100 روپے کی حد پر سرحدی تنازعہ: سپریم کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا
مولانا مشہود خاں نیپالی
نیپال اردو ٹائمز
لمبنی پریدش
سپریم کورٹ آف نیپال نے نیپال بھارت سرحدی ناکوں سے گھریلو استعمال کے لیے 100 روپے سے زائد مالیت کے سامان پر بھنسار (کسٹم) ڈیوٹی عائد کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر رٹ پر حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے حکومت کے نام وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔
یہ رٹ وکیلوں امیتیش پنڈت، آکاش مہتو، سوگیا سنگھ اور پرشانت وکرم شاہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ جسٹس نرپدھوج نیرولا کی سنگل بینچ نے ابتدائی سماعت کے بعد حکومت سے
تحریری جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کو عبوری حکم پر مزید بحث کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت دی ہے۔درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ نیپال چین سرحدی ناکوں اور تری بھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے آنے والے مسافروں کے لیے رعایتی حد زیادہ ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ کھلی سرحد پر صرف 100 روپے کی حد مقرر کرنا شہریوں کے ساتھ جغرافیائی اور طبقاتی امتیاز کے مترادف ہے، خاص طور پر ترائی اور میدانی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے رِٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں 100 روپے میں روزمرہ استعمال کی کوئی بھی چیز خریدنا ممکن نہیں، اس لیے یہ حد غیر عملی اور غیر منطقی ہے۔ اس فیصلے کے باعث سرحدی علاقوں کے عوام کو سبزی، ادویات اور کپڑے جیسی بنیادی اشیاء لاتے وقت بھی بھانسار اہلکاروں کی جانب سے مشکلات اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی
ہے کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک سرحدی شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیاء اور شادی یا سماجی تقریبات کے لیے لائے جانے والے سامان پر کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور نہ ہی بھنسار وصول کیا جائے۔
مزید کہا گیا ہے کہ 1960 کے نیپال بھارت تجارتی معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اشیاء کی آزادانہ نقل و حرکت ہونی چاہیے، تاہم موجودہ پالیسی اس معاہدے کی روح کے منافی قرار دی جا رہی ہے۔مولانا مشہود خاں نیپالی
