یومِ حضور مفتیِ اعظم ہند اور ان کی شان و عظمت
از قلم : محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی:نائب ایڈیٹر: نیپال اردو ٹائمز
عالمِ اسلام میں جہاں جہاں غلامانِ اعلیٰ حضرت موجود ہیں، وہاں وہاں یومِ رضا کے ساتھ وقتاً فوقتاً یومِ مفتیِ اعظم ہند بھی نہایت عقیدت، محبت، دل جمعی اور ذوق و شوق کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس کی سب سے روشن اور بہترین مثال ازہرِ ہند الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ (یوپی) میں دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں ہر سال یومِ مفتیِ اعظم ہند کے مبارک موقع پر کسی عظیم علمی و دینی شخصیت کی نایاب اور غیر دستیاب کتاب کی اشاعت کا عظیم الشان کام انجام دیا جاتا ہے۔
اسی کے ساتھ طلبۂ کرام کے درمیان نعت خوانی، تقریری مقابلوں اور مقالہ نگاری کا ایک حسین اور علمی امتزاج بھی دیکھنے کو ملتا ہے، جو اس عظیم نسبت کی علمی و روحانی برکات کا مظہر ہے۔
اسی مبارک مناسبت اور اسی درخشاں روایت کی پیروی کرتے ہوئے، یہ ناچیز بھی حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ کی خدمتِ اقدس میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے، اور آپ کی حیاتِ طیبہ کے ایک روشن گوشے کو مختصر انداز میں اہلِ محبت کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حضور مفتیِ اعظمِ ہند، حضرت علامہ الشاہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری نوری علیہ الرحمۃ والرضوان، علم و عمل، فقہ و افتا، تقویٰ و طریقت اور ولایت و روحانیت کی ایک عظیم و درخشاں شخصیت تھے۔ آپ مجدد ابنِ مجدد، فقیہ ابنِ فقیہ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے سچے جانشین تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا فیض عطا فرمایا کہ آپ کے ذریعے اعلیٰ حضرت کا علمی و روحانی فیضان برصغیر سے نکل کر دنیا کے بے شمار شہروں اور دیہاتوں تک پہنچا اور لاکھوں تشنگانِ علم و معرفت اس سے سیراب ہوئے۔
حضور مفتیِ اعظمِ ہند علیہ الرحمہ محض ایک سرچشمۂ فیض نہ تھے، بلکہ رحمت کے ایسے بادل تھے جو خود چل کر ہر طبقۂ انسانیت پر برستے
رہے۔ آپ کے علم و فیضان سے خواص و عوام، شہر و دیہات سب یکساں مستفید ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے وصال کے وقت بریلی شریف میں عقیدت مندوں کا ایک عظیم الشان اجتماع امڈ آیا تھا، جو آپ کی بے مثال مقبولیت اور عوامی محبت کا روشن ثبوت تھا۔
*اسمِ گرامی:* حضور مفتیِ اعظم ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیدائشی اور اصلی نام "محمد" ہے۔ اسی نامِ پاک پر آپ کا عقیقہ ہوا۔ پیر و مرشد نے آپ کا نام "ابو البرکات محی الدین جیلانی" تجویز فرمایا، اور والدِ ماجد نے عرفی نام "مصطفیٰ رضا" رکھا۔ فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص "نوری" فرماتے تھے۔
*ولادت:* ۲۲ ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۷ جولائی ۱۸۹۳ء بروز جمعہ، بوقتِ صبحِ صادق، بمقام محلہ سوداگران، بریلی شریف میں ہوئی۔
آپ کی ولادت کا سنِ ہجری اس آیتِ کریمہ سے نکلتا ہے: ’’وَسَلَامٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَىٰ‘‘۔
*بیعت و خلافت:** ۲۵ جمادی الاخریٰ ۱۳۱۱ھ کو ۶ ماہ ۳ یوم کی عمرِ شریف میں سید المشائخ حضرت شاہ ابو الحسین احمد نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی انگشتِ مبارک آپ کے دہنِ مبارک میں ڈالی، جسے آپ شیرِ مادر کی طرح چوسنے لگے۔ حضرت نوری میاں نے آپ کو داخلِ سلاسل فرمایا اور تمام
سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے علاوہ والدِ ماجد، مجددِ اعظم،
امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ سے بھی آپ کو اجازت و خلافت حاصل تھی۔
*پیر و مرشد کی بشارت:* سید المشائخ حضرت شاہ سید ابو الحسین احمد نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو بیعت کرتے وقت ارشاد فرمایا:
"یہ بچہ دین و ملت کی بڑی خدمت کرے گا اور مخلوقِ خدا کو اس کی ذات سے بہت فیض پہنچے گا۔ یہ بچہ ولی ہے۔ اس کی نگاہوں سے لاکھوں گمراہ لوگ دینِ حق پر قائم ہوں گے۔ یہ فیض کا دریا بہائے گا۔"
*تعلیم و فراغت:* آپ نے ۱۳۲۸ھ (۱۹۱۰ء) میں ۱۸ سال کی عمر میں جملہ علوم و فنون پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہلِ سنت دارالعلوم منظرِ اسلام، بریلی شریف سے سندِ فراغت حاصل کی۔
*وفات:** آپ رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ (مطابق ۱۲ نومبر ۱۹۸۱ء) کو ہوا۔ آپ کا مزارِ پرانوار والدِ ماجد کے مزار کے جوار ہی میں بریلی شریف میں واقع ہے۔
*مفتیِ اعظم کا لقب:*
صدر الافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی کے حوالہ سے روایت ہے کہ یہ لقب (یعنی مفتیِ اعظم کا لقب) خود امام احمد رضا فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی عطا فرمایا۔
حضور اعلی حضرت کے ساتویں عرس (۲۵ صفر ۱۳۴۴ھ) کے عظیم الشان اجلاس میں حجتہ الاسلام سمیت غیر منقسم ہندوستان کے
بڑے بڑے مفتیانِ کرام اور علماءِ عظام موجود تھے، اس اجلاس میں آپ کو مفتیِ اعظم کہا گیا اور حضرت حجتہ الاسلام کے حکم
سے منظور شدہ تجویزوں میں سے ایک تجویز میں آپ کے لیے "مفتیِ اعظم" کا لفظ آیا ہے۔
اور آل انڈیا سنی کانفرنس ۱۹۴۶ء بنارس کے تاریخ ساز اجلاس میں، جس میں پانچ سو مشائخِ عظام اور سات ہزار مفتیانِ کرام و علماءِ فخام شریک تھے، اس میں آپ کو بار بار "مفتیِ اعظم" کے لقب سے یاد کیا گیا اور اس کی مختلف تجویزوں میں مفتیِ اعظم لکھا گیا۔
*حضور مفتیِ اعظم ہند علما و مشائخ کی نظر میں*
*حضور محدثِ اعظم ہند کی نظر میں:*
حضور محدثِ اعظم حضرت سید محمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ، حضور مفتیِ اعظم ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک فتوے کی تصدیق فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"هَذَا حُكْمُ الْعَالِمِ الْمُطَاعِ وَمَا عَلَيْنَا إِلا الاتِّبَاع" (یعنی: یہ ایک ایسے عالم کا حکم ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے، اور ہمارے لیے اتباع کے سوا کوئی چارہ نہیں)۔(جہان مفتی اعظم ہند، ص ۲۴۱)
نیز تاجدار اشرفیت حضرت مفتی شاہ سید محمد محدثِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے اپنے خطبۂ صدارت ’’ارشادات دین پرور‘‘ میں فرمایا: "میرا خیال ہے سنی جمیعتِ علماء کیا چیز ہے؟ کاش اس سوال کا جواب حضرت مفتیِ اعظم، سنیوں کا آقا، سنیوں کا مرکزی آسرا کا قلم دیتا۔" (المیزان ، اپریل، ص ۱۴۱)
*حضور حافظِ ملت کی نظر میں:*
بانیِ جامعہ اشرفیہ، حضرت الشاہ عبدالعزیز
محدث مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
"حضور مفتیِ اعظم ہند بلا شبہ ولی ہیں۔ آج جو ان سے پڑھ رہا ہے، کل اسے اس پر فخر ہوگا کہ میں نے حضور مفتیِ اعظم علیہ الرحمہ سے پڑھا ہے۔ جو ان سے بیعت ہوگا، اسے اس پر
فخر ہوگا کہ میں حضور مفتیِ اعظم سے بیعت ہوا ہوں۔ جو ان سے مصافحہ کرے گا، وہ اس پر فخر کرے گا کہ میں نے ان سے مصافحہ کیا ہے۔ جو ان کی زیارت کرے گا، وہ اس پر فخر کرے گا کہ میں نے انہیں دیکھا ہے۔ حضور مفتیِ اعظم تقویٰ و طہارت کے پیکر اور علم و فن کے سمندر ہیں۔( انوار مفتی اعظم، ص ۱۹۸)
*حضور احسنُ العلماء کی نظر میں:*
تاجدار مارہرہ مطہرہ ، علمبردارِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، سید شاہ مصطفیٰ حیدر حسن میاں، احسنُ العلماء قادری برکاتی علیہ الرحمہ کو فرماتے ہوئے سنا گیا ہے کہ: "اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا اور حضرت مفتیِ اعظم محمد مصطفیٰ رضا کا ذکر میرے گھر میں روز ہوتا ہے۔ ایک دو بار نہیں، بلکہ دن بھر میں کئی بار ہوتا ہے۔"
*حضور بدرِ ملت کی نظر میں:*
حضرت مولانا انوار احمد قادری صاحب قبلہ اپنی مشہور و معروف کتاب ’’انوار البیان ِ ج۱، ص ۲۵۳) میں لکھتے ہیں :
راقم الحروف (انوار احمد قادری) نے خود اپنے مرشدِ کریم، استادِ شفیق، عالمِ باعمل، ولیِ کامل حضرت مولانا مفتی الشاہ محمد بدرالدین احمد قادری رضوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان فرماتے ہوئے متعدد بار سنا ہے کہ: "شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مفتیِ اعظم الشاہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری نوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نائبِ غوثِ اعظم اور قطبِ عالم تھے۔"
*حضور بحر العلوم کی نظر میں:*
بزرگوں کی یادگار، سراپا خلوص و وفا، حضرت علامہ مولانا الشاہ مفتی عبدالمنان صاحب قبلہ اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ: "حضور مفتیِ اعظم الشاہ محمد مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ اہلِ دل، صوفی اور باکمال بزرگ تھے۔ حضور مفتیِ اعظم وعظ و تقریر نہیں فرماتے تھے، لیکن لوگوں کی رشد و ہدایت کے لیے ان کے چند جملے ہی لمبی تقریروں پر بھاری تھے۔"
مضمون کی طوالت کی وجہ سے انہیں چند معزز ہستیوں کے اقوال و بیانات پہ اس اہم بات کو اجمالا اختصار کے ساتھ بند کرتا ہوں ۔
حضور مفتیِ اعظم ہند الشاہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری نوری علیہ الرحمہ کی ذاتِ گرامی چودہویں صدی کے افق پر علم و عرفان، شریعت و طریقت اور تقویٰ و طہارت کا ایک ایسا درخشندہ ستارہ تھی جس نے لاکھوں دلوں کو ایمان و سنت کی روشنی سے منور کیا۔ آپ نے نہ صرف فتاویٰ نویسی اور تدریس کے ذریعے دینِ متین کی بے لوث خدمت کی، بلکہ اپنے کردار و عمل سے اسلاف کی یاد تازہ کر دی۔ اکابرینِ امت کے تاثرات اور آپ کے جلیل القدر تلامذہ و خلفاء کا علمی و روحانی مقام اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ اپنے وقت کے عالم ربانی اور مرجعِ خلائق تھے۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور مفتیِ اعظم ہند کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مسلکِ حق، مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت عطا فرمائے اور ان کے فیوض و برکات سے ہمیں ہمیشہ سیراب رکھے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
از قلم : محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی
نائب ایڈیٹر: نیپال اردو ٹائمز
بنوٹا، مہوتری، نیپال
16 / محرم الحرام 1448ھ
02/07/2026 بروز جمعرات
