استقبال رمضان المبارک:خوداحتسابی ،اصلاح نفس اور تقویٰ کی طرف دعوت
محمد علی شیر قادری نظامی
سکونت: روضہ شریف مہوتری نیپال
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنی
تمام تر رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید نازل فرمایا، جسے ہدایت اور حق و باطل میں امتیاز کی روشن دلیل بنایا گیا۔ رمضان محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ نفس کی تربیت، کردار کی اصلاح اور روحانی بلندی کا سنہرا موقع ہے۔ ایسے مبارک موقع پر ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اس مہینے کا استقبال پوری تیاری، خلوصِ نیت اور سنجیدہ فکری رویّے کے ساتھ کریں۔افسوس کا مقام ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ رمضان کی آمد کو صرف کھانے پینے کے اوقات کی تبدیلی یا چند مذہبی رسومات تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ رمضان تو مکمل نظامِ حیات کی اصلاح کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں صبر سکھاتا ہے، شکر گزاری کا سبق دیتا ہے اور تقویٰ کی دولت عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں روزے کا مقصد ہی تقویٰ قرار دیا گیا ہے، یعنی اللہکی نافرمانی سے بچنے کی مستقل عادت پیدا کرنا۔ لہٰذا رمضان کا استقبال اسی شعور کے ساتھ ہونا چاہیے کہ یہ مہینہ ہماری زندگی کا رخ بدلنے آیا ہے۔رمضان سے پہلے ہمیں اپنے دلوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کینہ، حسد، بغض اور نفرت جیسی بیماریاں دل کو مردہ کر دیتی ہیں۔ اگر دل صاف نہ ہو تو عبادت کا لطف بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دلوں کو معاف کرنے، درگزر کرنے اور محبت بانٹنے کا عادی بنائیں۔ جو شخص دوسروں کو معاف نہیں کرتا، وہ اللہ کی معافی کا امیدوار کیسے بن سکتا ہے؟اسی طرح ہمیں اپنی عبادات پر بھی نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ نماز، جو دین کا ستون ہے، کیا ہم اسے وقت پر اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں؟
رمضان ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی نمازوں کو سنواریں، قرآنِ مجید سے اپنا رشتہ مضبوط کریں اور دعا کو
محض رسمی الفاظ کے بجائے دل کی آواز بنائیں۔ تراویح، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور نوافل کا اہتمام ہمیں اس مہینے میں روحانی سکون عطا کرتا ہے،بشرطیکہ نیت خالص ہو۔رمضان ہمیں معاشرتی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔ بھوک اور پیاس کا تجربہ ہمیں غریبوں، مسکینوں اور ناداروں کی تکلیف کا شعور دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم صرف اپنے لیے نہ جئیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے اپنے مال کو پاک کریں اور معاشرے کے کمزور طبقے کا سہارا بنیں۔ یاد رکھیے، وہ روزہ جو ہمیں انسان دوست نہ بنائے، اس کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔رمضان کا استقبال ہمیں وقت کی قدر بھی سکھاتا ہے۔ یہ مہینہ تیزی سے گزر جاتا ہے اور جو لمحے غفلت میں ضائع ہو جائیں، وہ واپس نہیں آتے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ فضول مشاغل، بے مقصد گفتگو اور غیر ضروری مصروفیات سے خود کو بچائیں۔ سوشل محفلوں اور دنیاویلذتوں کے بجائے تنہائی میں اللہ سے تعلق جوڑنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی لمحات ہماری آخرت کا سرمایہ بنتے ہیں۔آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ رمضان ہر سال ہمیں یہ پیغام دینے آتا ہے کہ اگر ہم ایک مہینے تک خود کو گناہوں سے روک سکتے ہیں تو باقی گیارہ مہینے کیوں نہیں؟ اگر ہم رمضان میں اچھے انسان بن سکتے ہیں تو سارا سال کیوں نہیں؟ اصل کامیابی یہی ہے کہ رمضان کے بعد بھی ہماری زندگی میں مثبت تبدیلی باقی رہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کا صحیح معنوں میں استقبال کرنے، اس کی قدر پہچاننے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خادم علم وتدریس: مدرسہ اقبالیہ برکاتیہ لوہار پٹی
