Feb 7, 2026 09:15 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مذہبی کلچر کے لیے مذہبی تعلیم ضروری ہے

مذہبی کلچر کے لیے مذہبی تعلیم ضروری ہے

30 Oct 2025
1 min read

مذہبی کلچر کے لیے مذہبی تعلیم ضروری ہے

محمد افسر شاہی الامجدی المنظری مدرسہ تیغیہ فیض القرآن سہماکنٹھ ویشالی بہار

اسلامی کلچر کو فروغ دینے یا اسے محفوظ رکھنے کے لیے دین کا شعور، سیرت النبی سے آگہی و شرع کی واقفیت ضروری ہے۔اس کے لیے بلاد و امصار سے لے کر دیہات و قریات کے مختلف خطوں میں منظم طریقے سے مکاتیب کے جال بچھانے ہوں گے۔اگر سماج کو بھلے انسانوں کی ضرورت ہے تو دین کی بنیادی تعلیمات کو عام کرنا ضروری ہے۔قرآن کی تلاوت کی حلاوت کو پاکیزہ ماحول دینا ایمان کا حصہ ہے۔

بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خیرکم من تعلم القرآن و علمہ۔ یعنی تمہارے سماج میں سب سے بہتر انسان وہ ہے جو خود قرآن پڑھے اور دوسرے کو پڑھائے۔

یہ مدرسہ ہے تیرا میکدہ نہیں ساقی 

یہاں کی خاک سے انساں بنائے جاتے ہیں 

اسلامی سماج کو آج کئی محاذوں پر مقابلہ ارائی ہے۔

دنیا بھر میں جس رفتار سے ارتداد کے کیسز بڑھ رہے ہیں اس سے ہر مسلم خاندان کو فکر لاحق ہونا چاہیے کہ اپنی اولاد کی اخلاقی و روحانی تربیت کیسے کی جائے۔کفر و شرک کے اس پراگندہ ماحول میں نو عمر بچیوں کی پرورش کی خاطر دینی کلچر کو کس طرح پروموٹ کیا جائے۔

آج دینی تعلیم کا فروغ ہی وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے ہم ارتداد کا سد باب کر سکتے ہیں۔

سماج اور قوم کی تشکیل و تعمیر میں تعلیم کا اہم رول ہوتا ہے۔تعلیم کے بغیر کوئی بھی سماج باوقار زندگی کا تصور نہیں کر سکتا۔قومی اقبال و ملی ارتقا کا راز اسی تعلیم و تعلم میں مضمر ہے۔اقرأ کہ کر قرآن نے تعلیم و تربیت کی اہمیت دو چند کر دی ہے۔

ہم اکیسویں صدی کے ربع اول میں ہیں۔دنیا بڑی تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے۔مصنوعی ذہانت کے سبب انسان نے علوم و فنون کے سینکڑوں معرکے سر کر لیے ہیں۔ایسے میں سائنس و ٹیکنالوجی کے راستے آزاد معاشرے کا وجود میں آنا لازم تھا۔اس صدی کے ایجادات کے درمیاں اسکول کالج کی تعلیم تو عام ہو گئی لیکن مذہبی تعلیم کو فروغ ملنے کے بجائے پس پشت ڈال دیا گیا۔آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ مسلم سماج کی ایک بڑی آبادی کو قرآن کی چار سورتیں بھی یاد نہیں۔

دینی تعلیم وہ روشن چراغ ہے جس کی ضرورت ناصرف زندگی میں بلکہ بعد الموت بھی پڑنے والی ہے۔سماج کے ہر فرد، ہر بچے، ہر جوان،ہر بوڑھے ہر مرد و عورت کو دین کی بنیادی تعلیمات سے واقفیت لازما ہونی چاہیے۔تعلیم و تدریس قرآن کا نظم سماج کے باشعور، بالغ نظر اور جہاں آگاہ افراد کی ترجیحات میں شامل رہنا چاہیے۔

حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اجبوالعربی لثلاث فانی عربی والقرآن عربی ولسان اھل الجنۃ عربی۔ یعنی تم تین وجوہات سے عربی سے محبت کرو۔ پہلی وجہ یہ ہے میں عربی ہوں، دوسری وجہ یہ ہے کہ خدا کا نازل کردہ قرآن عربی میں ہے، تیسری وجہ یہ ہے کہ جنت میں سارے جنتیوں کی زبان بھی عربی ہی ہوگی۔

حدیث کے ان الفاظ سے عربی اور قرآن دانی کی اہمیت بخوبی واضح ہے۔لیکن حیف صد حیف

کہ آج مسلم سماج نے سرکاری ملازمت کے حرص و طمع میں الجھ کر مدرسے کی تعلیم سے منہ موڑ لیا ہے۔یہیں سے سماج میں برائیاں جنم لینے لگیں، مسائل پیدا ہونے لگے، اسلامی کلچر کی جگہ مشرکانہ و کافرانہ نظام رائج ہوتا چلا گیا۔رفتہ رفتہ دین کی روح رخصت ہو گئی، سماج مردہ ہو کر رہ گیا۔

چلتے چلتے عرض کر دوں کہ جس طرح سانس لینے کے لیے آکسیجن کی فراہمی ضروری ہے ٹھیک اسی طرح افراد سماج کے ایمان کی تابندگی اور اخلاق کی زندگی کے لیے دینی تعلیم از حد ضروری ہے۔ دنیا چاہے جتنا بھی آگے نکل جائے مگر ہم بحیثیت مسلمان اس بات کے پابند ہیں کہ پیچھے چلیں اتنا پیچھے کہ جہاں سے قرون اولیٰ، ثانیہ و ثالثہ کا اسلامی کلچر نظر آنے لگے۔ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم سے بھی مزین کریں۔أج ہماری ذمے داری ہے کہ سماج میں مدینے کا وہ صفہ نما مکتب چلایا جائے جہاں ایک ساتھ ستر ستر صحابہ پیغمبر اسلام سے تعلیم و تربیت حاصل کر رہے تھے۔ہمیں مخلصانہ طور پر دار ارقم کی چہار دیواری میں چلنے والا نبی کا وہ مدرسہ یاد کرنا ہوگا جو بوسیدہ کمرے میں قائم تھا لیکن اس میں پڑھنے والے دین کے سب سے بڑے جاں باز سپاہی ہوئے۔

مصطفی پڑھاتے تھے سب صحابہ پڑھتے تھے 

اس طرح سے چلتا تھا مدرسہ مدینے کا۔

میں حقیر افسر شاہی جب گرول آیا تو ہر طرف وہی غیر دینی منظر بکھرا ہوا تھا۔قرآنی تعلیمات سے لوگوں کا تعلق کمزور پڑ چکا تھا۔ہہاں کے بچوں میں دینی تعلیم کی نئی لہر دوڑانے کے لیے ہم نے کمر باندھی اور بڑی جد وجہد کے ساتھ نو عمر لڑکیوں لڑکوں کو دین سکھانے کا بیڑا اٹھایا۔

بچوں کے اندر تعلیمی لیاقت بڑھانے اور علمی تجسس کو مہمیز کرنے کے لیے ہم نے سالانہ مسابقاتی اجلاس کا شیڈول تیار کیا تاکہ طلبہ و طالبات کے اندر دینی شعور و مذہب آگاہی کے حصول کے لیے ایک جنون برپا کیا جائے۔بچوں کو انعامات سے نواز کر انہیں مزید شوق و ذوق کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھنے کا راستہ دیا جا سکے۔

یہ ترغیبی پروگرام پچھلے کئی سالوں سے چل رہا ہے جس کے نتائج خاطر خواہ مل رہے ہیں تاہم اب بھی ہم اپنے ٹارگٹ کو چھو نہیں سکے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ ہر گھر کے ہر بچے کو قرآن و حدیث کی بنیادی تعلیمات سے مزین کر دیا جائے یہ تب ہی ہوگا جب آپ سب میرے ہم قدم ہوں گے۔میرے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔جب آپ نو نہالان قوم و ملت کی علمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے، اور سماج کے اندھیرے میں دینی تعلیم کا چراغ روشن کرنے کے لیے میرے دست و بازو بن جائیں گے تب یقینا انقلاب کی روشنی سے پورا علاقہ جگمگا اٹھےگا۔میرے دل سے آواز نکلے گی

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر 

لوگ ساتھ آتے گئے کارواں بنتا گیا

محمد افسر شاہی الامجدی المنظری مدرسہ تیغیہ فیض القرآن سہماکنٹھ ویشالی بہار

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383