دورِ حاضر کی عالمات اور سوشل میڈیا
از : سرفراز احمد قادری امجدی
چونکہ سوشل میڈیا کا دور دوراں ہے، لہٰذا مرد تو مرد، اب عورتیں بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہنا چاہتیں۔ ہماری عالمہ بہنیں ما شاءاللہ سوشل میڈیا کی اس قدر خوگر ہوچکی ہیں کہ بیان سے باہر ہے۔ اگر چند لفظوں میں کہا جائے تو بعض قاریات، عالمات، فاضلات، مفتیات اور مبلغات اپنے یا کسی خاتون والے نام سے سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آتی ہیں۔ حال یہ ہے کہ چند لائک اور چند فالوورز کے لیے اپنی نعتیں اور تقاریر انسٹاگرام، فیس بُک، یوٹیوب اور اسنیپ چیٹ پر شائع کر کے اپنے عالمانہ وقار کو مجروح کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ حالانکہ وہ خوب جانتی ہیں کہ عورت کی آواز بھی عورت یعنی محلِّ ستر ہے۔ سمجھانے پر جواب یہ ملتا ہے کہ زمانے کے حساب سے فتویٰ بدلتا ہے۔ میری بہنو! بہتر ہوتا کہ کسی معتبر مفتی صاحب سے اس پر جواز کا فتویٰ طلب کر کے فقیر کو لاجواب کر دیتیں۔ عورتوں کا میلاد اور ذکر و اذکار کی محافل منعقد کرنا جائز اور باعثِ ثواب ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان کی آواز نامحرموں تک نہ پہنچے۔ اگر عورت خوش الحانی سے اتنی بلند آواز میں نعت یا تلاوت کرے کہ اجنبی سن لیں تو یہ محلِ فتنہ اور ناجائز ہے۔
جیسا کہ حضور اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نور اللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں: "ناجائز ہے کہ عورت کی آواز بھی عورت
ہے اور عورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سے محل فتنہ ہے" (فتاویٰ رضویہ، جلد 22، ص 242)
دوسرے مقام پر اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:
”عورت کا خوش الحانی سے بآواز ایسا پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جائے، حرام ہے۔ نوازل امام فقیہ ابو اللیث میں ہے: ’’نغمۃ المرأۃ عورۃ‘‘ یعنی عورت کا خوش آواز ہوکر کچھ پڑھنا عورت یعنی محلِ ستر ہے۔ کافی امام ابو البرکات نسفی میں ہے: ’’لا تلبی جھراً لان صوتھا عورۃ‘‘ یعنی عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے، اس لیے کہ اس کی آواز قابلِ ستر ہے۔“(فتاوی رضویہ، جلد 22، ص 242، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لیکن ہماری بعض عالمات کا کیا کہنا!
وہ باضابطہ نعت و تقاریر سوشل میڈیا پر شائع کرتی ہیں اور نعت و تقاریر کی آڑ میں اپنی نمائش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ کچھ تو برقع پوش ہوکر فرقۂ باطلہ کے رد میں ویڈیوز بناتی ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟ کیا ہمارے علماء کرام اس فریضے کو بخوبی انجام نہیں دے رہے؟ کیا ہمارے علماء کا علم کافی نہیں کہ اب ہماری عالمات ویڈیوز بنا کر اسلام کی حرمت کو مجروح کر رہی ہیں؟ میری بہنو! کس مفتی صاحب نے آپ سے کہا کہ یہ جائز ہے؟
اس کے بعد کچھ عالمات کا ایک الگ ہی ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ چہرے پر اسٹیکر (ایموجی) لگا کر یا پھر آدھے چہرے یا ہاتھ یا پاؤں کی تصویر واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک، اسنیپ چیٹ اسٹیٹس پر لگاتی ہیں۔ استغفراللہ! میری بہنو! کیا اسی لئے آپ عالمہ بنی ہیں؟ کیا
مدرسوں میں یہی تعلیم دی جاتی ہے؟ غیر محرموں سے رابطے کا سب سے بدتر پلیٹ فارم اسنیپ چیٹ، انسٹاگرام اور فیس بک ہے، جہاں بغیر نمبر کے ہزاروں غیر محرموں سے رابطے کا ذریعہ ہے۔ لیکن اب تو ہماری عالمات سب سے زیادہ انہی پلیٹ فارمز پر ایکٹیو ہیں۔ اتنا ضرور کہوں گا کہ ان معاملات میں ان کے والدین ہی قصوروار ہیں کیونکہ مدرسوں سے انہیں دین کا علم حاصل ہوتا ہے لیکن ماں باپ کی لاپرواہی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مجرا کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اللہ خیر کرے۔
اور حد تو تب ہوگئی جب کچھ عالمات نے باضابطہ برقع پوش ہوکر سوشل میڈیا پر مجرا کرنا شروع کردیا، کبھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ، کبھی مدرسے میں، کبھی گھر۔ یہ حال ہے بعض عالمات فاضلات کا۔ تو سوچیں قوم کی ان بہنوں کا کیا حال ہوگا جو اسکول و کالجز سے تعلیم یافتہ ہیں۔ پھر عالمہ اور جاہلہ میں کیا فرق رہ گیا؟ خدارا چند لائک اور فالورز کے لئے اپنے ماں باپ کی عزت کو پامال نہ کرو۔ آپ نے دین کا علم حاصل کیا ہے تو دین پر ہی قائم رہو، دنیا کے فتنوں میں نہ پڑو۔ آپ سب کنیزِ فاطمہ ہیں، اپنے عزت و وقار کو مجروح نہ ہونے دو۔ آپ نے علم حاصل کیا ہے تو اس کا مقصد خدمتِ دین ہی ہو۔ قوم کی ان ماں بہنوں کی اصلاح کرو جو آپ کی طرح عالمہ نہ بن سکیں۔ خود بھی عمل پیرا رہو اور دوسروں کو بھی عمل پیرا بناؤ۔ ان شاء اللہ الرحمن، اللہ رب العزت بہتر اجر عطا فرمائے گا۔اور ہو سکتا ہے کہ اس فقیر قادری کی کوئی بات آپ کو تلخ لگی ہو، اس کے لئے معذرت خواہ ہوں، لیکن کیا کروں حالات بد سے بدتر ہیں، اصلاح و تنبیہ بھی ضروری ہے۔
اللّٰہ مجدہ الکریم تمام بہنوں کو کنیزِ فاطمہ بنائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم سب کو مسلکِ اعلیٰ حضرت پر سختی سے کار بند فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
نوٹ: بغیر کسی چھیڑ چھاڑ کے اسے اپنی تمام عالمہ بہنوں تک شیئر کریں جزاک اللّہ خیرا کثیرا کثیرا
*از قلم: سـرفـراز احمد قــادری امجدی*
بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف ضلع سیتامڑھی بہار
