مرکز اہل سنت بریلی شریف کا ایک یادگار سفر
پریس ریلیز
نیپال اردو ٹائمز
شہر بریلی بالخصوص بر صغیر میں سواد اعظم اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت کے ماننے والوں کے دلوں کی ڈھڑکن کا نام ہے. اس شہر محبت کا نام آتے ہی سنی مچل جاتے ہیں اور اگر خانوادۂ اعلی حضرت مجدد دین و ملت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کی بات آجائے تو جذبۂ جانثاری سے سرشار کشاں کشاں اس شہر کا رخ کر لیتے ہیں.
موصولہ اطلاع کے مطابق جانشین حضور تاج الشریعہ، قائد ملت علامہ مفتی محمد عسجد رضا خان قادری دامت برکاتہم العالیہ کی طبیعت ناساز چل رہی ہے ان کے پاؤں میں چوٹ آئی ہے ، اللہ تعالیٰ حضور والا کو سلامت رکھے اور شفائے کاملہ عطا فرمائے.
آپ کی مزاج پرسی اور عیادت کے لیے مخیر قوم ملت عالی جناب الحاج وحید اللہ خان نظامی النظامی دربار ریسٹورنٹ مرول ناکہ ممبئی نے شہر بریلی شریف کے لیے رخصت سفر باندھا. 30 اکتوبر دوپہر بروز جمعرات اپنے وطن پکری چوبے پوسٹ جمدا شاہی ضلع بستی سے روانہ ہوکر اعظم گڑھ پہنچے اور وہاں سے اپنے عظیم مشفق و مہربان عالم ربانی، خطیب اسلام، شمس الفقہاء حضرت علامہ مفتی محمد شمشاد مصباحی شیخ الحدیث الجامعۃ الامجدیہ گھوسی مئو کی معیت اختیار کی جو عرس حبیبی دھام نگر شریف میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے اور دو تین روز کے لمبے سفر سے آرہے تھے. یہ قافلۂ شوق حضور شمس الفقہاء کی سربراہی میں اعظم گڑھ سے بریلی شریف کے لیے پا بہ رکاب ہوا. رات بارہ بجے کے قریب شہر بریلی شریف میں پہنچے، ازہری گیسٹ پر قیام تھا لہذا سیدھا وہیں گئے، جمعہ کی صبح امام اہل سنت سیدنا سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے مزار مقدس پر اور جانشین حضور مفتی اعظم سرکار تاج الشریعہ علیہ الرحمه کے روضے پر حاضری دی، گلہائے عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی کی. اس کے بعد گیسٹ ہاؤس واپس آگئے.
جمعہ کی نماز احاطۂ مزار حضور تاج الشریعہ میں پڑھنا طے تھا، وہاں بھیڑ کافی تھی، جامعۃ الرضا سے کثیر تعداد میں طلبۂ کرام بھی آنے والے تھے، حضور قائد ملت نے کرم فرماتے ہوئے اپنے باڈی گارڈ جناب اختر صاحب کو ازہری گیسٹ ہاؤس بھیجوا دیا تاکہ آسانی سے باریابی ہوسکے. طے شدہ پروگرام کے مطابق مزار حضور تاج الشریعہ کے احاطے میں نماز جمعہ ادا کی گئی، بعدہ دوبارہ فاتحہ خوانی کی سعادت حاصل ہوئی، حضور قائد ملت کے مصافحہ کرنے والوں کی بڑی کثرت تھی، داماد حضور قائد ملت حضرت سلمان میاں قبلہ ہمارے کھانے کا اہتمام فرمایا، پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے حضور قائد ملت دام ظلہ العالی نے اندرون خانہ ہی دوپہر کا کھانا تناول فرما فرمایا، بعد طعام آپ باہر تشریف لائے اور دیر تک اپنی زیارت، تکلم اور دلنوازی سے مشرف فرمایا، یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا، بعد عصر دوبارہ بھی باریابی کا شرف عطا فرمایا، طبیعت کی ناسازی کے باوجود اتنی عنایت اور کرم فرمائی یقیناً حضور قائد ملت کی اعلی ترین سخاوت و شفقت کی دلیل ہے، احباب اور خدام باربار کہتے رہے کہ حضور آرام فرمائیں طبیعت ناساز ہے مگر آپ کرم بالائے کرم فرماتے رہے، یہاں تک فرمایا کہ یہ قافلہ آج قیام کرے لیکن حضور شمس الفقہاء کو صبح میں درسگاہ میں حاضر ہونا تھا اس لیے قیام کی گنجائش نہ تھی، لہذا حضور قائد ملت کی ڈھیر ساری دعاؤں، عنایتوں اور کرم فرمائیوں کے تحفے لیے رخصت کی اجازت لے کر یہ قافلہ واپسی کے لیے پارکاب ہوا. اس سفر میں حضور قائد ملت کے داماد حضرت سلمان میاں صاحب، حضرت سید عبد الصمد صاحب اور محترم بختیار صاحب سے بھی بطور خاص ملاقاتیں رہیں، نیز اسیر حضور تاج الشریعہ جناب آس محمد خان صاحب ممبئی اور جناب ڈاکٹر لائق علی صاحب گونڈہ بھی سے بھی وہاں ملاقات ہوئی.ملاقاتوں سے فارغ ہو کر گھوسی شریف کے واپسی ہوئی ، قافلہ منزل کی طرف رواں دواں تھا، حاجی وحید اللہ صاحب کا بیان ہے کہ رات ساڑھے تین بجے کے قریب جامعہ اشرفیہ کے صدر دروازے پر کھڑے ہو کر بارگاہ حضور حافظ ملت میں فاتحہ خوانی کی گئی، حضور شمس الفقہاء دام ظلہ کے دولت کدے پر پہنچے، آپ نے بہت ہی شاندار اور پرتکلف ضیافت کا منظر پیش فرمایا، جسے دیکھ کر طبیعت اور آنکھ خوب آسودہ ہوئی اور آپ کے حسن انتظام اور اعلی اخلاق سے ہم بہت متاثر ہیں، کیوں کہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ حضرت ایسے کاموں کے عادی ہیں، عمدہ اخلاق و اطوار اور اعلی افکار آپ کی خصوصیات سے ہیں. آپ کے یہاں سے روانگی کے موقع پر آپ نے عمدہ قسم کے رومال سے حاجی وحید اللہ صاحب اور بابا تنویر صاحب کی شال پوشی فرمائی اور اعلی کوالٹی کا بڑا بوتل عطر بھی تحفتاً عنایت فرمایا.
اس سفر میں جمدا شاہی کے مشہور فرد، عالی جناب بابا تنویر احمد نورانی صاحب کی شرکت قابل ذکر ہے، جو بہت ہی متحرک و فعال ہیں اور دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی کے مخلص کارکن ہیں، آپ بہت نامور سواق ہیں، اس ميدان بہت زیادہ تجربہ رکھتے ہیں، بہت ہی صفائی اور مہارت کے ساتھ گاڑی چلاتے ہیں البتہ یہ عمل ان کا پیشہ نہیں بلکہ شوق ہے، الغرض بابا تنویر صاحب کی وجہ سے ہی اتنا طویل سفر کم وقت میں بحسن و خوبی انجام کو پہنچا.
رپورٹ سراقہ رضوی
