فقیہ ملت اور اصلاح معاشرہ
صاحب تصانیف کثیرہ بقیۃ السلف حضرت علامہ محمدعبدالمبین،نعمانی دامت برکاتہم العالیہ
بسم الله الرحمن الرحیم
نحمده و نصلی و نسلم على رسوله الكريم واله وصحبه أجمعين
فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ (متوفی ١٤٢٢ھ/ ۲۰۰۱ء ۴,جمادی الاخری) ایک عالم دین تھے اور -------- باعمل عالم دین تھے۔ ایک عالم کی جو ذمہ داریاں ہوتی ہیں ان کو وہ محسوس کرتے تھے اور عالم ربانی کی ایک بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کے سامنے برائیاں دیکھے تو منع کرے، قرآن پاک میں رب کائنات نے سورہ مائدہ میں ایک جگہ اس ذمہ داری کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: {لَوْ لَا یَنْهٰهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَؕ-لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ} (المائدة:۵،آیت:۶۳) انہیں کیوں نہیں منع کرتے ان کے پادری اور درویش گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے، بیشک بہت ہی برے کام کررہے ہیں۔ یہ آیت علمالے یہود کے بارے میں نازل ہوتا مگر میں کا مضمون اور حکم عام ہے۔
صدر الافاضل مفسر قرآن حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’اس سے معلوم ہوا کہ علما پر نصیحت اور بدی سے روکنا واجب ہے۔ اور جو شخص بری باتوں سے روکنا ترک کرے اور نہی منکر سے باز رہے وہ بمنزلہ مرتکب گناہ کے ہے‘‘۔ (خزائن العرفان زیر آیت مذکور) یعنی علما پر واجب ہے کہ خود بھی سنبھلیں اور دوسروں کو بھی سنبھالیں۔
ترجمان قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: ’’قرآن پاک میں اس سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ والی (علما کے لیے) اور کوئی آیت نہیں‘‘۔ (تفسیر خازن : ۵۰۹/۱)
مزید فرماتے ہیں:’’قرآن پاک میں یہ آیت ( علما کے لیے) بہت سخت ہے کیوں کہ اللہ تعالی نے برائی سے منع نہ کرنے والوں کو برائی کرنے والوں کی وعید میں شامل فرآیا ہے‘‘۔ (تفسیر مدارک : ج ۱،ص ۲۹۲ -۲۹۳)
امام ضحاک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ’’میرے نزدیک اس آیت سے زیادہ خوف دلانے والی قرآن پاک میں کوئی آیت نہیں افسوس کہ آج ہم برائیوں سے روکنے کا کام ترک کر چکے ہیں‘‘۔(تفسیر طبری:۴ /۶۳۸ بحوالہ صراط الجنان في تفسير القرآن جلد دوم )
علامہ قرطبی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ: ((اللہ تعالی کی طرف سے ایک فرشتے کو حکم ہوا فلاں فلاں بستی کو تباہ کر دو، اس نے عرض کیا، اس میں تو فلاںعبادت گزار بندہ بھی رہتا ہے؟ (یعنی کیا اس کے ہوتے ہوئے بھی بستی کو ہلا کر دیا جائے) حکم ہوا کہ ہلاکت کی ابتدا اسی بندے سے کرو کیوں کہ اس کی آنکھوں کے سامنے گناہ ہوتے رہے اور کبھی اس کے چہرے کا رنگ تک نہ بدلا۔ (قرطبی ، شعب الایمان، بیہقی، مشکوۃ، ص۴۳۸)
اصلاح معاشرہ: احادیث کی نظر میں
اصلاح کا عمل آسان نہیں ہے اس کے لیے جذبۂ جہاد کی ضرورت ہوتی ہے میں نے بہت سے نیک اور متقی لوگوں کو دیکھا ہے کہ خود تو بڑے با عمل نیک ہوتے ہیں لیکن جب کسی کی اصلاح میں زبان کھولنے کا وقت آتا ہے۔ تو چپ سادھ لیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کون جائے اوکھلی میں سر ڈالنے، ایسے لوگ معاشرے میں بڑے نیک گردانے جاتے ہیں کہنے والے کہتے ہیں: "یہ بہت نیک آدمی ہیں یہ کسی کو کچھ کہتے نہیں"۔ حالاں کہ نیکی پہ نہیں ہے کہ گناہ ہوتا رہے معاشرہ بگڑتا رہے۔ اور صاحبان علم و فضل خاموش تماشائی بنے رہیں، نیکی تو یہ ہے کہ تیر و نشتر کھائے اور اصلاح تبلیغ کا عمل جاری رکھے ۔ اسی کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہتے ہیں۔ حضرت فقیہ ملت علیہ الرحمہ نے اپنی مشہور و مقبول تصنیف انوار الحدیث میں اس کا ایک مستقل باب باندھنا ہے اور اسے احادیث و احکام سے مزین فرمایا ہے ، ذیل میں اسی کا کچھ حصہ محبان سنت و شریعت کی خدمت میں پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں:
(۱)حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فبقلبه وَذَلِكَ أَضْعَف الْإِيمَان)) (صحيح مسلم شریف - مشكوة ، ٤٣٦باب الامر بالمعروف) جو کوئی خلاف شرع کوئی بات دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر ہاتھ سے روکنے کی قدرت نہیں تو زبان سے منع کرے اور اگر زبان سے بھی منع کرنے کی قدرت نہیں تو دل سے برا جانے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ (کہ اس کے بغیر کسی مومن کو چارہ نہیں)
(۲)خلیفہ رسول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا مُنْكَرًا فَلَمْ يُغَيِّرُوهُ يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ)) (ترمذی ، ابن ماجہ، مشكوة: ۴۳۶) لوگ جب کوئی بات خلاف دیکھیں اور اس کو نہ بتائیں تو عنقریب خدا تعالی ان کو اپنے عذاب میں مبتلا کرے گا۔
(۳)حضرت عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی علیہ وسلم نے فرمایا: وَعَن الْعرس بن عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا)) (ابو داؤد، مشکوۃ، ایضا) جب کسی جگہ کوئی گناہ کیا جائے تو جو شخص وہاں حاضر ہو اسے ناپسند سمجھے تو وہ اس ادمی کے مثل ہے جو وہاں موجود نہیں اور جو شخص وہاں موجود نہ ہو لیکن اس کو پسند کریں تو وہ اس ادمی کے مثل ہے جو وہاں موجود ہو۔
(۴)حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلى جبريلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا
بِأَهْلِهَا قَالَ: يارب إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ ". قَالَ: " فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ فَإِنَّ وَجهه لم يتمعر فِي سَاعَة قطّ )) اھ
۔(بیہقی، مشکوۃ شریف، ص:۴۳۸) خداے تعالی نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں شہر کو جو ایسا ایسا ہے اس کے باشندوں سمیت الٹ دو حضرت جبرائیل نے عرض کیا: اے میرے رب اس میں تیرا ایک ایسا بندہ بھی ہے جس نے ایک لمحہ بھی تیری نافرمانی نہیں کی ہے ،تو خدائے تعالی نے پھر حکم دیا کہ پہلے اسی شخص پر پھر اوروں پر بستی کو الٹ دو، اس لیے کہ گناہوں کو دیکھ کر میرے لیے اس کا چہرہ کبھی بھی تھوڑی دیر کے لیے متغیر نہ ہوا (یعنی اس نے غصہ نہ کیا)
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ آمر (حکم دینے والا) اور ناہی (منع کرنے والا) خود بھی عامل ہو اس طرح اس کی بات زیادہ موثر ہوتی ہے ،اور جو خود تو عمل نہیں کرتا مگر دوسروں کو حکم دیتا ہے ایسے شخص کے لیے بھی دو حدیثیں انوار الحدیث سے نقل کی جاتی ہیں۔
(۵)حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے معراج کی شب میں دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں، میں نے پوچھا جبرائیل یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا یہ آپ کی امت
کے خطیب (مقرر) اور واعظ ہیں جو لوگوں کو نیکی کی ہدایت کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے یعنی خود نیک کام نہیں کرتے تھے،(مشکوۃ ص:۴۳۸ بروایت شرح السنہ )
(۶)حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک شخص لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو فورا اس کی آنتیں پیٹ سے نکل کر آگ میں گر پڑیں گی پھر وہ انہیں لے کر چکر لگائے گا جیسے چکی کا گدھا آٹا پیسنے کے لیے چکر لگاتا ہے، تو اس وقت جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ اے فلاں تیرا یہ کیا حال ہے کیا تو ہمیں نیک کام کرنے اور برائیوں سے بچنے کا حکم نہیں کرتا تھا وہ کہے گا کہ ہاں میں تم کو نیک کام کا حکم کرتا تھا لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا اور برے کام سے تم کو روکتا تھا اور خود وہی کام کرتا تھا۔
(بخاری ،مسلم، مشکوۃ، ص:۴۳۶)
ان کی نیکیوں کے صدقے مجھے بھی نیک بننے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
محمد عبدالمبین نعمانی قادری
۲۳ محرم الحرام ۱۴۳۹ ہجری ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۷ بروز شنبہ
