تحفظِ حقوقِ نسواں کانفرنس ایک تاریخی کامیابی اور روشن مثال
پریس ریلیز
لمبنی پردیش نول پراسی
نیپال اردو ٹائمز
آج بتاریخ ٢٧ دسمبر ٢٠٢٥ء بروز ہفتہ علماء فاؤنڈیشن نیپال، نولپراسی کے زیرِ اہتمام اور مدرسہ عزیزیہ انوارُالعلوم، رتن گنج کی خصوصی نگرانی میں منعقد ہونے والی تحفظِ حقوقِ نسواں کانفرنس اپنی نوعیت کی ایک عظیم، بامقصد اور تاریخی کامیابی کے طور پر سامنے آئی۔ الحمدللہ! یہ کانفرنس نہ صرف تنظیمی سطح پر ایک شاندار سنگِ میل ثابت ہوئی بلکہ فکری، اصلاحی اور سماجی اعتبار سے بھی اس کے نہایت مثبت اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ حقیقت قابلِ فخر ہے کہ نہایت سرد موسم میں بھی کانفرنس میں عورتوں کی کثیر تعداد (کم و بیش پانچ سو سے زائد )نے بھرپور شرکت کی، جو اس بات کی واضح ثبوت ہے کہ مسلم خواتین اپنے شرعی، اخلاقی اور سماجی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بیدار ہو رہی ہیں اور علماء فاؤنڈیشن نیپال پر ان کا اعتماد روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس اس امر کی روشن دلیل ہے کہ جب دینی قیادت خلوص، حکمت اور اخلاص کے ساتھ میدان میں آتی ہے تو قوم بالخصوص خواتین اس کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔
کانفرنس کا سب سے نمایاں پہلو یہ رہا کہ تحفظِ حقوقِ نسواں کو مغربی نعروں یا غیر اسلامی تصورات کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا گیا۔ مقررین بالخصوص محترمہ عالمہ فاضلہ مفتیہ قمر جہاں امجدی صاحبہ مرکزی رکن علماء فاؤنڈیشن نیپال و محترمہ عالمہ فاضلہ مفتیہ حسن آرا امجدی صاحبہ پرنسپل جامعہ گلشن رضا
نسواں ٹھوٹھی باری نے مدلل انداز میں یہ حقیقت اجاگر کی کہ اسلام نے عورت کو عزت، وقار، تحفظ اور حقوق کا وہ جامع نظام عطا کیا ہے جو دنیا کے کسی بھی نظام میں موجود نہیں۔ بحیثیت بیٹی، بہن، بیوی اور ماں عورت کے حقوق کو جس توازن، رحمت اور عدل کے ساتھ بیان کیا گیا، وہ سامعین کے دلوں میں اترتا چلا گیا۔
مدرسہ عزیزیہ انوارُالعلوم، رتن گنج کے پرنسپل عزت مآب جناب ماسٹر عبدالجبار صاحب و علماء فاؤنڈیشن نیپال نولپراسی کے نمائندہ متحرک و فعال عالم دین رفیق محترم حضرت مولانا ظہر الدین صاحب قبلہ و رفیق محترم حضرت مولانا حافظ علی حسین صاحب قبلہ و ہمدرد قوم مخلص العلماء حضرت حافظ تصور علی صاحب قبلہ و نباض قوم حضرت مولانا شہادت حسین نظامی صاحب قبلہ و عزیزم حضرت مولانا نور عالم صاحب قبلہ و محب گرامی قدر حضرت حافظ و قاری شعیب احمد صاحب قبلہ کی خصوصی نگرانی نے اس پروگرام کو علمی وقار، نظم و ضبط اور دینی سنجیدگی عطا کی۔ مدرسہ کے ذمہ داران، اساتذہ و معلمات اور منتظمین کی محنت، حسنِ انتظام اور اخلاص قابلِ ستائش ہے، جنہوں نے کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح علماء فاؤنڈیشن نیپال، نولپراسی کے صدر محترم حضرت مولانا سراج احمد نظامی صاحب قبلہ و انچارج حضرت مولانا محمد صبر عالم علیمی صاحب قبلہ و مرکزی رکن ہمارے مربی و
محسن حضرت مولانا محرم علی نظامی صاحب قبلہ و جملہ اراکین و معاونین کی شب و روز کی جدوجہد، دعوتی بصیرت اور اجتماعی محنت اس کامیابی کی اصل روح رہی۔
یہ کانفرنس درحقیقت ایک پیغام ہے—
ایک پیغام مسلم معاشرے کے لیے کہ عورت کے حقوق کا تحفظ صرف نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم، تربیت اور دینی رہنمائی سے ممکن ہے۔
ایک پیغام خواتین کے لیے کہ اسلام ان کا سب سے بڑا محافظ ہے۔
اور ایک پیغام پوری قوم کے لیے کہ علماء فاؤنڈیشن نیپال ایک ذمہ دار، بیدار اور مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔آخر میں ہم دل کی گہرائیوں سے علماء فاؤنڈیشن نیپال نولپراسی، مدرسہ عزیزیہ انوارُالعلوم رتن گنج کے ذمہ داران، تمام علماء، منتظمین، کارکنان اور شریک خواتین کو اس عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے، اسے دوام عطا کرے اور علماء فاؤنڈیشن نیپال کو مزید وسعت، مقبولیت اور اثر پذیری نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! یہ کامیابی مستقبل کی مزید عظیم دینی و اصلاحی تحریکوں کی نوید ہے۔
سید غلام حسین مظہری
مرکزی صدر علماء فاؤنڈیشن نیپال
+918795979383مضمون ارسال کریں
