برازیل میں ڈرگ مافیا کے ٹھکانوں پر چھاپے، پولیس کارروائی میں 80 افراد ہلاک
ریوڈوجنیرو: (ایجنسیاں)
برازیل کے سیکورٹی اداروں نے دارالحکومت ریوڈوجنیرو میں جرائم پیشہ افراد اور بدمعاشوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔ اس آپریشن میں چار پولیس اہلکار اور تقریباً 80 افراد مارے گئے۔ آپریشن میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں نے بین الاقوامی سوالات کو جنم دیا ہے۔ انکاؤنٹر کی خبروں کے بعد ہر کوئی یہ جاننے کی کوشش کرہا ہے ہے کہ اتنا بڑا آپریشن اچانک کیسے شروع ہوا۔
کاسترو نے ایک ویڈیو تقریر میں کہا،ہم کیا چاہتے ہیں؟ ایک پرامن ریو ڈی جنیرو، جرائم سے پاک برازیل اور ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ عوامی تحفظ جتنا زیادہ ہوگا، آپ اور آپ کے خاندانوں کو اتنا ہی زیادہ تحفظ اور آزاد ی کا احسا س ہوگا۔ اگرچہ یہ آپریشن جانی نقصان کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے، لیکن دارالحکومت میں بڑے واقعات سے پہلے اکثر اسی طرح کی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ برازیل میں متعدد گروہ ہیں، جو منشیات کی اسمگلنگ، ایکسٹورشن اور دیگر بدنام زمانہ سرگرمیوں کے لیے مشہور ہیں۔ اگلے ہفتے ریو ایک اہم موسمیاتی کانفرنس، C40 ورلڈ میئرز سمٹ کی میزبانی کرے گا۔ یہ کارروائی منشیات کی سمگلنگ اور منظم جرائم کے خلاف مہم آپریشن کنٹینمنٹ کا حصہ تھی۔ کمانڈو ورمیلہو گینگ تھا، جسے ریڈ کمانڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے سوشل میڈیا پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران کم از کم 42 رائفلیں
قبضے میں لے لی گئیں۔
کمانڈو ورمیلہو کا سراغ لگانے کے لیے کیا گیا آپریشن کاسترو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،آپریشن کا مقصد کومانڈو ورمیلہو کی علاقائی توسیع کا مقابلہ کرنا اور ریو ڈی جنیرو اور دیگر ریاستوں سے جرائم پیشہ رہنماؤں کو پکڑنا ہے
آپریشن میں 2500 سیکورٹی اہلکار شامل
آپریشن کے پیمانے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں تقریباً 2500 سکیورٹی اہلکاروں نے حصہ لیا ، یہ سکیورٹی اہلکار بکتر بند گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں سے لیس تھے۔ آپریشن کا بنیادی مرکز ریو ڈی جنیرو کے مضافات میں واقع Alemão اور Penha favela کمپلیکس تھا، جہاں غریبی اور گھنی آبادی ہے۔
