Feb 7, 2026 06:11 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
فقیہ ملت اور آپ کی حق گوئی و بیباکی

فقیہ ملت اور آپ کی حق گوئی و بیباکی

21 Nov 2025
1 min read

فقیہ ملت اور آپ کی حق گوئی و بیباکی 

از قلم:محمد عدنان رضا الجامعی مرکز تربیت افتا أوجھاگنج، بستی

فقیہ ملت اور آپ کی حق گوئی و بیباکی 

آئین جواں مردی و حق گوئی و بیباکی 

 اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی 

     اس خاکدان گیتی پر روز افرینش سے لے کر آج تک یکے بعد دیگرے لوگ آتے گئے اور پھر کچھ عرصے کے بعد پردۂ  عدم میں روپوش ہو گئے، از آدم تا ایں دم کروڑوں افراد پیدا ہوئے اور پھر وہ اس روئے زمین کو خیرآباد کہہ گئے، یہ سلسلہ تا قیامت جاری و ساری رہے گا لیکن ان میں سے کتنوں کو  دنیا نے یاد رکھا؟اور کتنے ہیں جو اپنے نام سمیت زمین تلے مدفون ہو گئے ۔ تاریخِ انسانی میں ایسے بھی موقر افراد گزرے ہیں  جنہوں نے گم گشتگان راہ علم کی صحیح رہنمائی فرمائی، حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لا کھڑا کیا، اور بے لوح انسانوں کے دلوں میں نور توحید کی ایسی شمع روشن فرمائی کہ جس سے ان کا ظاہر و باطن منور و مصفی ہوا نیز محبت رسول کا ایسا جام پلایا کہ ان کے  خزاں رسیدہ دلوں میں پھر سے بہار عود کر آئی۔ 

   ان باوقار اور بااثر شخصیتوں میں ایک ذات حضور فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ کی بھی ہے، جنہوں نے اصلاح امت کا فریضہ کما حقہ  ادا کیا اور احقاق حق و ابطال باطل کی صحیح معنوں میں عکاسی فرمائی، آپ حق بیانی میں کبھی پیچھے نہ ہٹے اور ہر ممکن طریقے سے باطل کا منہ توڑ جواب دیا، کبھی کتابت کے ذریعہ تو کبھی خطابت کی شکل میں گویا آپ حدیث رسول:  " من رأي منكم منكرا فليغيره بيده ومن لم يستطيع فبلسانه فمن لم يستطيع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان"کی سراپا تفسیر تھے۔ 

   فقیہ ملت علیہ الرحمۃ پوری قوت  سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر کاربند تھے مصلحت و مداہنت سے دور رہ کر مذہبِ حق کی ترویج و اشاعت میں ہمہ تن مصروف رہتے اور کسی کے طعن و تشنیع کی بالکل بھی پرواہ نہ کرتے،کوئی بھی مد مقابل ہو آپ حق بات کو ہمیشہ سرِعام محفلوں میں بیان کرتے ۔ آپ کی حق بیانی پر خود آپ کی تحریریں شاہد ہیں۔ 

کچھ نمونے قارئین کرام کے پیش نظر ہیں: 

 فقیہ ملت علیہ الرحمہ کا وطن أوجھاگنج بستی ہے، اگرچہ یہ گاؤں  آپ کے زمانے میں وہابیہ دیابنہ سے پاک و صاف تھا مگر کچھ لوگ دہریت (کمیونزم) کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو ایک خدا سے دور کر رہے تھے اور وہ افراد معاشی اعتبار سے مضبوط اور اپنی زمین و جائیداد کی بنا پر عوام میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے تھے لیکن جب فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو ان کے عقائد و نظریات کے بارے میں معلوم ہوا ،تو آپ نے ان کے خلاف اور رد میں بغیر جان و مال کی فکر کئے ،کھلے عام اسٹیجوں پر تقریر یں کرنا شروع کر دیا، علاقے میں جب کبھی کوئی پروگرام یا محفل میلاد منعقد ہوتی تو یہ لوگ بھی موضوع سخن ہوتے تھے، ایک دن انہیں دہریوں کے بڑے باپ جوکہ اس فتنہ سے محفوظ تھے،فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگے کہ حضرت میرا ایک بھتیجہ جو کہتا ہے کہ قرآن اب بوسیدہ ہو گیا جو کہ اب وہ عمل کے قابل نہیں ۔ العیاذ باللہ۔ 

چنانچہ قرآن کی حقانیت پر انہوں نے اپنے گھر میں میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد کیا جس میں تقریر کرنے کے لیے فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو مدعو کیا آپ وقت مقررہ پر پہنچ کر قرآن عظیم کی حقانیت و صداقت کو بیان کیا ،اور تا قیامت لوگوں کے لیے مشعل راہ ہونے پر عقلی و نقلی دلائل کے انبار لگا دیئے اور انہیں دہریوں کے گھر کے باہر ہی انہیں لوگوں کا زبردست رد کیا، آپ کے جانے کے بعد وہ سب فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو مارنے کی دھمکیاں دینے لگے یہاں تک کہہ ڈالا  کہ ہم آپ پر فلاں کیس کر کے جیل بھجوا دیں گے ۔ جب فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو اس کا علم ہوا ،تو آپ نے اس کی کوئی فکر نہ کی، بلکہ  انھیں للکار کر کہا کہ تمہیں جو کرنا ہو کر لو لیکن حق کو بیان کرنے سے ہم پیچھے نہ ہٹیں گے اور یقیناً وہ لوگ اتنے  اثر و رسوخ کے باوجود بھی فقیہ ملت علیہ الرحمہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے، یہاں تک کہ خود ہی وہ گاؤں چھوڑ کر چلے گئے اور اس طرح اوجھاگنج دہریت کے فتنہ سے پاک و صاف ہو گیا 

(ملخصا خطبات محرم،ص:٤٩٧تا٤٩٩،ط:

کتب خانہ امجدیہ)

ان کا سایہ اک تجلی ان کا نقشِ پا چراغ 

 وہ جدھر گزرے ادھر ہی روشنی ہوتی گئی 

  نیز ایک مرتبہ شہزاد پور جو کہ امبیڈکر نگر ضلع میں واقع ہے وہاں پر ایک جعلی پیر اپنے مریدوں کو گمراہ کیا کرتا تھا،اس کی گمراہی اس حد تک بڑھ گئی تھی کی مریدوں سے اپنا سجدہ بھی کرواتا تھا۔ جب وہ مرا تو اس کے متبعین نے اس کی قبر کا  بھی سجدہ کرنا شروع کر دیا بلکہ حد تو یہ ہوگئی کہ اسی کی قبر کے چاروں جانب مثل کعبہ منہ کر کے نماز ادا کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کی جہالت و گمراہی طول پکڑتی گئی یہاں تک کہ وہ ہر سال اس جاہل پیر کے نام سے عرس کرانے لگے جس میں پیشاور مقررین اور نعت خواں مدعو ہوتے مگر کسی میں یہ ہمت نہیں ہوتی کہ ان  کے خلاف اپنا منھ کھوليں۔ حسنِ اتفاق کہ  ایک سال اسی پروگرام میں حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کو دعوت دی گئی، دعوت ملنے کے بعد آپ کو وہاں کے خرافات کا علم ہوا لیکن پھر بھی آپ وہاں  تشریف لےگئے تاکہ کسی طرح سے اس فتنے کا سدِّباب کرسکیں۔، فقیہ ملت علیہ الرحمہ  مائک پہ جانے سے پہلے یہ عہد کر لیا کہ اپنی زبان سے حق ہی بولیں گے چاہے  جان ہی کیوں نا چلی جائے۔چنانچہ مفتی صاحب نے خطبہ کے بعد محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی گفتگو کا عنوان بنایا اور پھر اسی کے ضمن میں آپ نے سجدۂ تعبدی کے کفر اور سجدۂ تعظیمی کے حرام ہونے کو واضح فرمایا ،اسی درمیان محفل میں انتشار مچ گیا حضرت اپنی تقریر ختم کر دی اور آرام گاہ کی جانب چل دئے پھر انہیں میں سے چند اوباش قسم کے لوگ آپ کے پیچھے آکر گستاخی کرنے لگے یہاں تک کہ راستہ ہی میں روک کر بولے کہ اے مفتی صاحب آپ سجدۂ تعظیمی کو جائز کہیے ،فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے فرمایا ہم ہرگز نہیں کہیں گے ،بلکہ جو حرام و ناجائز ہے وہ حرام ہی رہے گا، پھر انہوں نے کہا کہ یا اس کے حرام ہونے ہی کو ثابت کر دیجئے،فقیہ ملت علیہ الرحمہ  نے فرمایا کہ ابھی میرے پاس کتابیں دستیاب نہیں جیسے ہی اپنے گھر پہنچتا ہوں ویسے ہی آپ کو دلائل کے ساتھ  فتوے کی شکل میں ایک تحریر روانہ کروں گاپھر وہ زبانی ملامت پر ہی اکتفا کرتے ہوئے لوٹ گئے۔چنانچہ فقیہ ملت علیہ الرحمہ اپنے گھر پہنچ کر اول وقت میں ہی سجدۂ تعظیمی پر ایک رسالہ ١٦ صفحات پر مشتمل تحریر فرما کر اکبر پور چوراہے پر لے جا کر لوگوں میں تقسیم کرا دیا۔

 (ملخصا خطبات محرم،ص:٥١٢تا٥١٤،ط

:کتب خانہ امجدیہ)

ان سب باتوں سے  یہ بات واضح ہوجاتی ہے  کہ فقیہ ملت علیہ الرحمہ کے اندر دین کی خدمت کا کس قدر جذبہ موجزن تھا۔ اور بدعات و خرافات کو دور کرنے کے ليے آپ  کس قدر بے تاب رہا کرتے تھے،احقاقِ حق کے ليے اپنی جان کی بھی فکر نہيں کرتے تھے۔اور اسی کا صلہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری 

 خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تم پر 

مولا تبارک و تعالٰی حضور فقیہ ملت علیہ الرحمہ کی خدماتِ دینیہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات کو بلند فرمائےنیز ان کی حق بیانی کا ہمیں بھی صدقہ نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

مرکز تربیت افتا أوجھاگنج، بستی

٢٣/جمادی الأولی ٤٧ھ

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383