عقیدت یا جہالت؟ مزارات پر تالے اور دھاگوں کی رسم کا علمی جائزہ
رشحات فکر :انیس الرحمن حنفی رضوی۔ بہرائچ شریف یوپی
برِّ صغیر خصوصاً برصغیر کی مذہبی فضا میں مزاراتِ اولیاء کو ہمیشہ سے ایک روحانی مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ مقامات تاریخِ اسلام کے اُن روشن ابواب کی یادگار ہیں جہاں اہلِ اللہ نے اپنی زندگیاں اصلاحِ عقیدہ، تزکیۂ نفس اور محبتِ رسول ﷺ کے فروغ میں صرف کیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ وقت کے ساتھ بعض ایسی رسوم ان مزارات کے ساتھ وابستہ ہو گئیں جو نہ اُن بزرگوں کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی کتاب و سنت کے مزاج سے۔ ان رسوم میں تالے باندھنے اور دھاگے گانٹھنے کی روایت نمایاں ہے، جو آج ایک سنجیدہ علمی و اصلاحی گفتگو کا تقاضا کرتی ہے۔
چند روز قبل راقم کو گجرات کے شہر راجکوٹ میں ایک بزرگِ دین کی بارگاہ میں حاضری کا موقع ملا۔ مقصد وہی تھا جو ہر سنی مسلمان کا ہونا چاہیے: فاتحہ خوانی، ایصالِ ثواب اور ان نفوسِ قدسیہ کی نسبت سے روحانی تازگی کا حصول۔ مزار کی فضا میں عقیدت کا رنگ نمایاں تھا، زائرین خاموشی سے دعا و درود میں مشغول تھے۔ مگر فاتحہ کے بعد جب نگاہ مزار کے پہلو میں واقع ایک کھڑکی پر پڑی تو منظر چونکا دینے والا تھا۔ وہاں بے شمار تالے لٹک رہے تھے اور مختلف رنگوں کے دھاگے بندھے ہوئے تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ لوگ اپنی منتوں کی قبولیت کی نیت سے یہ تالے باندھتے اور دھاگے گانٹھتے ہیں، اور مراد پوری ہونے پر واپس آ کر انہیں کھولتے ہیں۔ دل بے اختیار پکار اٹھا: افسوس، صد افسوس!
یہ افسوس محض ایک ظاہری منظر پر نہیں بلکہ اس فکری انحراف پر ہے جو رفتہ رفتہ دین کے نام پر جڑ پکڑ لیتا ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کا مسلک اس باب میں نہایت واضح ہے کہ نفع و ضرر کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ انبیاء و اولیاء علیہم الرضوان کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام عطا فرمایا وہ عطائی اور غیر مستقل ہے۔ اُن کے وسیلہ سے دعا کرنا مشروع اور جائز ہے، جیسا کہ قرآنِ مجید کا ارشاد ہے: وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ۔ اسی اصول کی شرح کرتے ہوئے امام احمد رضا خان نے تصریح فرمائی کہ توسل درحقیقت اللہ ہی سے سوال کرنا ہے، مگر اس کے محبوب بندوں کی نسبت کے
صدقے سے۔ پس وسیلہ کا اثبات اہلِ سنت کا شعار ہے، اور اس کا انکار گمراہی۔
مگر یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا تالے باندھنا اور دھاگے گانٹھنا اسی مشروع وسیلہ کا حصہ ہے؟ کیا عہدِ نبوی ﷺ، صحابۂ کرام یا ائمۂ مجتہدین سے اس طرزِ عمل کی کوئی نظیر ملتی ہے؟ وسیلہ ایک روحانی نسبت اور دعائی تعلق کا نام ہے، نہ کہ کسی مادی شے کی تاثیر کا۔ جب ایک مخصوص تالہ یا دھاگہ قبولیتِ دعا کے لیے لازم سمجھا جانے لگے تو یہ تصور شریعت کی دلیل سے خالی ہے۔ اگر کوئی اسے بذاتِ خود مؤثر سمجھے تو یہ اعتقادی فساد ہے، اور اگر محض علامت کہہ کر اسے دینی عمل کا درجہ دے تو یہ بدعت کے قریب تر ہے، کیونکہ شریعت نے اس کی اصل بیان نہیں کی۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو وہ استحصالی نظام ہے جو بعض مزارات کے گرد پروان چڑھ چکا ہے۔ بعض جاہل مجاورین صاحبِ مزار کے نام پر عوام کو اس بات کا یقین دلاتے ہیں کہ مخصوص نذرانہ یا مخصوص عمل کے بغیر منت قبول نہ ہوگی۔یوں عقیدت کو ایک معاشی ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اولیاءِ کرام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، جنہوں نے اپنی حیاتِ طیبہ میں اخلاص، فقر اور توکل کی مثال قائم کی۔ ان کے نام پر لوگوں کو اوہام میں
مبتلاکرنا اور مالی فائدہ اٹھانا درحقیقت اُنہی کی نسبت کو مجروح کرنا ہے۔ یہ رسم ایک وسیع تر فکری خلا کی علامت ہے۔ جب عوام کو وسیلہ کا صحیح مفہوم نہیں سکھایا جاتا تو وہ مادی علامتوں کو ہی وسیلہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ دعا کی روح اخلاص اور توکل میں ہے، نہ کہ تالے کی زنجیر میں۔ اللہ تعالیٰ تک رسائی گانٹھ باندھنے سے نہیں بلکہ دل کے بندھن کھولنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر اسلامی معاشرہ اپنے اعتقادی شعور کو مضبوط نہ کرے تو رسمیں عقیدہ بن جاتی ہیں اور خرافات تقدس کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مزارات کی اصل روحانی حیثیت کو بحال کیا جائے۔ وہاں قرآن و سنت کی تعلیم عام ہو، وسیلہ کے مشروع مفہوم کو واضح کیا جائے، اور ہر اُس رسم کی علمی انداز میں نشاندہی کی جائے جو دین کے نام پر رائج ہو کر بھی دلیلِ شرعی سے خالی ہو۔ اہلِ سنت کا معتدل منہج یہی ہے کہ اولیاء کا ادب باقی رہے، وسیلہ کا اثبات برقرار رہے، مگر خرافات اور استحصال کی بیخ کنی ہو۔ جب علم اور عقیدت کا امتزاج قائم ہوگا تو مزارات واقعی ہدایت کے مراکز بنیں گے، نہ کہ اوہام کی علامت۔ یہی ایک بیدار اور باشعور دینی معاشرے کی پہچان ہے، اور یہی اس موضوع پر ہماری تنقید کا اصل حاصل۔
