Feb 7, 2026 12:19 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
تحفظ عقائد کانفرس بحسن و خوبی اختتام پذیر

تحفظ عقائد کانفرس بحسن و خوبی اختتام پذیر

16 Nov 2025
1 min read

تحفظ عقائد کانفرس بحسن و خوبی اختتام پذیر

پریس ریلیز

نیپال اردو ٹائمز

(ممبئی مہارشٹرا انڈیا)

13 نومبر 2025 بروز جمعرات بعد نماز عشا محب العلماء محترم الحاج وحید اللہ خان نظامی صاحب مالک النظامی دربار ہوٹل مرول ممبئی کی خصوصی دلچسپی، محنت اور ان کے تعاون سے جامعہ اہل سنت رضاء العلوم سنی محمدی جامع مسجد خیرانی روڈ ساکی ناکہ ممبئی کی جانب سے بعنوان "تحفظ عقائد کانفرنس" ایک پروگرام کا انعقاد ہوا، جس میں خصوصی خطیب کی حیثیت سے شمس الفقہاء مناظر اہل سنت حضرت علامہ مفتی شمشاد احمد مصباحی صدر شعبۂ افتا و شیخ الحدیث جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی کی تشریف آوری ہوئی، آپ نے اپنے بیان میں ارشاد فرمایا :جب جب دنیا میں فتنے ظاہر ہوئے اور باطل نے سر اٹھایا تو اللہ عزوجل نے ان کی سر کوبی کے لیے کسی عظیم ذات کو پیدا فرمایا. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال اقدس کے بعد فتنۂ ارتداد نے سر اٹھایا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا قلع قمع فرمایا اور وہ فتنہ ہمیشہ کے لیے مٹ گیا. رافضیت خارجیت ناصبیت وغیرہ باطل فرقوں نے اپنی پوری قوت کے ساتھ امت کے شیرازہ کو منتشر کرنا چاہا، مگر اس دور کے نفوس قدسیہ نے ان کا چہرہ بے نقاب کیا اور امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا. امام احمد ابن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں خلق قرآن کا فتنہ رونما ہوا جس کا مکمل جواں مردی کے ساتھ آپ نے مقابلہ فرمایا، یہاں تک کہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی بلکہ آپ نے ببانگ دہل فرمایا القرآن كلام الله غير مخلوق، اللہ نے لوگوں کے دلوں کو آپ کی طرف موڑ دیا، جب آپ کا وصال ہوا تو آپ کے جنازہ میں 25 لاکھ لوگوں نے شرکت کی، جس سے واضح ہو گیا کہ حق ہمیشہ سر بلند ہوتا ہے. 

اسی طرح بر صغیر میں جب وہابیت دیوبندیت قادیانیت چکڑالویت اور دہریت جیسے فتنے پیدا ہوئے تو ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالی نے اعلی حضرت، امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ کو پیدا فرمایا جنہوں نے احقاق حق اور ابطال باطل کا عظیم فریضہ انجام دیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. آپ نے مزید فرمایا: آج لوگ مولا علی کے نام پر امت میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اور صحابہ کرام بالخصوص حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شان اقدس میں گستاخیاں کر رہے ہیں اور اسے کامیابی سمجھ رہے ہیں جبکہ تمام صحابہ کی تعظیم و توقیر ضروری ہے انہیں خیر کے ساتھ ذکر کرنا لازم ہے بغض صحابہ میں حب مولا علی کا دعوی کرنے والے جھوٹے اور مستحق نار ہیں، اصل مولائی اس دور میں مسلک اعلی حضرت کے ماننے والے ہی ہیں جن کا کہنا یہ ہے

 اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور 

نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی 

غرضیکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں حضور شمس الفقہاء کا بہت مدلل و مفصل خطاب ہوا، اور آپ کی تقریر سن کر ایسا لگ رہا تھا کہ حضور محدث کبیر خطاب فرما رہے ہوں 

 اس پروگرام میں علاقے کی کثیر مساجد کے ائمہ اور مدارس و مکاتب کے مدرسین، نعت خواں اور بڑی تعداد دیگر علماء، نیز ان کے علاوہ جو حضرات اسکول یا سینٹر وغیرہ چلاتے ہیں ان کی شرکت ہوئی. بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسجد میں پروگرام ہو اور اتنے کثیر تعداد علماء شرکت فرمائیں جتنے کہ حضور شمس الفقہاء دامت برکاتہم العالیہ کی مبارک آمد کے موقع پر سنی محمدی جامع مسجد میں تشریف فرما ہوئے . علاوہ ازیں دور دراز کے علما، ائمہ، دانشوران قوم اور مخیرین قوم و ملت کی شرکت بھی ہوئی. خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفکر اسلام حضرت علامہ ذوالفقار علی برکاتی خطیب و امام سنی رضا جامع مسجد ساکی ناکہ و شیخ الادب دار العلوم محبوب سبحانی کرلا کی قیادت اور خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت مولانا مفتی نفیس احمد امجدی پرنسپل جامعہ رضاء العلوم کی صدارت اور خصوصی دلچسپی سے یہ پروگرام ماشاءاللہ بہت کامیاب رہا. شریک کانفرنس درج ذیل علماء کرام کے اسمائے گرامی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں:

خلیفۂ غیاث ملت مولانا محمد طارق نظامی، خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت مولاناقار احمد، مولانا ظفر احمد نورانی امجدی، مولانا ذاکر حسین قادری، مولانا مفتی عبدالسلام نظامی، مفتی معراج احمد مصباحی، مولانا عبدالقادر نوری، مولانا شاہ رکن عالم قادری، قاری غلام محمد برکاتی، مولانا طیب علی مصباحی، مولانا نور العین، مولانا عبدالرشید نوری، قاری لال محمد قادری، قاری عبدالحلیم جامعی، قاری فاروق احمد قادری، قاری محمد عثمان قادری، قاری محمد اکرم رضوی، قاری خالد رضا برکاتی، قاری شمس اللہ قادری، قاری تسلیم رضا صاحبان. 

حضور شمس الفقہاء کی آمد پر جامعہ اہل سنت رضاء العلوم کے طلبہ نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور ان کی خدمت میں گل پوشی کا خراج پیش کر کے اپنی عقیدت وہ محبت کا اظہار کیا.اس پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پہ محترم الحاج اسلام سیٹھ، محترم الحاج امتیاز بھائی، محترم محمد تنظیم، محمد ناصر خان اور سنی محمدی مسجد کے دیگر اراکین بالخصوص حاضر رہے اور خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا. خلیفۂ حضور تاج الشریعہ مفکر اسلام حضرت علامہ ذوالفقار علی کی رقت آمیز دعا پر محفل اختتام پذ یر ہوئی.

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383