی یہ خودداری بھی برداشت نہ ہوئی۔مسجد کمیٹی کے چند افراد نے ایک دن امام صاحب کو بلایا اور بڑی ہمدردی کے ساتھ کہا:“امام صاحب! اگر آپ دوکان بند کردیں تو ہم لوگ آپ کی تنخواہ بڑھا دیں گے۔”
امام صاحب نے اُن کی بات پر یقین کرلیا۔
انہوں نے سوچا شاید اب حالات بہتر ہوجائیں گے۔شاید کمیٹی کو اُن کی پریشانی کا احساس ہوگیا ہے۔شاید اب اُنہیں عزت کے ساتھ جینے کا حق مل جائے گا۔چنانچہ انہوں نے اپنی چھوٹی سی دوکان بند کردی۔ لیکن…یہ صرف ایک وعدہ تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔
دن گزرتے گئے۔۔۔۔۔۔۔ہفتے بیت گئے۔۔۔۔۔۔۔۔مہینے بدل گئے۔۔۔۔۔۔
مگر تنخواہ نہ بڑھی۔دوکان پہلے ہی بند ہوچکی تھی اب امید بھی دم توڑنے لگی۔یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے اُس تلخ رویے کی تصویر ہے جہاں ہم امام سے تو اخلاص۔۔۔۔۔۔۔تقویٰ۔۔۔۔۔۔۔قربانی اور خدمت کی توقع رکھتے ہیں مگر اُس کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ امام ہر وقت مسجد میں موجود رہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہر خوشی اور غم میں شریک ہو۔۔۔۔۔۔۔۔بچوں کو پڑھاۓ۔۔۔۔بڑوں کی اصلاح کرے۔۔۔۔۔۔۔مگر جب اُس کی اپنی زندگی مشکلات میں گھِر جائے تو ہم نظریں چرا لیتے ہیں۔
کتنا عجیب المیہ ہے کہ جس شخص کی آواز پر ہم نماز کے لیے دوڑتے ہیں اُس کے اپنے گھر میں کبھی فاقے کی نوبت آجاتی ہے۔
جس کے پیچھے کھڑے ہوکر ہم سکون پاتے ہیں وہ خود بے سکونی کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔جس امام کے ایک ایک لفظ سے ہم دین سیکھتے ہیں اُس کے بچوں کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔
آخر کیوں…؟
کیا امام صرف مسجد کی محراب تک محدود ایک مشین کا نام ہے؟
کیا اُس کے جذبات نہیں؟
کیا اُس کے بچے نہیں؟
کیا اُسے عزت کے ساتھ جینے کا حق نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ قوموں کا اخلاق اُس وقت کھل کر سامنے آتا ہے جب وہ اپنے علماء۔۔۔۔۔۔اساتذہ۔۔۔۔۔۔۔اور ائمہ کے ساتھ برتاؤ کرتی ہیں۔ اگر یہ طبقہ معاشی تنگی بے قدری اور جھوٹے وعدوں کا شکار ہوگا تو معاشرے کی روح کمزور ہوجائے گی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ائمہ کو صرف دعاؤں کا نہیں بلکہ انصاف کا حق بھی دیں۔اُنہیں اتنی تنخواہ ضرور ملنی چاہیے کہ وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں بغیر کسی ذلت اور مجبوری کے۔کیونکہ محراب میں کھڑا شخص بھی آخر ایک انسان ہے…
اور انسان صرف احترام سے نہیں انصاف سے زندہ رہتا ہے۔
