مدارس کی تدریس میں عصری علوم کی شمولیت
شان پریہار پروفیسر محمد گوہر صدیقی
9470038099
اسلامی مدارس میں جدید علوم کی تدریس ، مدارس کی جدید کاری یا نصاب تعلیم میں عصری علوم کی شمولیت ایک متنازعہ فی مسئلہ ہے، مدارس کی جدید کاری سے اگر یہ مراد ہے کہ ان میں عصری کالجوں اور یونیورسٹیوں والے نصابات پڑھائے جائیں تو یقینا یہ ایک بےجا مطالبہ ہے کیونکہ مدارس اسلامیہ بنیادی طور پر دینی تعلیم کے لیے ہیں ، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ مدرسے کا طالب علم محض آسمان سے اوپر اور زمین سے نیچے کے مسائل ہی جان سکے اور اس دنیا سے سراسر غافل رہے جہاں اسے زندگی کے ایام گزارنے ہیں -
اردو ہماری زبان ہے یوں تو اسے ہم گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار، قومی یکجہتی کی مثال اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت جیسے نہ جانے کتنے نام دیتے ہیں لیکن دور حاضر میں سچائی یہ ہے کہ وہ اس وقت صرف مسلمانوں کی زبان ہو کر رہ گئی ہے اور انھیں کے نام سے زندہ ہے -
ازادی کے بعد کی پہلی نصف صدی میں اس کی بقا کا حقیقی سہرا اسلامی مدرسوں کے سر جاتا ہے ، یہ مدارس نہ ہوتے تو اج اردو زبان اس اب و تاب کے ساتھ زندہ نہ ہوتی ، اج اردو زبان میں ہر طرح کے علوم کی بہتات ہے، ہمارے ملک میں اردو زبان اور مدارس کا چولی دامن کا ساتھ ہے -
یہاں پر ایک بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے لیے مدارس اسلامیہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ،مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں پر جو حالات گزرے ان میں اسلامی تشخص اور امت مسلمہ کے وقار کو قائم رکھنے کا سہرا صرف مدارس کے سر جاتا ہے ، یقینا ایسے وقت میں مدارس اسلامیہ دین کے قلعہ ثابت ہوئے ،جو تاحال نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطہ برصغیر میں کفر کے سامنے ایک آہنی دیوار بن کر کھڑے ہیں -
مدارس میں جو نصاب تعلیم رائج ہے اس کی بنیاد درس نظامی پر ہے جس کو سولہویں صدی کے مشہور عالم دین ملا نظام الدین سیو ہالوی نے مرتب کیا تھا اس وقت کا یہ نصاب دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سول سروس کا جنرل کورس بھی ہوا کرتا تھا اور اس کے حامل افراد کوتوال سے قاضی القضاء تک کے عہدوں پر فاءز ہوتے تھے ،ان میں عربی و فارسی زبانوں کے ساتھ علوم قران ، تفسیر و حدیث، فقہ اور عقائد، بلاغت و معانی اور عصری علوم میں علم ہیت ،ریاضی، جغرافیہ، طب اور منطق وغیرہ بھی شامل تھے، سن 1857 عیسوی کے حادثے سقوط دہلی کے بعد بھی حالات کافی دنوں تک اس ڈگر پر قائم رہے ، پھر جیسے جیسے اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلتا گیا حالات کروٹ لیتے گئے رفتہ رفتہ مدارس کے فارغین پر ایوان نے حکومت کی نوکریوں کے دروازے بند ہوتے چلے گئے ،ادھر کفر الحاد کی تیز اندھی سے مقابلہ کرنے کے لیے علماء کرام نے دینی علوم کو پڑھانے پر ہی پوری توجہ مرکوز کرنا ضروری سمجھا اور وہ عصری علوم یا تو فرسودہ ہو چکے تھے یا عربی میڈیم کے غلاف میں ملبوس ہونے کے سبب اپنی افادیت کھو چکے تھے، ان سے اپنا دامن چھڑانا ہی بہتر سمجھا لہذا پہلے ہیت، تھر ریاضی اور اس کے بعد علم طب کو برطرف کیا گیا ، ان علوم میں منطق ایسا خوش قسمت فن رہا جو اج بھی مدارس میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے - موجودہ حالات کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مدارس نے برصغیر میں اسلامی تشخص کو قائم دایم رکھنے میں کشیدگی رول تو کیا ہی،ساتھ میں مسلمانوں کو تعلیم سے وابستہ رکھنے میں بھی اہم کردار نبھایا -
اسلامی مدرسوں کی درسیات کو حتمی شکل دینے میں علماء کرام کے مدنظر محض دین کی بقا اور اسلامی علوم کی برقراری اور ملی وقار کو قائم و دائم رکھنا رہا لہذا مدارس میں وہی علوم پڑھائے جاتے ہیں جو دین اسلام کی اساس اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد ہیں وہ بھی عربی زبان کے ذریعے تعلیم کے ساتھ، لہذا برادران وطن اور اربابان اقتدار اور مسلمانوں کے ایک طبقے کی جانب سے مدرسوں کو یہ الزام دیا جاتا رہا ہے کہ ان کے طلبہ مکھیہ دھارا ( مین اسٹریم ) سے کٹ جاتے ہیں جو صرف مذہبی پیشوائی کا کام تو انجام دے سکتے ہیں، مگر دوسری طرف کی قومی ملکی سماجی خدمات انجام دینے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں ، لہذا ایک طبقے کی جانب سے بسا اوقات یہ آواز بلند ہوتی رہتی ہے کہ مدارس اپنے نصاب تعلیم میں تبدیلی کریں اور عصری علوم کو شامل نصاب کریں تاکہ مدارس سے فارغ طلبہ مین اسٹریم سے جڑ کر زمانے سے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کے اہل ہو سکیں - الغرض اپنے بچوں کو دینیات کی تعلیم ہر حال میں دیں/ دلایں ، مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ عصری تعلیم ہندی ،انگلش،حساب، ساءنس ،وجدید ٹکنالوجی کی تعلیم بھی دلایں جو وقت کی اہم ضرورت میں شامل ہے
