ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی— "تھینک یو فار دا پین" عالمی سطح تک: فلم فیر ایوارڈ 2025 میں نیا سنگ میل
نیپال اردو ٹائمز
(خصوصی رپورٹ: نیپال / دہلی بیورو)
ادب، تعلیم، اور انسانی شعور کے سنگم پر ایک ایسا نام ابھر کر سامنے آیا ہے جو جنوبی ایشیائی فکری روایت کو عالمی پلیٹ فارم تک لے گیا ہے— **ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی۔**
حال ہی میں ان کا نام **“انٹرنیشنل فلم فیر ایوارڈ 2025”** کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جو ہر سال دنیا کے چودہ ممتاز شخصیات کو ان کی تخلیقی، سماجی یا فکری خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ یہ انتخاب نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ نیپال اور بھارت کے علمی حلقوں کے لیے بھی باعثِ فخر لمحہ ہے۔
ڈاکٹر ساجد احمد کی انگریزی کتاب **“Thank You for the Pen”** رواں سال فروری میں منظر عام پر آئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ کتاب ادبی دنیا میں بحث کا موضوع بن گئی۔ اس کی تحریر میں ایک ایسا امتزاج ہے جس میں **فلسفہ، روحانیت، اور تخلیقی اخلاقیات** کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ "قلم صرف ایک آلہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے"— اور لکھنے والا انسان اس امانت کا امین ہے۔ مصنف کے مطابق، آج کے شور زدہ دور میں قلم کو صداقت، شکر اور شعور کے ساتھ جوڑنا ہی اصل تخلیقیت ہے۔
*“Thank You for the Pen”* دراصل ایک فکری سفر ہے— ایک ایسا سفر جو قاری کو احساس دلاتا ہے کہ **لکھنا عبادت ہے، تحریر ذمہ داری ہے، اور خاموشی میں بھی اظہار چھپا ہے۔کتاب میں مصنف نے مختلف ابواب کے ذریعے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جدید دنیا میں تحریر کا مقصد صرف معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ انسانیت کی تطہیر بھی ہونا چاہیے۔یہ کتاب نہ صرف مصنف کے ذاتی تجربات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس میں ایک **عالمی انسانی شعور** کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی صرف ایک مصنف نہیں بلکہ ایک معلم، مصلح، اور فکری رہنما بھیہیں۔ وہ اس وقت IAR Mission English Boarding School کے پرنسپل ہیں اور کئی سالوں سے تعلیم و تربیت کے میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کا نظریہ تعلیم محض نصابی حد تک محدود نہیں بلکہ وہ طلبہ میں **کردار سازی، اخلاقی تربیت، اور تخلیقی سوچ** کو فروغ دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم اگر دل و دماغ دونوں کو روشن نہ کرے تو وہ ادھوری ہے۔“Thank You for the Pen” کی اشاعت کے بعد ڈاکٹر ساجد احمد کو نیپال، بھارت، برطانیہ، اور خلیجی ممالک میں مختلف علمی و ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ لندن بُک آف ورلڈ ریکارڈز نے بھی انہیں “Inspiration for Human Race” کے عنوان سے ایک **عالمی تعریفی سرٹیفکیٹ** عطا کیا۔ان کے کام کو نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ **بین الاقوامی لٹریری کونسلز** نے بھی سراہا، اور کئی جامعات میں ان کی کتاب کو **“ادبِ شکر گزاری”** کے تناظر میں بطور ریفرنس پیش کیا جا رہا ہے۔
عام طور پر فلم فیر ایوارڈ کو فلمی دنیا سے منسلک سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس نے اپنے دائرۂ اثر کو وسعت دی ہے۔ اب یہ ایوارڈ ایسے افراد کو بھی دیا جاتا ہے جنہوں نے **ادب، فلسفہ، یا انسانی فلاح**
کے شعبوں میں عالمی سطح پر اثرات مرتب کیے ہوں۔
ڈاکٹر ساجد احمد کا انتخاب اسی تناظر میں ایک **ادبی سنگ میل** کی
حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی کتاب کو “Thoughtful Literature of the Year” کے زمرے میں نامزد کیا گیا ہے، اور ان کا پیغام — *“Writing is not a habit; it’s a moral act”* — بین الاقوامی ادبی دنیا میں ایک نیا نظریہ بن کر ابھرا ہے۔ڈاکٹر ساجد احمد کی تحریروں میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ **اخلاقی شعور، مذہبی رواداری، اور فکری خود احتسابی** کی وکالت کرتے ہیں۔ان کے مطابق، آج کے مصنف کو صرف لکھنے والا نہیں بلکہ ایک **فکری رہنما (Moral Guide)** ہونا چاہیے۔کتاب کا ہر باب قاری کے ضمیر سے مکالمہ کرتا ہے — کبھی خاموشی میں، کبھی سوال کی صورت میں، اور کبھی شکر کی زبان میں۔نیپال، بھارت، اور برطانیہ کے متعدد ادبی اداروں نے ان کی کامیابی کو "جنوبی ایشیائی ادب کے لیے ایک روشن لمحہ" قرار دیا ہے۔ممبئی میں رواں سال 18 نومبر کو منعقد ہونے والی تقریب میں، ڈاکٹر ساجد احمد کو یہ اعزاز پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، ایوارڈ کے بعد “Thank You for the Pen” کو فلمی انداز میں پیش کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاکہ اس کے پیغام کو زیادہ وسیع پیمانے پر دنیا تک پہنچایا جا سکے۔ڈاکٹر محمد ساجد احمد علیمی کا یہ اعزاز اس بات کی دلیل ہے کہ **علم اور اخلاق کی بنیاد پر اٹھنے والا قلم سرحدوں سے بلند ہوتا ہے۔“Thank You for the Pen” محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے — **شکر، شعور اور صداقت کی تحریک۔**ان کا سفر اس سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو ایک قلم پوری دنیا کا ضمیر جھنجھوڑ سکتا ہے۔
شہر عالم رضا ناگ پور
