پیغمبر اعظم ﷺ کی زندگی کامل نمونہ، ہرزمانے کے لئے رہنمائی ہے
از/ اشفاق احمد ثقافی کپل وستو نیپال
آج کی دنیا بظاہر ترقی یافتہ مگر باطن میں بے چین ہے۔سائنس نے فاصلوں کو مٹا دیا مگر دلوں میں دوریاں بڑھا دی ہیں۔تعلیم عام ہوئی مگر تربیت ناپید، دولت بڑھی مگر سکون کم ہو گیا۔ایسے میں انسانیت کو جس رہنما، جس نجات دہندہ، اور جس رحمت کی ضرورت ہے، وہ صرف محمدِ عربی ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے — جن کی حیاتِ طیبہ عقل و وحی، عدل و رحمت، علم و عمل کا حسین امتزاج ہے۔
اقبال نے فرمایا:
کی محمدﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
سیرتِ نبوی ﷺ: انسانیت کے لیے کامل نمونہقرآنِ حکیم میں ارشاد ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ( الاحزاب: 21) ترجمعہ کنزالعرفان "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔"
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت میں پیروی کیلئے بہترین طریقہ موجود ہے جس کا حق یہ ہے کہ اس کی اقتدا اور پیروی کی جائے،جیسے غزوہِ خندق کے موقع پر جن سنگین حالات کا سامنا تھا کہ کفارِ عرب اپنی بھرپورافرادی اور حَربی قوت کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے اچانک نکل پڑے تھے اور ان کے حملے کو پَسپا کرنے کے لئے جس تیاری کی ضرورت تھی اس کے لئے مسلمانوں کے پاس وقت بہت کم تھا، اور افرادی قوت بھی ا س کے مطابق نہ تھی،خوارک کی اتنی قلت ہو گئی کہ کئی ،کئی دن فاقہ کرنا پڑتا تھا،پھر عین وقت پر مدینہ منورہ کے یہودیوں نے دوستی کا معاہدہ توڑ دیا اور ان کی غداری کی وجہ سے حالات مزید سنگین ہو گئے، ایسے ہو شْرُبا حالات میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی کیسی شاندار سیرت پیش فرمائی کہ قدم قدم پر اپنے جانثار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ اور اسی طرح جب خندق کھودنے کا موقع آیا تو اس کی کھدائی میں خود بھی شرکت فرمائی، چٹانوں کو توڑااور مٹی کو اٹھا اٹھا کر باہر پھینکا، جب خوراک کی قلت ہوئی، تودوسرے مجاہدین کی طرح خود بھی فاقہ کشی برداشت فرمائی، اور اس دوران اگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے فاقے کی تکلیف سے پیٹ پر ایک پتھر باندھا تو سیّد العالَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک شکم پر دو پتھر بندھے ہوئے نظر آئے۔ (ارشاد العقل السلیم الی مزایا الکتاب الکریم،) معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے نہ صرف عبادت کا سلیقہ سکھایا بلکہ انسان بننے کا ہنر بھی دیا۔
مثلا— حکومت کیسی ہو، تجارت کیسی ہو، تعلیم کیسی ہو — ہر گوشۂ حیات میں آپ ﷺ کی سیرت نور کا مینار ہے۔
جیسا کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے،کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات انکا لائف اسٹائل ، طرز زندگی اپنے آپ میں ایک مثال ہے، لیکن اگر ہم صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انہوں نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرتِ مبارکہ پر عمل پیرا ہونے کو اپنی زندگی کا اَوّلین مقصد بنایا ہواتھا اور ان کے نزدیک تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَقوال، اَفعال اور اَحوال کی پیروی کرنے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ چیز اور کوئی نہ تھی، یہاں اسی سے متعلق صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے چند واقعے کو پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں ، قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں (١) پہلے یہ دستور تھا کہ جب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سفر ِجہاد میں کسی منزل پر قیام فرماتے تھے تو ادھر ادھر پھیل جاتے تھے، ایک بار آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ
یہ مُتَفَرِّق ہونا شیطان کا کام ہے۔ اُس کے بعد صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے اس کی اس شدت سے پابندی کی کہ جب بھی منزل پر اترتے تھے تواس قدر سمٹ جاتے تھے ، کہ اگر ایک چادرتان لی جاتی توسب کے سب اس کے نیچے آجاتے۔
(٢) حضرت حمران بن ابان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں :ہم حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تھے، آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور جب وضو کر کے فارغ ہوئے تو مسکرائے اور فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ میں کیوں مسکرایا؟پھر (خود ہی جواب دیتے ہوئے) فرمایا: ’’جس طرح میں نے وضو کیا اسی طرح رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وضو فرمایا تھا اور اس کے بعد مسکرائے تھے۔ (صراط الجنان) مفتی قاسم صاحب (٣) حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی وفات سے چند گھنٹے پہلے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کفن میں کتنے کپڑے تھے اورحضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات شریف کس دن ہوئی ؟( بخاری، کتاب الجنائز، باب موت یوم الاثنین، ۱ / ۴۶۸، الحدیث: ۱۳۸۷)
ا س سوال کی وجہ یہ تھی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی آرزو تھی کہ کفن اور یومِ وفات میں حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مُوافقت ہو۔ زندگی میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع تو کرتے ہی تھے وہ وفات میں بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کی اتباع چاہتے تھے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:"کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔"آج جب نسل پرستی، قوم پرستی اور طبقاتی تفریق نے دنیا کو توڑ دیا ہے، سیرتِ نبوی ﷺہمیں پھر ایک امتِ واحدہ بننے کا پیغام دیتی ہے۔" امن و رحمت کا پیغام"رسولِ اکرم ﷺ کا لقب ہی "رحمۃٌ لِّلْعٰلَمِین" ہے۔آپ ﷺ نے دشمنوں کے لیے بھی بددعا نہیں کی بلکہ رحمت بن کر آئے۔
فتحِ مکہ پر فرمایا:"جاؤ، تم سب آزاد ہو!"دنیا آج اگر جنگوں، تعصب اور انتقام سے بھری ہوئی ہے، تو نجات کا راستہ صرف یہی ہے کہ وہ رحمتِ عالم ﷺ کی تعلیماتِ عفو و محبت اپنائے۔
تعلیم و تربیت: امت کی بنیاد
پہلی وحی کا پہلا لفظ "اقرأ" (پڑھو) انسانیت کے لیے دائمی پیغام عام ہے۔نبی ﷺ نے علم کو فرض قرار دیا اور فرمایا:"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔"
محترم قارئین کرام یہ تعلیم ہی ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ ترقی کا راز علم میں ہے، مگر وہ علم جو ایمان و اخلاق کے ساتھ ہو۔
حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زندگی ہر ایک کے لئے کامل نمونہ ہے: یاد رہے کہ عبادات، معاملات، اَخلاقیات، سختیوں اور مشقتوں پر صبر کرنے میں اورنعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں ، الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں اور ہر پہلو کے اعتبار سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک زندگی اور سیرت میں ایک کامل نمونہ موجود ہے، لہٰذا ہر ایک کو اور بطورِ خاص مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اَقوال میں،اَفعال میں ، اَخلاق میں، کردار میں ، حتی کہ اپنے دیگر احوال میں بھی سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰ ی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک سیرت پر عمل پیرا ہوں اور اپنی زندگی کے تمام معمولات میں سیّد العالَمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی کریں۔
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب’’شانِ حبیب الرحمٰن ‘‘ میں اس آیت (جو آیت اوپر گزر چکی ہے ) پر بہت پیارا کلام فرمایا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سرکارِ اَبد قرار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک ذات ہر درجے اور ہر مرتبے کے انسان کے لئے نمونہ ہے،جیسے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے توکُّل کا حال یہ تھا کہ دو دوماہ تک گھر میں آگ نہیں جلتی، صرف کھجوروں اور پانی پر گزارہ ہوتا، توامت کے مَساکین کو چاہئے کہ ان مبارک حالات کو دیکھیں اور صبر سے کام لیں۔
اسی طرح جو سلطنت اور بادشاہت کی زندگی گزار رہا ہے، تو وہ ان حالات کا ملاحظہ کرے، کہ مکہ مکرمہ فتح ہو گیا، تمام وہ کفار سامنے حاضر ہیں، جنہوں نے بے انتہا تکلیفیں پہنچائی تھیں ، آج موقع تھا، کہ ان تمام گستاخوں سے بدلہ لیا جائے مگر ہوا یہ کہ فتح فرماتے ہی عام معافی کا اعلان فرما دیا، کہ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے ا س کو امن ہے،جو اپنا دروازہ بند کرلے اس کو امن ہے، جو ہتھیار ڈال دے ا س کو امن ہے، الغرض،حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر دس بھائیوں نے چند گھنٹے ظلم و ستم کیاجس کے نتیجے میں ایک مختصر عرصے تک آپ آزمائشوں میں مبتلا رہے اور جب وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سلطنت میں غلہ لینے حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ‘‘ آج تم پر کوئی سختی نہ ہو گی، اللہ تمہاری مغفرت فرما دے۔
مگر حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حال یہ ہے کہ آپنے 13 سال تک اپنے او پر اہلِ مکہ کی سختیاں برداشت کیں ، صحابہ ٔکرام، اہلِ بیت ِعظام،ان کے گھر والے اور ان حضرات کی جان و مال، عزت وآبرو سب ہی خطرے میں رہے، اورآخر کار دیس کو چھوڑ کر پردیسی ہونا پڑا، مگر جب اپنا موقع آیا تو سب کو معاف فرما دیا،لہٰذاقیامت تک کے سَلاطین اس کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں ۔
اسی طرح اگر کوئی مالداری اور خوشحالی کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو ان حالات کو ملاحظہ کرے کہ ایک شخص کے کھیت میں لمبی ککڑی پیدا ہوئی، تحفہ کے طور پر بارگاہ میں حاضر کی، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے عِوَض میں ایک لپ بھر سونا عنایت فرمایا۔ایک بار بکریوں سے بھرا ہوا جنگل حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ملکیت میں آیا،کسی نے عرض کی: یاحَبِیبَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اب اللہ تعالیٰ نے حضور کو بہت ہی مالدار بنا دیا۔ ارشادفرمایا: ’’ تو نے میری مالداری کیا دیکھی ؟عرض کی: اس قدر بکریاں ملکیت میں ہیں ۔ ارشاد فرمایا: جا سب تجھ کو عطا فرما دیں ۔ وہ اپنی قوم میں یہ مال لے کر پہنچے اور قوم والوں سے کہا : اے لوگو!ایمان لے آؤ،رب کی قسم! محمدٌ رَّسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اتنا دیتے ہیں کہ فقر کاخوف نہیں فرماتے۔ حضرت عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایک بار اتنا دیا کہ وہ اٹھا نہ سکے، لہٰذا مالدار یہ واقعات اپنے خیال میں رکھیں اور سنت مصطفی ﷺ کے مطابق اپنی زندگی گزاریں ۔
اور اگر کسی کی زندگی اہل و عیال کی زندگی ہے، تو وہ یہ خیال کرے کہ میری تو ایک یا دو یا زیادہ سے زیادہ چار بیویاں ہیں اور کچھ اولاد مگر محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی 9 بیویاں ہیں ، اولاد اور اولاد کی اولاد،غلام، لونڈیاں ، مُتَوَسِّلین اور مہمانوں کا ہجوم ہے، پھر کس طرح ان سے برتاؤ فرمایا اور اسی کے ساتھ ساتھ کس طرح رب عَزَّوَجَلَّ کی یاد فرمائی۔
ایسے ہی اگر کوئی تارک الدنیا اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو غارِ حرا کی عبادت، وہاں کی ریاضت، دنیا کی بے رغبتی کو دیکھے۔سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوت و طاقت کا یہ حال ہے کہ جنگ ِحُنَین میں آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خچر پر تنہا رہ گئے، مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے، کفار نے خچر کو گھیر لیا،حضرت عباس اور ابو سفیان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا باگ پکڑےہوئے تھے، جب ملاحظہ فرمایا کہ کفار نے یلغار کی ہے تو خچر سے اترے اور فرمایا: ہم جھوٹے نبی نہیں ہیں ، ہم عبد المطلب کے پوتے ہیں ، اس پرکسی کی ہمت اور جرأت نہ ہوئی کہ سامنے ٹھہرجاتا۔
ابو رکانہ عرب کا مشہور پہلوان تھا،جو کبھی بھی کسی سے مغلوب نہ ہوتا تھا،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین بار اسے زمین پر دے مارا، وہ اسی پر حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مداح بن گیا۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رحم و کرم کا یہ حال کہ نہ کبھی کسی کو برا فرمایا نہ خادم یا اہلِ خانہ کو ہاتھ سے مارا (لہٰذا طاقت اور قوت رکھنے والے ان حالات پر غور کریں ) غرض کہ ساری قومیں (اور ہر مرتبے کے انسان سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات مبارک کو) اپنے لئے نمونہ بنا کر دنیا میں آرام اور ہدایت سے رہ سکتے ہیں۔( شان حبیب الرحمٰن، ص۱۵۸-۱۶۰، ملخصاً)
پورے کلام کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیرتِ نبوی ﷺ ہر عہد، ہر قوم، ہر ذہن اور ہر مکتب فکر کے لیے ایک زندہ منشورِ حیات ہے۔
اگر دنیا ظلم، لالچ اور بے سکونی سے نجات چاہتی ہے تو اُسے واپس اُس چراغ (ﷺ) کی طرف لوٹنا ہوگا جس نے اندھیروں میں روشنی کی، غلاموں کو انسانیت بخشی، اور جہالت کے ریگزار میں علم و عدل کے چشمے جاری کیے۔ سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی حاصل کرنا صرف مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ انسانی بقا کی ضمانت ہے۔
یاد رکھیں ! پیغمبر اعظم ﷺ کا پیغام وقت اور جگہ کا محتاج نہیں — وہ کل بھی رہنما تھے، آج بھی ہیں، اور قیامت تک رہیں گے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی کامل طریقے سے پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
فقط والسلام
