Mar 24, 2026 04:59 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اخلاصِ عمل و احضارِ نیت

اخلاصِ عمل و احضارِ نیت

08 Mar 2026
1 min read

اخلاصِ عمل و احضارِ نیت

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

    قال اللّٰہ تعالٰی:  وَمَآ اُمِرُوْ ٓا اِ لَّا لِیَعْبُُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ۔  [البینۃ:آیت۵]

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اور انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت اخلاصِ عقیدہ کے ساتھ صرف اسی کے لیے کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی سیدھا دین ہے۔ 

    وقال اللّٰہ تعالٰی:  لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَلَادِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ۔[ الحج:آیت۳۷]

اللہ ربّ العزت نے ارشاد فرمایا: اللہ کی بارگاہ میں نہ قربانی کا گوشت پہنچے گا اور نہ خون پہنچے گا، البتہ اُس کی بارگاہ میں تمہارا تقویٰ [دِلوں کا اخلاص] باریاب ہوگا۔ 

وقال اللّٰہ تعالٰی:  قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ۔[آل عمران:آیت۲۹]

اللہ جل جلالہ نے ارشاد فرمایا: اے رسول آپ فرما دیجیے کہ خواہ تم اپنے دِلوں کی باتوں کو پوشیدہ رکھو یا ظاہر کردو اللہ ان سے واقف ہے۔ 

اعمال کا دارو مدار نیّت پر ہے: امیرالمومنین ابو حفص عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میَں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سُنا کہ اعمال کا دارو مَدار نیّتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جو اُس نے نیت کی، ـ پس جس کی ہجرت اللہ و رسول کے لیے ہو اُس کی ہجرت اللہ و رسول ہی کے 

لیے ہے اور جس کی ہجرت حصولِ دنیا یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو پس اُس کی ہجرت اُسی کے لیے ہوگی جس کے لیے اُس نے ہجرت کی۔[۱]لوگوں کا حشر نیّتوں کے مطابق ہوگا: امّ المومنین سیّد تنا عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ایک فوج کعبہ مقدسہ پر حملہ کرے گی تو جب وہ صحرا میں پہنچے گی تو اس کے پہلے اور بعد والے سب زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ حضرت امّ المومنین نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ ان میں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو اس حملہ آور فوج میں شامل نہ تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ان کے اوّل و آخر سب دھنسا دیے جائیں گے، پھر اُن کا حشر اُن کی نیّتوں کے مطابق ہوگا۔

ہجرت نہیں نیّت: امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہمیشہ باقی رہیں گے، تو جب تمہیں جہاد کے لیے کھڑا کیا جائے تو فوراً چل پڑو۔امام نووی فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت اِس لیے نہیں کہ وہ دارالاسلام ہوگیا ہے۔

بغیر عمل کے محض نیّت کا ثواب: حضرت سیّد نا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے۔ تو حضور نے فرمایا کہ مدینہ میں کچھ لوگ رہ گئے ہیں کہ تم کہیں بھی جاؤ گے اور کسی بھی وادی کو طے کروگے مگر وہ تمہارے ساتھ ہوں

گے۔ اُنہیں مرض نے روک لیا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اجرِ جہاد میں شریک ہوں گے۔ یہ امام مسلم کی روایت ہے۔ حضرت امام بخاری نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جَب ہم غزوۂ تبوک سے لَوٹ رہے تھے تو حضور نے فرمایاکہ کچھ لوگوں کو ہم نے مدَینہ میں چھوڑ دیا ہے، مگر ہم کسی بھی گھاٹی یا وادی سے نہیں گذرے

مگر وہ ہمارے ساتھ تھے، انہیں معذوری نے روک لیا تھا۔

[اخذ و ترجمہ از ریاض الصالحین للعلامہ نووی رحمۃاللہ علیہ]

[۱]حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: مکہ کے ایک شخص نے اُمّ قیس نامی ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا، تو اُس نے شرط لگائی کہ اگر تم مدینہ ہجرت کرلو تو مَیں تم سے نکاح کرلوں گی۔ چنانچہ انہوں نے ہجرت کی۔ لوگ ان کو مہاجر اُمّ قیس کہتے تھے۔ [طبرانی و معجم کبیر]

[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب غلام مصطفیٰ رضوی،مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383