زندگی اللہ کی امانت ہے خودکشی حرام ہے
بقلم محمد عادل ارریاوی
محترم قارئین زندگی اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی ایک ایک سانس قیمتی ہے مگر کبھی کبھی انسان ایسے موڑ پر کھڑا ہوجاتا ہے جہاں اسے اپنے آنسو بھی دشمن لگنے لگتے ہیں اور دل کے اندھیرے اتنے گہرے ہوجاتے ہیں کہ روشنی کا ایک چراغ بھی نظر نہیں آتا ایسے میں کچھ لوگ ایک ایسا فیصلہ سوچنے لگتے ہیں جو ان کی ذات ہی نہیں ان کے رب ان کے گھر ان کی محبتوں اور ان کی آنے والی نسلوں کو بھی زخمی کر دیتا ہے
جان کتنی پیاری چیز ہے جان اللہ ربّ العزت کا کتنا بڑا تحفہ ہے جان ہر ایک کو عزیز ہوتی ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے کوئی مرنا نہیں چاہتا کوئی جان سے جانا نہیں چاہتا جان نہ ہو تو زندگی نہیں اس جان اور زندگی کیلئے انسان کیا کیا کوششیں کرتا ہے مگر یہ ساری باتیں عقل و ہوش کی ہے سمجھ بوجھ کی ہے لیکن کبھی کبھی ہوتا یہ ہے کی انسان عقل و ہوش کھو بیٹھتا ہے سمجھ بوجھ کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے تب جان جیسی عظیم نعمت بھی اس کے نزدیک عزیز نہیں رہتی زندگی جیسی نعمت بھی اس کے نزدیک بےوقعت ہوجاتی ہے وہ اپنے ہاتھ سے اپنی جان دے دیتا ہے گلا دبا لیتا ہے چھری گھوپ لیتا ہے زہر پی لیتا ہے بلڈنگ سے کود جاتا ہے ٹرین کی پٹری پر سو جاتا ہے کس لئے ذہنی سکون کیلئے دنیا کی نگاہوں میں بہادر گنا جانے کیلئے کسی مرحلہ میں ناکام ہوجانے کی وجہ سے حالانکہ ایسے شخص کو ان میں سے کچھ نہیں ملتا نہ سکون ملتا نہ چین ملتا نہ دنیا کی نگاہوں میں بہادر گنا جاتا بلکہ مزید رسوائی بدنامی ہاتھ آتی ہے لوگ اس کا نام برائی سے لیتے ہیں کیونکہ وہ حرام موت مرا ہے لوگ اس کے نماز جنازہ اور کفن دفن میں بھی شرکت کرنے سے کتراتے ہیں یعنی مرنے کے بعد دنیا کا آخری مرحلہ جو تجہیز و تکفین کا ہوتا ہے نماز جنازہ پڑھنے اور دعاۓ مغفرت کا ہوتا ہے لوگ اس میں بھی بےدلی سے شرکت کرتے ہیں غم و افسوس کم ہوتا ہے نفرت پائی جاتی ہے آنسو کم نکلتے ہیں کراہت زیادہ ہوتی ہے مرنے والے سے وہ لگاؤ اور کیفیت نہیں پائی جاتی ہے جو عام حالات میں مرتے ہیں سب کے سب اس کے آخری مراحل کو جلد سے جلد ادا کرنا چاہتے ہیں ایسا کیوں؟ کیونکہ انہوں نے حرام موت پائی جس کا اختیار اللہ نے نہیں دیا تھا وہ کربیٹھا شریعت کا خلاف ورزی کیا ہے فرمانِ خدا کو پسِ پشت ڈال دیا موت اور زندگی کا مالک صرف اللہ ہے موت اور زندگی انسان کی اختیاری چیز نہیں ہے خودکشی کرنے والا اللہ کی ملکیت میں دخل اندازی کرتا ہے
یہ محض ایک لمحاتی فیصلہ نہیں ہوتا یہ بے بسی تنہائی نفسیاتی بوجھ معاشرتی دباؤ ناانصافی یا شدید ذہنی اذیت کے طوفان کا نتیجہ ہوتا ہے انسان جب یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی تکلیف کو کوئی نہیں سمجھتا اس کا درد کسی کے لیے اہم نہیں تب وہ خود کو بھی غیر اہم سمجھنے لگتا ہے
لیکن سچ یہ ہے کوئی انسان غیر اہم نہیں ہوتا اللہ کی نظر میں تو ہر انسان ایک جہاں کے برابر ہے اور جب وہ اپنے ہاتھوں اپنی جان لیتا ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں چھینتا بلکہ اپنے پیچھے رہ جانے والوں کی زندگیوں سے بھی سکون امید اور روشنی چھین لیتا ہے
اسلام میں زندگی امانت ہے وہ زندگی جسے خالقِ کائنات نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا ہے انسان کو اجازت نہیں کہ وہ اسے خود ختم کر دے قرآن اور حدیث دونوں میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں خود کو ہلاک کرے گا آخرت میں اسی طرح کے عذاب کا سامنا کرے گا یہ ممانعت محض ایک حکم نہیں بلکہ انسان کی عزتِ نفس اس کی قدر اور اس کی عظمت کے تحفظ کے لیے ہے اسلام چاہتا ہے کہ انسان ٹوٹے تو مرے نہیں گرے تو اٹھے روتا رہے لیکن امید کا دامن نہ چھوڑے۔ جو شخص دنیا سے چلا جاتا ہے وہ اپنی تکلیف سے شاید آزاد ہو جاتا ہو لیکن اس کے والدین کی چیخیں اس کے بچوں کی راتوں کی نیند اس کے ساتھیوں کے دلوں پر لگنے والے زخم سب کچھ زندہ رہ جاتا ہے ہر وہ شخص جو آخری قدم سوچتا ہے دراصل وہ یہ نہیں چاہتا کہ وہ مر جائے وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کا درد ختم ہو جائے درد ختم کرنے کا راستہ موت نہیں مدد ہے بات ہے رب سے رشتہ ہے انسانوں سے جڑنا ہے اور خود سے ۔صلح کرنا ہے آج معاشی دباؤ بے روزگاری سماجی بے حسی تعلقات کی ٹوٹ پھوٹ ذہنی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح یہ سب انسان کو ایسے کنارے پر لے آتے ہیں جہاں سانس بھی بوجھ لگتی ہے لیکن ایسے حالات میں خودکشی کے بارے میں سوچنے سے زیادہ ہمت کی ضرورت زندگی کو تھامنے میں ہے اگر آپ یا کوئی آپ کا جاننے والا ایسے خیالات سے گزر رہا ہے تو یاد رکھیں آپ کی موجودگی کسی کے لیے دنیا ہے آپ کی زندگی رب کا تحفہ ہے یہ آپ کی ملکیت نہیں کہ آپ اسے ختم کر دیں کوئی بھی تکلیف مستقل نہیں ہوتی مدد مانگنا کمزوری نہیں بہادری ہے۔
آپ ٹوٹے ہوئے ہیں تو کوئی بات نہیں آپ تھکے ہوئے ہیں تو یہ بھی ٹھیک ہے آپ کے دل میں اندھیرا ہے تو راتیں ہمیشہ ختم ہوتی ہیں اللہ آپ کو آپ کے والدین سے زیادہ چاہتا ہے۔ وہ کسی انسان کو اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں دیتا زندگی چھوڑنے کا نہیں سنوارنے کا نام ہے آپ قیمتی ہیں آپ ضروری ہیں اور آپ کو جینا ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے لیے ابھی بہت سی روشنیاں رکھی ہیں۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں زندگی کی قدر عطا فرما نفس کے وسوسوں سے بچا مایوسی کے اندھیروں سے نکال ہمارے دلوں میں صبر شکر اور امید کی روشنی بھر دے اے ربِّ کریم جو بوجھ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا اسے آسان کر دے اور ہمیں اپنی رحمت کی پناہ میں وہ سکون عطا فرماجس سے دل زندہ رہتے ہیں
آمین یارب العالمین
