Mar 15, 2026 02:37 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:

12 Mar 2026
2 mins read

ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:

محمد قمرالزماں نوری مصباحی راج محلی:         خطیب وامام اقرا مسجد، ٹیٹاگڑھ کولکاتا ۱۱۹

           *نام و نسب:*  اسم گرامی عائشہ، لقب صدیقہ، خطاب ام المؤمنین اور کنیت ام عبداللہ۔ 

           سلسلۂ نسب اس طرح ہے عائشہ بنت حضرت ابوبکر صدیق بن ابو قحافہ بن عثمان بن عامر بن کعب بن سعد بن قیم بن مرہ بن کعب بن لوئی بن فہر بن مالک۔ 

           اور ماں کی طرف سے سلسلۂ نسب اس طرح ہے، عائشہ بنت ام رومان بنت عامر بن عوعیر بن عبد شمس بن عتاب بن اوینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔۔۔۔ اس سلسلۂ نسب کے اعتبار سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا باپ کی طرف سے قریشیہ اور ماں کی طرف سے کنانیہ ہیں، یعنی رسول کریمﷺ اور حضرت عائشہ صدیقہ کا ساتویں، آٹھویں پشت پر جاکر مل جاتا ہے۔ 

           *سن ولادت، نکاح اور رخصتی:*

           شہنشاہ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے پانچ یا چھ سال کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ولادت ہوئی۔ ۔۔۔ حضور ﷺ نے سب سے پہلے شہر مکہ کی مشہور تاجر بیوہ ملکۂ عرب حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد سے نکاح فرمایا، اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر مبارک پچیس برس اور ام المومنین

حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی عمر شریف چالیس برس کی تھی۔۔۔۔اور ہجرت سے تین سال قبل جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف پچاس سال اور خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر پینسٹھ سال کی تھیں، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اس دار فانی سے دار بقا کی طرف انتقال کر گئیں۔۔۔۔ ان کے انتقال سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بےحد رنج و ملال ہوا، کیونکہ وہ آپ ﷺ کی تسکین روح اور نہایت ہی رفیق و غمگسار بیوی تھیں۔۔۔۔ راحت و غم، تکلیف و آسائش و غمی ہر موقع پر وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہمدردی کرتیں، اس لیے ظاہر ہے کہ ان کی جدائی نے آپ ﷺ کو کس قدر غمگین کردیا تھا، آپ ہمیشہ ملول خاطر رہتے۔۔۔۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مسلسل فکر مند دیکھ کر خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے پاس آئیں اور عرض کی! یا رسول اللہ: آپ دوسرا نکاح

فرما لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: کس سے! حضرت خولہ نے عرض کی! حضور ﷺ، بیوہ و کنواری دونوں طرح کی لڑکیاں موجود ہیں، جس کو آپ پسند فرمائیں، اس کے متعلق گفتگو کی جائے، فرمایا: وہ کون ہیں؟ حضرت خولہ نے عرض کیا کہ بیوہ تو سودہ بنت زمعہ ہیں اور کنواری عائشہ بنت ابوبکر ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر ہے, تم دونوں سے بات کرلو۔۔۔۔ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بات کی، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبول فرما لیا اور جس وقت ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر شریف چھ سال کی تھی اس وقت ان کا نکاح رحمت دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا گیا، چھ سال کی کمسنی کی بنا پر بروقت رخصتی نہیں ہوسکی، جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نو برس کی ہوئیں تب رخصتی کی گئی۔ 

حضرت عائشہ صدیقہ ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی

           حضرت سیدنا عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سرکارِ دوعالمﷺ نے ان سے فرمایا: میں نے خواب میں دوبار تمہیں دیکھا، میں نے دیکھا کہ تم ریشمی کپڑوں میں لپٹی ہوئی ہو، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی زوجہ ہیں، ان سے پردہ ہٹائیے! جب پردہ ہٹاکر دیکھا تو سامنے تم تھیں۔۔۔۔ لھذا میں نے اپنے من میں کہا کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ہوکر رہے گا۔ ( صحیح البخاری، کتاب: مناقب الانصار، صفحہ:۶۵۵) 

 

  حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ کی خوش بختی:

           حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: " أنت زوجى فى الدنيا والآخرة " تم دنیا و آخرت میں میری زوجہ ہو۔ ( مستدرک الحاکم، کتاب: معرفۃ الصحابة) 

  *ام المؤمنین حضرت عائشہ سے حضور ﷺ کی محبت:*

           مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کے عقد نکاح میں کل نو یا گیارہ ازواجِ مطہرات تھیں لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبوب ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رکھتے تھے، یہ بات صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں معروف و مشہور تھی، اسی لیے کوئی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں تحفے تحائف بھیجنے کا ارادہ رکھتا تو ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ والی باری میں بھیجتا۔ 

           حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا، یارسـول الـلهﷺ! آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں، ارشاد فرمایا: عائشہ کو، عرض کی! آقا ﷺ مردوں کے متعلق پوچھ رہا ہوں، فرمایا: عائشہ کے باپ کو۔ ( بخاری شریف) 

           ایک بار سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سواری کا اونٹ بدک گیا اور ان کو لےکر ایک طرف بھاگا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس قدر بے قرار و بے چین ہوئے کہ بے اختیار زبان مبارک سے نکل گیا " واعروساہ " ہائے میری دلہن۔ 

           ابوداؤد کی روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے یا الله جو میری طاقت میں ہے اس کے مطابق عادلانہ و منصفانہ سلوک کرنے سے باز نہیں اور جو میرے امکان سے باہر ہے اس کو معاف فرمانا، مطلب یہ کہ میں اپنی ساری ازواج کے ساتھ لین دین، رہن سہن اور دیگر معاشرتی معاملات میں بھرپور انصاف و رواداری رکھتا ہوں مگر قلبی رجحان پر قابو نہیں، وہ عائشہ کی طرف زیادہ مائل ہے۔ ( مقالات فیضان اشرف، ۲۰۰۲ء، صفحہ: ۱۹۰) 

  *سیدہ عائشہ صدیقہ سے سیدہ فاطمہ کی محبت:* 

           حضرت سیدۂ کائنات فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم ہوا کہ اے فاطمہ! تم مجھ سے محبت رکھتی ہو تو عائشہ سے محبت رکھو کہ میں اسے چاہتا ہوں۔۔۔ چنانچہ " صحیح مسلم " میں ہے کہ رسول کریمﷺ نے حضرت سیدہ فاطمہ خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: میری پیاری بیٹی! جس سے میں محبت کرتا ہوں، کیا تم بھی اس سے محبت رکھتی ہو؟ عرض کی! جی بالکل ( جسے آپ چاہیں میں بھی ضرور اسے چاہوں گی) فرمایا: تو تم اس عائشہ سے محبت رکھو۔ ( صحیح مسلم، کتاب: فضائل الصحابة، باب: فی فضائل عائشہ) 

  *حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ کی برکت:* 

           حضرت سیدنا عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی ہمشیرہ حضرت سیدہ آسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عارضی طور پر ہار لے رکھا تھا جو کسی سفر میں گم ہوگیا۔۔۔۔ لھذا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کئی حضرات کو اس ہار کی تلاش میں روانہ کیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا، اور بعض حضرات نے بنا وضو نماز پڑھ لی۔۔۔۔ پھر مصطفیٰ جان رحمت ﷺ سے پانی نہ ملنے کی شکایت کی تو اس پر آیت تیمم نازل ہوئی۔

           حضرت سیدنا ٱسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ سے عرض کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ جب بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر کوئی آزمائش آئی اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورتی کے ساتھ آپ کو اس سے پار نکال دیا۔۔۔۔ اور اس حکم شریعت سے عامۃ المسلمین کو بھی برکت عطا فرما دی۔۔۔۔ یعنی  حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ کی خوش بختی:

           حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: " أنت زوجى فى الدنيا والآخرة " تم دنیا و آخرت میں میری زوجہ ہو۔ ( مستدرک الحاکم، کتاب: معرفۃ الصحابة) 

  *ام المؤمنین حضرت عائشہ سے حضور ﷺ کی محبت:*

           مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کے عقد نکاح میں کل نو یا گیارہ ازواجِ مطہرات تھیں لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سب سے زیادہ محبوب ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو رکھتے تھے، یہ بات صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں معروف و مشہور تھی، اسی لیے کوئی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں تحفے تحائف بھیجنے کا ارادہ رکھتا تو ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ والی باری میں بھیجتا۔ 

           حضرت عمر بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا، یارسـول الـلهﷺ! آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں، ارشاد فرمایا: عائشہ کو، عرض کی! آقا ﷺ مردوں کے متعلق پوچھ رہا ہوں، فرمایا: عائشہ کے باپ کو۔ ( بخاری شریف) 

           ایک بار سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سواری کا اونٹ بدک گیا اور ان کو لےکر ایک طرف بھاگا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس قدر بے قرار و بے چین ہوئے کہ بے اختیار زبان مبارک سے نکل گیا " واعروساہ " ہائے میری دلہن۔ 

           ابوداؤد کی روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے یا الله جو میری طاقت میں ہے اس کے مطابق عادلانہ و منصفانہ سلوک کرنے سے باز نہیں اور جو میرے امکان سے باہر ہے اس کو معاف فرمانا، مطلب یہ کہ میں اپنی ساری ازواج کے ساتھ لین دین، رہن سہن اور دیگر معاشرتی معاملات میں بھرپور انصاف و رواداری رکھتا ہوں مگر قلبی رجحان پر قابو نہیں، وہ عائشہ کی طرف زیادہ مائل ہے۔ ( مقالات فیضان اشرف، ۲۰۰۲ء، صفحہ: ۱۹۰) 

  *سیدہ عائشہ صدیقہ سے سیدہ فاطمہ کی محبت:* 

           حضرت سیدۂ کائنات فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم ہوا کہ اے فاطمہ! تم مجھ سے محبت رکھتی ہو تو عائشہ سے محبت رکھو کہ میں اسے چاہتا ہوں۔۔۔ چنانچہ " صحیح مسلم " میں ہے کہ رسول کریمﷺ نے حضرت سیدہ فاطمہ خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: میری پیاری بیٹی! جس سے میں محبت کرتا ہوں، کیا تم بھی اس سے محبت رکھتی ہو؟ عرض کی! جی بالکل ( جسے آپ چاہیں میں بھی ضرور اسے چاہوں گی) فرمایا: تو تم اس عائشہ سے محبت رکھو۔ ( صحیح مسلم، کتاب: فضائل الصحابة، باب: فی فضائل عائشہ) 

  *حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ کی برکت:* 

           حضرت سیدنا عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی ہمشیرہ حضرت سیدہ آسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عارضی طور پر ہار لے رکھا تھا جو کسی سفر میں گم ہوگیا۔۔۔۔ لھذا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے کئی حضرات کو اس ہار کی تلاش میں روانہ کیا یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا، اور بعض حضرات نے بنا وضو نماز پڑھ لی۔۔۔۔ پھر مصطفیٰ جان رحمت ﷺ سے پانی نہ ملنے کی شکایت کی تو اس پر آیت تیمم نازل ہوئی۔

           حضرت سیدنا ٱسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ سے عرض کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ جب بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر کوئی آزمائش آئی اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورتی کے ساتھ آپ کو اس سے پار نکال دیا۔۔۔۔ اور اس حکم شریعت سے عامۃ المسلمین کو بھی برکت عطا فرما دی۔۔۔۔ یعنیآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی برکت سے ہمیں تیمم وغیرہ کی رخصت اور احکام نصیب ہوئے۔ ( عظمت صحابہ، صفحہ: ۲۲۲) 

                         *خانہ داری:*

حضور ﷺ جب ہجرت کرکے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو بنی نجار کے محلہ میں مسجد نبوی شریف کے ارد گرد کئی حجرے تھے، انہیں ایک حجرے میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اقامت پزیر ہوئے اور یہ مسجد نبوی ﷺ کے مشرقی جانب واقع تھا، اس حجرے کا ایک دروازہ مسجد نبوی ﷺ کے اندر مغرب رخ پر واقع تھا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اسی دروازے سے ہوکر داخل مسجد ہوا کرتے تھے، یہی حجرہ شریف ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مسکن بنا۔ 

           حجرہ مبارک چھ سات ہاتھ چوڑا، دیواریں مٹی کی اور چھت پتیوں اور ٹہنیوں سے بنائی گئی تھی، چھت کی بلندی صرف اس قدر تھی کہ کوئی بھی شخص کھڑا ہوکر چھو سکتا تھا، دروازہ ایک پلہ تھا، پردہ کے بطور کمبل لٹکا رہتا تھا، گھر کا کل اثاثہ ایک چارپائی، ایک چٹائی، ایک بستر، ایک تکیہ، دو آٹا رکھنے کےلیے مٹکے، پانی کا ایک برتن اور ایک پیالہ تھا۔۔۔۔ اس غریبانہ ماحول میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بحسن و خوبی خانہ داری کے امور انجام دیئے اور صبر و استقلال کے ساتھ زندگی بسر فرمائی۔ 

    *تربیت حضرت عائشہ صدیقہ:*

           سرکارِ دوعالــــــــــمﷺ اگرچہ حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بےپناہ محبت و الفت کا برتاؤ کرتے تھے اور ان کو دل و جان سے چاہتے تھے مگر اس کے ساتھ ان کی تعلیم وتربیت کا بھی بدرجہ کمال خیال کرتے تھے، اور ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈراتے رہتے، جہاں کہیں کوئی خطا یا لغزش سرزد کرتیں فوراً آگاہ فرماتے۔ 

           ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی برائی بیان کرتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ تو اتنی سی ہے یعنی پستہ قد ٹھگنی ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فوراً ٹوکا اور فرمایا کہ یقین جان تونے ایسی بات بول دی ہے کہ اگر اسے سمندر میں بھی ملا دیا جائے تو اسے بگاڑ دے۔ ( مشکوۃ شریف) 

           حضور رحمت عالم ﷺ اکثر زہد فی الدنیا اور فکر آخرت اور خدا ترسی کی نصیحتیں فرماتے رہتے تھے۔۔۔۔ ایک مرتبہ معلم کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عائشہ چھوٹے گناہوں سے بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا مواخذہ کرنے والا موجود ہوگا۔ ( مشکوۃ شریف) 

           ایک مرتبہ سرکارِ دوعالــــــــــمﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ! اگر تو آخرت میں مجھ سے ملنا چاہتی ہے تو تجھے دنیا میں اتنا سامان کافی ہونا چاہیے جتنا مسافر اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے، اور مالداروں کے پاس بیٹھنے سے پرہیز کر، اور کسی کپڑے کو پرانا سمجھ کر پہننا مت چھوڑ جب تک تو اس کو پیوند لگا کر نہ پہن لیں۔ ( مشکوۃ شریف) 

                *اشاعت علم دین :*

           ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شمار میدان علم میں جلیل القدر صحابہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔۔۔۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہازبردست فقیہہ، مفتیہ تھیں۔۔۔۔ جلیل القدر اکابرین صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کے پاس قاصد بھیج کر مسائل معلوم کیا کرتے تھے۔۔۔۔ ہر سال حج بیت اللہ کو تشریف لے جاتی تھیں اور اطراف و اکناف کے شہروں سے برابر مسلمانوں کی جماعتیں آتیں اور آپ کے خیمہ کے باہر کھڑے ہوکر مسائل معلوم کرتیں اور آپ جواب دیتی تھیں۔۔۔۔ مکہ معظمہ میں زمزم کے پاس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پردہ لگا کر بیٹھ جاتیں تو سوالات کرنے والوں کا ایک تانتا لگ جاتا۔۔۔۔حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۴۸/ سال باحیات رہیں اور اس دوران مسلسل خدمت علم دین کرتی رہیں۔۔۔۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محدثین نے روایات حدیث کی تعداد، ۲۲۱۰/ بتلائی ہے۔ 

                 *عبادت و ریاضت :* 

           ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے وقت کے منفرد المثال عابدہ، زاہدہ اور پارسا خاتون خانہ تھیں۔۔۔۔ آپ اکثر و بیشتر روزے سے رہا کرتی تھیں اور نماز نفل بھی بہت پڑھتی تھیں۔۔۔۔ روزانہ چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھتی اور فرماتی تھیں کہ میرے باپ بھی اگر قبر سے اٹھ کر آ جائیں تب بھی میں نماز چاشت پڑھنا ترک نہیں کروں گی، مطلب یہ کہ ان کی خدمت گزاری بھی میرے آڑے نہیں آئے گی۔۔۔ تہجد کی بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہمیشہ پابند رہیں۔۔۔۔ خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ ایک بار دوزخ یاد آ گئی تو رونا شروع کردیا، حضور ﷺ نے رونے کا سبب دریافت کیا تو عرض کیا! مجھے دوزخ کا خیال آگیا اس لیے رو رہی ہوں۔ ( مشکوۃ شریف، بحوالہ: مقالات فیضان اشرف، صفحہ: ۱۹۱) 

           ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دربارِ رسالت ﷺ میں عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! جب سے آپ منکر نکیر کی آواز اور قبر کے بھینچنے کا ذکر کیا ہے اسی وقت سے مجھے کسی چیز سے تسلی نہیں ہوئی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایا: اے عائشہ! منکر نکیر کی آواز مومن کے کانوں میں ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے آنکھوں میں سرمہ، اور قبر کا مومن کو بھینچنا ایسا ہوتا ہے جیسے کسی کے سر میں درد ہو اور اس کی مشفق آہستہ آہستہ دبائے اور وہ اس سے راحت و آرام پائے، اور فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کرنے والوں کےلیے بڑی خرابی ہے، وہ قبر میں اس طرح دبائے جائیں گے جیسے انڈے پر پتھر رکھ کر دبایا جاتا ہے۔ ( مشکوۃ شریف) 

                  *تاریخ وفات :* 

           اللہ تعالیٰ کی نیک اور پیاری بندی ام المؤمنین، محبوبۂ رسول مقبول حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا منگل کی شب ۱۸/ رمضان المبارک ۵۸ھ، کو اس دار فانی سے ہمیشہ کےلیے کوچ کر گئیں۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ تمام مومنین و مومنات کو ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اتباع و پیروی میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

       *محمد قمرالزماں نوری مصباحی راج محلی:* 

        خطیب وامام اقرا مسجد، ٹیٹاگڑھ کولکاتا ۱۱۹

     صدر مدرس مدرسہ قادریہ فیضان تاج الشریعہ

   و جامعہ ام الخیر فاطمہ، نزد مدینہ مسجد، رہڑا، شمالی ۲۴/ پرگنہ     و سکریٹری مجلسِ علمائے اسلام زونل کمیٹی شمالی ۲۴/ پرگنہ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383