Feb 7, 2026 06:09 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت اورمرکز تربیت افتا اکابر علما اورارباب علم ودانش کی نظر میں

فقیہ ملت اورمرکز تربیت افتا اکابر علما اورارباب علم ودانش کی نظر میں

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت اورمرکز تربیت افتا اکابر علما اورارباب علم ودانش کی نظر میں

نبیرۂ  فقیہ ملت  مولانا محمد امجدرضاامجدی مصباحی

حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان نہ کوئی پیر زادہ تھے اور نہ استاذ زادہ، نہ امیر زادہ تھے اور نہ ہی رئیس زادہ، نہ کسی بڑے باپ کے پیٹے تھے اور نہ ہی کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھتے تھے،غرض کہ خاندانی یا مورثی کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی جو آپ کو اکابر و اصاغر علمائے کرام کی نگاہ میں معزز و محبوب بنانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی۔

  آپ کو جو بھی شہرت، عزت، مقبولیت، قدردانی اور پذیرائی حاصل ہوئی، اس کا سبب آپ کا خلوص، آپ کی خدمت دین، آپ کی گراں قدر خدمات اور وہ تصنیفات و تالیفات اور فتاواجات ہیں جو آج ہر لائیبریری اور دار الافتا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

    آپ کی یہی وہ گراں قدر خدمات ہیں جنھوں نے آپ کو تمام علمائے کرام کی نظر میں محبوب بنا دیا، اور بڑے بڑے علمائے کرام آپ کی خدمات کے قصیدے پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

   ہم ذیل میں چند علمائے کرام و مشائخ عظام کے تاثرات نقل کر رہے جن کو پڑھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان کا کتنا عظیم مقام و مرتبہ تھا۔

گل گلزار برکاتیت حضرت بابرکت ڈاکٹر سید محمدامین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف   اپنے تاثرات کا اظہار یوں فرماتے ہیں۔

”یقینا ًبلا مبالغہ میں ہندوستان کے مختلف صوبوں کے مختلف مدارس اوردارالعلوم کی دستاربندیوں کے جلسوں  میں شرکت کرنے کا شرف حاصل کرچکا ہوں لیکن آج کا یہ جلسہ دستاربندی اپنی نوعیت کا پہلا جلسہ ہے جس میں مجھے حاضر ہونے کا موقع ملا۔جیسا کہ ابھی یہ کہا گیا کہ برصغیر ہندوپاک کی یہ واحد درس گاہ ہے جہاں پر مفتیوں کی تربیت کی جاتی ہے اورانہیں فتویٰ نویسی سکھائی جاتی ہے، اس سلسلہ میں ہمارے مفتی صاحب فقیہ ملت کی خدمات بہت گراں قدر ہیں، آج کی برات کے سب سے عظیم دولہا ہیں فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمدامجدی۔(تاثر بموقع جشن دستار مفتیان اسلام) فقیہ ملت کے استاذ گرامی قائد ملت رئیس التحریر حضرت علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمۃ والرضوان یوں رقم طراز ہیں۔

”عزیز گرامی! حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمدامجدی دامت برکاتہم کو خداوند کریم نے بہت ہی خوبیوں سے نوازا ہے۔ وہ بلندپایہ اورراسخ العلم مدرس بھی ہیں، حاضر دماغ اور بالغ نظر مفتی بھی، خوش بیان اورنکتہ رس خطیب بھی اورفکرانگیز اورحقائق نگار مصنف بھی اوران ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ متواضع شریف النفس اور عالم باعمل بھی۔ (مقدمہ عجائب الفقہ ص ۱۵)

اور ایک مکتوب میں اپنے شاگرد رشید کے تعلق سے یوں  فرماتے ہیں۔

”آپ کو میں نجات اخروی کی پونجی سمجھتا ہوں، میں سیاہ کار کا سیاہ کار ہی رہا لیکن آپ نے مرضیات الٰہی کو پالیا۔ آپ کی ذات سے دین کو جو تقویت حاصل ہوتی ہے وہ میرے لئے باعث افتخار ہے۔ الدال علی الخیرکفاعلہ، جزاکم المولی تعالی احسن الجزاء( مکتوب علامہ ارشدالقادری بنام فقیہ ملت محررہ ۱۶؍۲؍۸۴) 

ممتاز الفقہاء محدث کبیر حضرت علامہ مفتی  ضیاء المصطفیٰ قادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی  عرس فقیہ ملت  میں اپنے تاثرات کا اظہار یوں کرتے ہیں۔

”رسول کریم ﷺ نے ارشادفرمایا’’من یرداللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین‘‘ اللہ جس کو بھلائی دینا چاہتا ہے اسے دین کا فقیہ بنا دیتا ہے توجسے دین کا فقہ ملا اسے بڑی بھلائی اور بڑی نعمتیں ملیں۔ اسی بنا پر رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا:”فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد “مطلب یہ کہ فقیہ کو شیطان اغوا نہیں کرسکتا۔‘‘

تو اس بنا پر فقیہ ملت علیہ الرحمہ بلاشبہ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اورمیں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آدمی کے پاس اخلاص کے ساتھ فقہ کا علم ہو تویقینا وہ اللہ کا ولی ہے اس وجہ سے کہ یہی بہت بڑی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فقیہ ملت کو بڑی سمجھ عطا کی اسی بنا پر انہوں نے بلاخوف لومۃ لائم پوری ہمت وشجاعت کے ساتھ دین کی باتیں ہر موڑ پر کہی ہیں۔ آپ کبھی نہ کسی بابا سے ڈرے اورنہ کسی بابو سے ڈرے، ہمیشہ وہ حق کو للکار کر پیش کرتے رہے۔اب ہمارے اندرہمت کی کمی اتنی ہوگئی ہے کہ بدمذہبوں کا رد کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ وہ خود ان خبثاء سے رشتہ داریاں قائم کرنے لگے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام اسے نظیر بناکر اپنے لئے کھلی چھوٹ فراہم کرلیتے ہیں۔

حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے اس معاملہ میں بھی بڑی سختی برتی، بلاشبہ برائی آدمی کے لئے زہر ہے مگر بدمذہب ایمان کے لئے زہرقاتل ہے۔ اس لئے بدمذہب کا قرب کسی طریقے پر اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔ ان سے نفرت رکھنی چاہئے جب یہ نفرت پیدا ہوگی تب آپ قوی الایمان ہوں گے۔

یہ تربیت افتاء کا قیام بھی فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے ذوق فقہی کی کھلی دلیل ہے جس کا فیض لوگوں کو بھی مل رہا ہے اوران کی قبرپر بھی ابر باراں بن کر برس رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کا فیض جاری رکھے اور فقیہ ملت کا وہ فیضان جواعلیٰ حضرت کی طرف سے آرہا ہے آپ لوگوں کے گھروں تک پہنچائے۔ آمین (تلخیص تاثرات محدث کبیر بموقعہ عرس فقیہ ملت)

شارح بخاری فقیہ عصرحضرت علامہ مفتی شاہ محمدشریف الحق صاحب قبلہ امجدی علیہ الرحمہ سابق سربراہ شعبہ افتاء جامعہ اشرفیہ مبارک پور یوں رقم طراز ہیں۔

”میرے برادر خواجہ تاش فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمدامجدی دامت برکاتہم علم وفضل، خشیت و تقویٰ اور اتباع شریعت میں یگانہ عصر ہیں۔ ان کی سب خوبیوں میں سب سے بڑی خوبی اورکمال یہ ہے کہ وہ دینی معاملے میں نہ مداہنت کرتے ہیں اورنہ کسی بڑے سےبڑے شخص سے مرعوب ہوتے ہیںاور نہ ناقدین کی بے جا تنقید کی پرواہ کرتے ہیں اورایک مفتی کی

یہی شان ہونی چاہئے جو آج کل قریب قریب مفقودہے۔میری دعا ہے کہ رب قدیر حضرت مفتی صاحب کو اسلام وسنیت کی طرف سے بہترین جزاء خیر عطا فرمائے۔ اوران کے فیض کو عام وتام کرے۔ آمین (فتاویٰ برکاتیہ ص ۱۴، ۱۵)

محقق عصر حضرت علامہ عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ لاہوراپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں۔

”فقیر آپ کی متعدد علمی اور گراں مایہ تصانیف کی زیارت کرچکا ہے۔ آپ کی تصانیف فقاہت اور افادیت عامہ کے حامل ہیں۔ مولائے کریم آپ کے فیوض کو وسعت عامہ فرمائے۔آپ کا انداز بلیغ و تربیت لائق تحسین ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔ آپ جیسی ہستیاں جہالت اور بے را روی کے اندھیروں میں مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کی تصانیف عالیہ مسلک اہلسنت وجماعت کے متاع بیش بہا ہیں اورخوشی کی بات یہ ہے کہ آپ پامال راہوں سے گریز کرتے ہوئے نئی نئی راہیں تلاش کرتے ہیں اوران میں کامرانی وارجمندی کے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں۔

دارالعلوم امجدیہ اہلسنت ارشدالعلوم اوجھاگنج ضلع بستی پاک وہند کے مدارس اہلسنت میں منفرد ادارہ ہے جس میں فارغ التحصیل علماء کو فتویٰ نویسی کی تربیت دی جاتی ہے۔ فتویٰ نویسی علم طب کی طرح ایسا فن ہے جو صرف پڑھنے سے نہیں آتا بلکہ کسی صاحب کمال کے قدموں میں سالہا سال بیٹھنے سے آتا ہے۔

دارالعلوم امجدیہ اہلسنت ارشدالعلوم کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس ادارہ کو برعظیم پاک وہند کے عظیم اور تجربہ کار مفتی فقیہ ملت حضرت مولانا جلال الدین احمد امجدی مدظلہ العالی کی قیادت وامامت حاصل ہے۔ زیر تربیت فضلا کو اپنی قسمت پر ناز کرنا چاہئے کہ انہیں ایسا باکمال استاذ اور مفتی راہنمائی کے لئے میسر ہے اوراہلسنت وجماعت کے مخیر حضرات کو چاہئے کہ اس ادارے کی دل کھول کر خدمت کریں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسے مفتی ساز ادارے پاک وہند کے ہر صوبے میں قائم ہوں۔ آمین (تحریر ۵؍۸؍۹۸ء)

شہزادہ شعیب الاولیاء مفکر ملت حضرت علامہ غلام عبدالقادر علوی صاحب قبلہ سجادہ نشین خانقاہ فیض الرسول وناظم اعلیٰ دارالعلوم فیض الرسول برائوں شریف استاذ گرامی فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب قبلہ سربراہ شعبہ افتاء کی قدآور فقہی بصیرت کی حامل شخصیت ادارئہ فیض الرسول کے اس گوہر نایاب کی حیثیت رکھتی ہے جس کی تابانی سے دور دور تک لوگ مستفیض ہورہے ہیں۔ (فتاویٰ فیض الرسول ج۲ ص۳۳)

حضرت فقیہ ملت ہم سب لوگوں کی طرف سے اور پوری دنیائے سنیت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے جو روش اپنائی اور جو طرز عمل اختیار کیا آج نہ جانے کتنے مدرسے اس کی تقلید کر رہے ہیں یا تقلید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں پٹنہ میں گیا وہاں بھی میں نے دیکھا کہ تربیت کا کچھ پروگرام شروع ہوا ہے تو مجھے دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی کہ سربراہ شعبۂ افتاء فیض الرسول نے جواوجھا گنج میں مرکز تربیت افتا شروع کیا تھا توبالکل فیضؔ کے اس شعر کو اگرمیں دہراؤں تو غلط نہ ہوگا۔

ہم نے جو طرز فغاں کی تھی قفس میں ایجاد

اب توگلشن میں وہی طرز ادا ٹھہری ہے

اب جہاں جہاں بھی مرکز تربیت افتا نظرآئے گا وہاں حضرت فقیہ ملت کا چہرہ چمکتا ہوا یقینا نظرآئے گا۔ (تاثرات بموقع جشن دستار مفتیان اسلام ۲۰۰۱ء) خواجہ علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفرحسین صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم نورالحق، چرہ محمدپور، فیض آباد فرماتے ہیں۔

فقہی سالنامہ ’’فتاویٰ مرکز تربیت افتاء‘‘ اور ماہنامہ کنز الایمان کا باب الافتاء ابتداء آفرینش سے میں بڑی ہی دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔

حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ دارالافتاء اور شعبۂ تربیت افتاء بھی عالم سکرات کی چند ہچکیاں لے کر خود ہی دم توڑدیں گے لیکن کرامت ہی ہے کہ وہ اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ جس طرح فقیہ ملت کی حیات میں ضوفشاں رہے اسی طرح آج بھی مثلاً بمثل سواء بسواء تابندہ ہیں۔ نہ انداز افتاء میں کہیں انحطاط وانحدار ہے اورنہ زبان وبیان کی سلاست ہی میں کہیں جھول جھال ہے۔ یقینا دارالافتا وشعبہ تربیت افتا میں کام کرنے والے حضرات اور ان کی نگرانی کرنے والے شخصیات کا کمال ہے کہ بانی مرکز تربیت افتا نے جس خلوص کی بنا پر اس کو قائمکیا تھا اخلاص کے ساتھ یہ حضرات بھی اس کے فروغ میں لگے ہوئے ہیں۔ مالک ومولیٰ سے دعا ہے کہ اس چمن کو ہمیشہ آباد وشاداب رکھے۔ آمین ثم آمین (مکتوب بنام مفتی ابرار احمد امجدی محررہ ۱۸؍جولائی ۲۰۰۳ء)

شیخ القرآن حضرت علامہ عبداللہ خاں صاحب قبلہ عزیزی علیہ الرحمہ الجامعۃ الاسلامیہ روناہی، ضلع فیض آباد اپنے تاثرات یوں بیان فرماتے ہیں۔

”توفیق ایزدی شامل حال ہوئی توآج علامہ مولانا مفتی جلال الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پاک پر حاضری کی، حسن نیت کے ساتھ مرکز تربیت افتا اور دارالعلوم ارشدالعلوم کا معائنہ کیا۔ حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ذات برکات سے میرے دیرینہ روابط تھے اور ان کی شخصیت سے میں ہمیشہ متاثر تھا وہ گوناگوں خصوصیات وامتیازات کے مالک تھے۔ میں ان کی محنت و جانفشانی کا ثمرہ مرکز تربیت افتاء اور دارالعلوم ارشدالعلوم کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا ایک ایسے مقام پر جہاں مسلمانوں کی آبادی خصوصاً اہل ثروت کی آبادی برائے نام ہے۔ ایک ایسے عظیم الشان ادارے ومرکز افتا کا قیام ہی بڑی محنت ومشقت کا کام ہے لیکن حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جس شان وبان کے بزرگ تھے اس کے لائق ادارہ میں اپنے چشم سر سے دیکھ رہا ہوں۔ یہاں دینی علوم کی تربیت کے سوا بڑی بڑی اونچی درس گاہوں سے فارغین فضلا کی تربیت و مشق فتویٰ نویسی کا کام جس ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے وہ نہ صرف لائق رشک ہے بلکہ ادارہ کے ذمہ داران کو مبارک باد دینے کے لائق بھی ہے۔

سالہاسال تک حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف فتویٰ نویسی کی بلکہ فتویٰ نویسی کی مشق بھی کرائی۔ بجا طورپر ان کو فقیہ ملت کہا جاتا ہے۔ ان کے وصال پر ملال کے بعدہم جیسے ظاہر بینوں کو یہ اندیشہ ہوگیا تھا کہ ایسی جگہ پر یہ عظیم الشان ادارہ کیسے ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔ لیکن حضرت مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فیض روحانی ہے کہ ارشدالعلوم اورمرکز افتاء یہ دومستقل ادارے ہیں اوردونوں عروج وارتقاء کے منازل طے کر رہے ہیں۔ مرکز افتاء میں جو دوسرے بڑے بڑے اداروں کے فضلا مشق فتویٰ نویسی کے کام پر مامور ہیں۔ میں نے ان سے کچھ آسان اورکچھ دقت طلب سوالات کئے ان فضلا نے اپنے معقول جواب سے احقر کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی اس سے یہ احساس پیدا ہو ا کہ حضرت مولانا مفتی محمدنظام الدین صاحب کی نگرانی اورجناب مولانا مفتی محمدابرارا حمد امجدی صاحب کی توجہ خاص سے مرکز افتا کا جواب ہندوستان کی سرزمین پر کم ہی مل پائے گا۔(رجسٹرتاثرات)

خطیب البراہین حضرت علامہ صوفی شاہ محمدنظام الدین صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم اہلسنت تنویرالاسلام امرڈوبھا، سنت کبیرنگر یوں تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔

”شیخ طریقت فقیہ ملت حضرت علامہ الشاہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ کی عبقری شخصیت محتاج تعارف نہیں آپ کے علمی و تصنیفی کارنامے ملک وبیرون ملک علم دوست عوام وخواص کے لئے مشعل راہ ہیں آپ کے فتوؤں اور فقہی تحقیقات کواکابرین اہل سنت نے قدرکی نگاہ سے دیکھایہاں پر کوئی ایسا ادارہ نہ تھا جہاں پر فضلا اسلام کو افتا کی تربیت دی جاتی۔

 اس خصوص میں حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ قابل صد ستائش ہیں جن کی نگاہ باطن نے اس دینی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا اورعین بے سروسامانی کے عالم میں ایک فقیدالمثال ادارہ کی بنیاد رکھی اوردیکھتے ہی دیکھتے انتہائی قلیل مدت میں دارالعلوم امجدیہ و مرکز تربیت افتاء کی پرشکوہ عمارت تعمیر کرادی اور افتا کی تربیت حاصل کرنے والے فضلاء اسلام کا نورانی قافلہ اوجھاگنج بستی میں اترنے لگا۔ اور افتاء کی مشق و تربیت کا کام باضابطہ طورپر شروع ہوگیا اور مسلسل کئی سالوںسے ہر سال مفتیان اسلام کی دستاربندی کا جشن انتہائی تزک واحتشام کے ساتھ دارالعلوم امجدیہ ارشدالعلوم اوجھاگنج بستی (جس کو حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمۃ کا مولد ومسکن اور مدفن ہونے کا شرف حال ہے)میں منایا جاتا ہے۔ اوراکابرین اہل سنت علماء ومشائخ کے مقدس ہاتھوں سے سند دستار سے فارغ ہونے والے مفتیان اسلام کونوازا جاتا ہے۔ فقیربرکاتی، قادری نوری رضوی اپنی کثیرمصروفیات کے باوجود بھی برابر شریک ہوتا ہے۔

دعا ہے کہ مولیٰ تعالیٰ جل وعلا اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل اس دینی گلشن کو سدابہار بنائے اورحضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے مرقد اطہر پر رحمت و نور کی بارش فرمائے۔ آمین وبہ نستعین

فقیہ اسلام حضرت علامہ قاضی عبدالرحیم صاحب قبلہ بستوی علیہ الرحمہ مرکزی دارالافتاء بریلی شریف اپنے تاثرات یوں بیان فرماتے ہیں۔

”مرکز تربیت افتاء دارالعلوم امجدیہ اہل سنت ارشدالعلوم اوجھاگنج ضلع بستی (یوپی) بسلسلہ امتحان طلبہ تربیت افتاحاضر ہوا، دارالعلوم کی وسیع وعریض شاندار عمارت کودیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا، بستی ضلع کے اداروںمیں یہ ادارہ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، تربیت افتاکا امتحان لیا مدرسہ کا معائنہ کیا اور لائبریری کا جائزہ لیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ادارہ کی عمارت اوراس سے متعلق تمام چیزیں شاندار طریقے سے آراستہ وپیراستہ ہیں۔ اورحضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی نوراللہ مرقدہ کے مزار شریف پر حاضری بھی دی۔ مسرت حاصل ہوئی۔ طلبہ کی سلیقہ مندی بھی قابل قدرہے۔

مولیٰ تعالیٰ سے دعا گو ہوں اس ادارہ کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور اہل سنت وجماعت کا ایک مضبوط قلعہ بنا دے جہاں علم وعرفاں کی بارش ہوتی رہے۔ اراکین مدرسہ اور بالخصوص صاحبزادگان حضرت مفتی صاحب قبلہ کو ہمیشہ خلوص حقیقی عطا فرمائے تاکہ ادارہ روز افزوں ترقی کرتا جائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین وعلی الہ اصحابہ اجمعین (رجسٹرتاثرات)

جامع معقول و منقول حضرت علامہ مفتی شبیرحسن رضوی صاحب قبلہ شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ روناہی فیض آباد فرماتے ہیں۔

”حضرت فقیہ ملت رحمۃ اللہ علیہ ایک متبحر عالم دین اور بہترین مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ فقہی جزئیات اورکلیات کا استحضار رکھنے والے زبردست فقیہ بھی تھے، ان کی حکمت ودانائی کی دودھیا چاندنی جہاں سنیت کو جگمگاتی رہی وہیں ان کے فقہی و قلمی فیضان سے عالم اسلام کے لاکھوں افراد روحانی تسکین اور دینی وعلمی زندگی حاصل کرتے رہے۔ حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے اس دارفانی سے رحلت فرماجانے سے دنیائے سنیت سوگوار ہوگئی اورعالم سنیت میں ایسا خلاء پیدا ہوگیا کہ اس عہد ’قحط الرجال‘ میں اس خلاء کا پر ہونا بظاہر غیرممکن معلوم ہوتا ہے، آج بھی نگاہیں گھوم گھوم کر اس پیکر اخلاص ومحبت اور نوردیدئہ مومنہ کو ڈھونڈھ رہی ہیں۔

حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمۃ نے اپنے وطن مالوف میں ایسا ادارہ قائم فرمایا کہ آج تک اپنا کوئی ایسا ادارہ قیام میں نہ آسکا، یعنی ’’مرکز تربیت افتا‘‘ اس ادارہ میں طلبہ کے اندرفتویٰ نویسی کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے اورانہیں رسم افتااورا آداب مفتی سے آشنا کیا جاتا ہے۔ ہر سال طلبہ فارغ التحصیل ہوکر اورسندافتاحاصل کرکے ہندوستان کے طول وعرض میں پھیل جاتے ہیں اورمسندافتا پر فائز ہوکر کتاب وسنت کے مطابق فتویٰ نویسی کا کام انجام دیتے ہیں۔ یہ فقیہ ملت کا ایسا عظیم اور شاہکار کارنامہ ہے جس کی وجہ سے ممدوح گرامی دنیائے سنت کے افق پر 

ستاروں کی مانند جگمگاتے رہیں گے، خدا کرے کہ اس ادارہ کا کاروان حیات اپنی منزل کی جانب بحسن وخوبی رواں دواں رہے۔ (کردارغازی فقیہ ملت نمبرص۱ مورخہ ستمبر ۲۰۰۱ء)

سماحۃ الشیخ حصرت علامہ عبدالشکور صاحب قبلہ سابق  شیخ الحدیث الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ

 ”آج سالانہ امتحان کے سلسلہ میں دارالعلوم امجدیہ اہلسنت ارشدالعلوم میں حاضر ہوا تربیت افتا کے طلبہ نے اچھا امتحان دیا۔ ان میں سے بعض نے خوش کن جوابات دے کر دل کومسرور کیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اساتذہ کرام نے توجہ سے کام کیا اور طلبہ نے لگن اورمحنت سے پڑھا ہے۔ افتا ایک اہم اورمشکل فن ہے جو کامل اور ماہر اساتذہ کی رہنمائی کے بغیرآسان نہیں۔ اس ادارہ میں محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی محمد نظام الدین صاحب رضوی صدر شعبۂ افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پور کی نگرانی اور حضرت مولانا مفتی ابرار احمد امجدی جیسے کامل استاذ اور ان کے ماتحت قابل وفاضل اساتذہ کی موجودگی میں تربیت افتا کا کام بحسن وخوبی انجام پارہا ہے۔

جو طلبہ بیرونی ہیں ان کے قیام وطعام کاادارہ کفیل ہے۔ دو وقت نہیں بلکہ تینوں وقت ادارہ کے دسترخوان پر سارے طلبہ آسودہ ہوتے ہیں اس زمانہ میں تعلیم وتربیت کے ساتھ طعام وقیام کی ذمہ داری نبھانا کتنا مشکل ہے ظاہر ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ مسلمان اس ادارہ کی طرف خاص توجہ دیں اور مالی تعاون کرکے عنداللہ ماجورہوں۔ میں دعا گو ہوں کہ مولیٰ تبارک وتعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ اس دینی ادارہ کو مزید ترقی دے۔(رجسٹرتاثرات)

صدر العلما حضرت علامہ محمداحمدصاحب قبلہ مصباحی مدظلہ سابق صدرالمدرسین الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور یوں رقم طراز ہیں۔

”مرکز تربیت افتاء دارالعلوم امجدیہ ارشدالعلوم اوجھاگنج ضلع بستی میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی بار بانی ادارہ حضرت فقیہ ملت کے جنازہ کے موقع پر حاضر ہوا تھا،اب کی بار امتحان سالانہ کے سلسلے میں آنا ہوا۔یہ دیکھ کر بے پایاں مسرت ہوئی کہ جو چمن حضرت مفتی صاحب نے لگایا تھا ان کے اخلاف نے نہ صرف یہ کہ اسے باقی رکھا بلکہ اس کی آرائش و زیبائش اور صوری و معنوی ترقی میں اضافہ بھی کیا۔

تربیت افتاء کا کورس حضرت کے انداز پر اب بھی جاری ہے جس کی ذمہ داری حضرت کے صاحبزادے مولانا ابراراحمد امجدی کے سر ہے۔ مزید یہ کہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور سے حضرت مفتی  محمدنظام الدین رضوی زیدت مکارمہ ومساعیہ بھی ہر ماہ تشریف لاتے ہیں اور زیر تربیت حضرات کے لکھے ہوئے فتویٰ دیکھتے، اصلاح دیتے اور مناسب ہدایات سے انہیں نوازتے ہیں جیسا کہ لکھے ہوئے فتاویٰ کی کاپیوںاور رجسٹروں کو خوددیکھنے سے مجھے معلوم ہوا۔ خدا کرے مفتی صاحب موصوف کی اس بیش بہا عنایت کے ثمرات مستحکم ہوں اور ان کی فیض رسانی کا سلسلہ خود فیض رساں اورعام تر اور وسیع تر ہو۔(رجسٹرتاثرات)

ادیب شہیر رئیس التحریر حضرت علامہ یٰسین اخترمصباحی علیہ الرحمہ بانی دارالقلم ،ذاکر نگر،نئی دہلی بیان فرماتے ہیں۔

”فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی کی شخصیت برصغیر ہندوپاک میں محتاج تعارف نہیں۔ دینی و علمی موضوعات پر تقریباً دو درجن مقبول عوام و خواص کتابوں کے مصنف ہیں۔ علم و فضل اورپاکیزہ اخلاق وکردار کے حامل ہیں۔ اتباع شریعت اور احتیاط وتقویٰ کے لحاظ سے نمونۂ سلف ہیں۔

خداکاشکر ہے کہ متعدد ہال اورکمرے اپنے جملہ لوازم کے ساتھ دارالعلوم امجدیہ کی تعمیری شان وشوکت میں اضافہ کر رہے ہیں جہاں تعلیم وتدریس نہ صرف اطمینان بخش بلکہ حوصلہ افزا اور شب وروز ترقی پذیر ہے، پرشکوہ صدر دروازہ کا بالائی حصہ اس عمارت کا ’’درۃ التاج‘‘ ہے جس پر حاصل شدہ ’’موئے مبارک‘‘  سایہ فگن ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مرکز تربیت افتاء آپ کی زندگی کے آخری ایام کی شاہ کار خدمت ہے جس 

میں مدارس اہل سنت کے فارغ التحصیل علماآپ کی سرپرستی ونگرانی میں فن فتویٰ نویسی کے آداب ورموز سے واقف ہورہے ہیں۔ ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ سے فتویٰ نویسی کی مشق کے لئے آپ نے ایک پانچ سالہ مراسلاتی کورس جاری کیا ہے جس سے آپ کےفیض کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔ (ماہنامہ کنزالایمان، دہلی اپریل۱۹۹۹ء)

سماحۃ الشیخ حجۃ العلم حضرت علامہ مفتی محمدقدرت اللہ صاحب قبلہ رضوی سابق شیخ الحدیث دارالعلوم تنویرالاسلام امرڈوبھا، سنت کبیرنگر اپنے تاثرات کا اظہار یوں فرماتے ہیں۔

” حضرت مولانا انواراحمد صاحب امجدی اور حضرت مولانا مفتی ابراراحمد صاحب امجدی کی دعوت پر جامعہ امجدیہ ارشدالعلوم اوجھاگنج میں مرکز تربیت افتاء کے تربیت پانے والے علماء کے امتحان کے لئے حاضر آیا۔ الحمدللہ سبھی حضرات بڑی محنت اور عرق ریزی سے شعبۂ افتاء کی تعلیم وتربیت حاصل کر رہے ہیں۔ امتحان میں مجھے ان حضرات کی حاضر جوابی اورہوشمندی سے بڑی مسرت حاصل ہوئی۔ اوریہ سب کچھ حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کا فیضان کرم اورشہزادگان حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ والرضوان کی محنتوں اور اخلاص کا اثر ہے۔ صمیم قلب سے میری دعا ہے کہ رب کریم بطفیل نبی رئوف ورحیم علیہ الصلاۃ والتسلیم اس ادارہ کو روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔ آمین (رجسٹرتاثرات)

ناشر مسلک رضویت مبلغ اسلام وسنیت حضرت علامہ محمد منشاتابش قصوری جامعہ نظامیہ لاہور اپنی تحریر میں اپنے تاثرات کا اطہار کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔

”انفرادی طورپر فتویٰ نویسی واشاعت کا سلسلہ قائم رہا… تاہم فتاویٰ کی باقاعدہ ٹریننگ اور تربیت کا کوئی مرکز قائم نہ ہوا اوریہ سعادت توازل سے ذوالجلال جل وا علی نے صاحب جمال وکمال صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلۂ جلیلہ سے حضرت مولانا الحاج الحافظ مفتی جلال الدین احمد امجدی دامت برکاتہم العالیہ کے لئے  ودیعت کر رکھی تھی۔” کل امر مرہون باوقاتہ “کے تحت اس کے قیام کا وقت آپہنچا۔دارالعلوم امجدیہ ارشدالعلوم اوجھاگنج ضلع بستی میں بنام مرکز تربیت افتاء ایک کامیاب مرکز ابھرا جس کی تین سالانہ کاوشوں کا مثبت رزلٹ قوم کے سامنے ہے۔ اس نہایت مقدس مشن کی سرفرازی کے لئے اکابر علمائے کرام ومشائخ عظام دامت برکاتہم العالیہ کی نگاہ التفات کی اشد ضرورت ہے۔ایک نظر کی آرزو میں ہے جہان آرزو

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فقیہ ملت کے اس شاندار مرکز کو ترقی و کامرانی سے نوازے۔آمین (تحریر ۲۲؍ذیقعدہ ۱۴۲۰ھ)

ادیب شہیر مبلغ سنیت حضرت مولانا عبدالمبین نعمانی صاحب قبلہ دارالعلوم قادریہ چریاکوٹ فرماتے ہیں۔

”فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ جماعت اہل سنت کی ایک نہایت قابل قدر اور محسن شخصیت کا نام ہے۔ تصنیف وتالیف اور تدریس وتبلیغ نیز فتویٰ نویسی کے ذریعہ آپ نے جو نمایاں دینی کارنامے انجام دئے ہیں انہیں بھلایا نہیں جاسکتا۔ بلاشبہ آپ کی ذات ایک انجمن تھی مگرافسوس کہ ۳؍جمادی الآخرۃ ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۳؍اگست ۲۰۰۱ء شب جمعہ میں آسمان فقہ کا یہ نیرتاباں غروب ہوگیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

 حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے زندگی کے آخری دور میں جو سب سے نایاب اور بے مثال کارنامہ انجام دیا ہے وہ مرکز تربیت افتاء ومدرسہ امجدیہ ارشدالعلوم اوجھاگنج بستی کا قیام چند ہی سال میں اس ادارے نے صرف یہی نہیں کہ کافی ترقی کی بلکہ شہرت و مقبولیت بھی حاصل کرلی اورکثیر تعدادمیں فارغ شدہ علماء افتا کی تربیت سے سرفراز ہوکر تدریس افتاء کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ جو حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے لئے بہترین صدقہ جاریہ بھی ہے۔ (تبصرہ برفتاویٰ مرکز تربیت افتا حصہ ۶)

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383