Feb 7, 2026 10:51 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ایڈیٹر روحانی سائنس کا روحانی کالم

ایڈیٹر روحانی سائنس کا روحانی کالم

30 Oct 2025
1 min read

ایڈیٹر روحانی سائنس کا روحانی کالم

عارف بابا سیلانی نیو ممبئی مہاراشٹرا انڈیا ای میل و۔

+91 8976289786

roohanienterprises2112@gmail.com

السلام علیکم ڈاکٹر محمد عارف صاحب قبلہ اپ کا بھیجا ہوا عمل مجھے بذریعے میری وائف کے ملا لیکن سب چیزوں میں ارام میں جو بلا وغیرہ دکھتی تھی جو تکلیف تھی اپ کے پانی سے اچھی ہوگی جدہ میں مجھے اپ کے رشتہ دار کے توسل سے یہ چیزیں ملی اور مجھے کافی فرق ہے لیکن میں تعویذ نہیں پہن سکتا گلے میں اس لیے شاید اپ نے نگینہ دم کر کے دیا ہے اور تیل پانی بخود وغیرہ سے مجھے کافی ارام نہیں ملا گھر میں جو بلائے وغیرہ دکھتی تھی وہ اچھی ہو گئی اور الحمدللہ کافی فرق ہے لیکن مجھے یہ سمجھ میں نہیں اتا یہاں کے علماء عرب اور دیگر لوگ تعویذ کے بارے میں کیا کہتے ہیں کیا کتابوں میں واقعی ایسا ہے مجھے اس پر تفصیل اپ کی ایک مضمون کے ذریعے چاہیے تاکہ میں اپنے دوست کو بتا سکوں اس سے اس ڈسکس کر سکوں اور اس کو اپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے 

والسلام

 انور کمال جدہ 

وعلیکم السلام 

کمال بھائی اپ کا بہت شکریہ اپ نے ان کو جوائن کیا دیکھیے الگ الگ مکتب فکر کے علماء کا الگ الگ نظریہ ہے لیکن اس نظریے کو ہم غور سے دیکھے اور تمام اختلاف کو سامنے رکھ کر بغیر کسی مسلک کی تعصب کے سمجھے. تو ہماری سمجھ میں اصلي حدیث کا معنى سمجھ میں ا جائے گا تعویز کو لوگ پہننا شرک بدعت یا حرام سمجھتے ہیں وہ دیگر سب چیزیں گلے میں لٹکاتے ہیں کارٹون وغیرہ اسٹیکر وغیرہ سب پہنتے ہیں ان کے گھروں میں چھوٹے چھوٹے کارٹون کی مورتیاں ہوتی ہیں بڑی بڑی مورتیاں ہوتی ہے اور تمام طریقے کے غیر مسلموں کے تہوارمنائے جاتے ہیں مگر اس پر کوئی کمنٹ نہیں کرتا تعویذ کے بارے میں اس کے لیے سختی کرتے ہیں کہ یہ زندہ کمالات دکھاتا ہے اور روحانیت اسلام سے جو ملی ہے اس کا طریقہ سمجھاتا ہے کہ وہ اپ کی کمال اللہ کے کلام میں ہیں پہلے تو یہ لوگ پانی پہ دم کرنے کو بھی شرك و بدعت کہتے تھے کہ حدیث شریف میں کہ پانی میں سانس لینا منع فرمایا لیکن اب ہر جگہ ان کے سینٹر بنے ہوئے ہیں علاج معالجہ کے پانی  برسؤرة بقرة دم کرتے ہیں رقیہ شرعیہ کان میں لگا کے سناتے ہیں کوئی حدیث میں رقیہ شرعیة ہے سنانے کی کان میں لگا کے دلیل نہیں ملتی اور کویت میں جارڈن  كلف میں سب جگہ ان کے روحانی سینٹر اور ان کے شیخ کو اجازت نامہ ہوتا ہےجس كو راقى   بو لا جاتا علاج معالجہ کرتا ہے تو پانی کا چھیٹا مارتے ہیں بیری کے پتے سے نہانے کے لیے دیتے بخور دیتے ہیں کلونجی کا تیل رائے کا تیل دم کر کے دیتے ہیں تکرار کر کے قران شریف سناتے ہیں کون سے صحابی نے تکرار کر کے قران شریف سنائیں گے تو اس ہر چیز سے استدلال کیا جاتا ہے ان کے علماء جس چیز سے استدلال کرے وہ جائز ہے دوسرے علماء مکتب فکر کے اگر استدلال کرے تو وہ ناجائز ہے ایسے ذہنیت لوگوں میں انہوں نے بنا کر رکھی ہے اللہ تعالی ہم سب کو شریعت کے مطاہرہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اب ائیے تعویذ کے بارے میں تمام شرعی تقاضوں کو ہم سامنے رکھتے ہیں علماء کی رائے کے علاوہ قران حدیث اور صحابہ کرام کاف اکابرین کا فعل ہم سامنے رکھتے ہیں اپ اس پر فیصلہ کر لیجئے خود ہی 

تعویذ کی شرعی حیثیت

بمع تعویذ اور تمیمہ میں فرق غیرمقلدین ہر قسم کے تعویذات چاہے قرآنی ہوں یا غیر قرآنی سب کو شرک قرار دیتے ہیں۔ اور اس پر انکی بنیادی دلیل وہ حدیث ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا "مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ." جس شخص نے تمیمہ 

لٹکایا اس نے شرک کیا۔ السلسلة الصحيحة 2961# مسند احمد 16781

غیر مقلدین اس حدیث میں تمیمہ کا معنی تعویذ کرتے ہیں جوکہ بلکل غلط ہے تمیمہ کا معنی تعویذ نہیں منکے ہیں جیساکہ مختلف کتابوں میں مذکور ہے مثلاً 

1۔ صاحب منجد لکھتے ہیں: تمیمہ کی جمع تمائم اور تمیمات آتی ہیں اور تمیمہ منکے یا اس سے ملتی جلتی چیزوں کو کہا جاتا ہے (المنجد ص 64)

2۔ ابن اثیر فرماتے ہیں: تمائم تمیمہ کی جمع ہے اور وہ منکے ہیں (النھایہ ص 198 ج 1)

3۔ یہی بات طاہر احمد الزاوی کہتے ہیں: (القاموس المحیط ص 380 ج 1)

4۔ یہی معنی علامہ ناصر الدین البانی صاحب نے

حاشیہ مشکوۃ ص 1285 ج 2 پر 

5۔6 علامہ منذری اور ابو السعادات کا قول فتح المجید ص 120 پر

7۔ علامہ شوکانی نے نیل الاوطار ص 212 ج 8 پر۔

ہم نے تمیمہ اور تعویذ میں فرق اہل لغت سے ثابت کر دیا لہذا ثابت ہوا کے جو حضرات تمیمہ کا معنی تعویذ کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور اگر بالفرض ان دونوں کو ایک ہی سمجھا جائے تو بھی قرآنی تعویذ شرک ثابت نہیں ہوتا کیونکہ تمیمہ کا شرک ہونا اصل میں اسکے شرکیہ کلمات اور اس سے جڑے باطل عقیدے پر منحصر ہے۔ 

مثال کے طور پر حدیث میں آتا ہے کہ 

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الرقى والتمائم والتِّوَلَة شرك".

ترجمہ: عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ فرما رہے تھے: ”دم، تمائم اور تولہ سب شرک ہیں“۔  [صحيح] - [رواه أبو داود وابن ماجه وأحمد]

اب اس حدیث سے کوئی یہ مراد لے کے تمام قسم کے دم شرک ہیں تو یہ غلط ہوگا کیونکہدم کرنے کی اجازت بلکہ ترغیب خود رسول ﷲﷺ   نے دی ہے۔ صحیح مسلم 5732# میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 " اعرضوا علي رقاكم لا باس بالرقى ما لم يكن فيه شرك"

 حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے، کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: " اپنے دم کے کلمات میرے سامنے پیش کرو دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔"

قارئین ذرا غور فرمائیں قرانی آیات اور ادعیہ ماثورہ سے دم کے جائز ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں جبکہ یہاں دور جاہلیت کے دم کو بھی آپ ﷺ نے جائز قرار دیا بشرطیکہ شرکیہ کلمات نہ ہوں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دم اور تعویذ میں اصل وجہِ منع کفر و شرک ہے، جب یہ نہ ہو تو وہ دم اور تعویذ جائز ہے۔ 

قارئین کرام علاج بالقرآن اگر دم سے ہو سکتا ہے تو لکھے ہوئے پاک اور طیب کلمات سے کیوں نہیں ہو سکتا؟! وہاں بھی اس میں تاثیر اذنِ الٰہی سے آتی ہے،اور تعویذ میں بھی حروف و کلمات مؤثر بالذات نہیں، اثر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے جب وہ چاہے۔

لہذا ایسے تعویذ جن میں اسماء اللہ تعالیٰ یا ادعیہ ماثورہ ہوں اور اس کو موٴثر حقیقی نہ سمجھا جاتا ہو تو اس قسم کے تعویذ کو بھی شرک قرار دینا تحکم و زیادتی ہے، اس لیے کہ اس قسم کے تعویذ کے لینے دینے اور استعمال کی اجازت کتب احادیث سے ملتی ہے۔ 

عارف بابا سیلانی نیو ممبئی مہاراشٹرا انڈیا ای میل و۔

واٹساپ  نمبر ۔براے کرم واٹساپ پر صرف میسیج کریں ۔کال ہرگز نہ کرین ۔

عارف بابا سیلانی نیو ممبئی مہاراشٹرا انڈیا ای میل و۔

واٹساپ  نمبر ۔براے کرم واٹساپ پر صرف میسیج کریں ۔کال ہرگز نہ کرین

+91 8976289786

roohanienterprises2112@gmail.com

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383