مشرق وسطی میں بدامنی کابحران اورپائیدارامن کی ضرورت
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
مشرق وسطی کا خطہ بہت ہی بدترین صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔مشرق وسطی میں بدامنی کا مسئلہ نیانہیں بلکہ بہت ہی پرانا ہے۔اس خطےکی اپنی تہذیب اور تاریخ ہے۔یہ دنیا کا وہ قدیم خطہ ہے جہاں انسانی تمدن کی بنیادیں پڑیں۔تاریخی حوالے کے مطابق،3000 قبل مسیح میں دریائےنیل(مصر)،دجلہ اور فرات کی وادیوں میں شہری تہذیب کا آغاز ہوا۔مشرق وسطی کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔تاریخی اور تہذیبی صورتحال کے باوجودجنگ و جدل بھی ہوتی رہی ہے۔حالیہ صورتحال تب بگڑی جب ایک صدی قبل خلافت عثمانیہ کو بین الاقوامی طاقتوں نے ختم کر دیا تھا۔خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مشرق وسطی پر قبضہ کر کے اس کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔تقسیم کی وجہ سے مشرق وسطی مختلف قسم کے مسائل میں پھنس گیا۔1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا،کچھ حصہ مسلمانوں کو دیا گیا۔وہ تقسیم غلط تھی یا درست یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن اسرائیل کو وسعت دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے کافی عرصہ سے جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔مسلمان،عیسائی اور یہودی تینوں مذاہب کے پیروکار فلسطین کےوارث ہونے کے دعویدار ہیں۔یہودی ہیکل سلیمانی اور دیوار گریہ کے دعوے دار ہیں۔عیسائی بیت اللحم اور مسلمان مسجد اقصی کے حوالے سے دعوے دار ہیں۔اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق بیت المقدس کو کسی بھی فریق کی تحویل میں نہیں دیا گیا۔دوسری عالمی جنگ ختم ہو گئی لیکنمشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہو سکا۔اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی دفعہ جنگیں لڑی گئیں۔حال ہی میں چنگ لڑی گئی جس نے غزہ کو تباہ کر دیا ہے۔یمن میں بھی بد امنی پھیلی ہوئی ہے۔شام،لبنان اورعراق میں بھی کشیدگی کافی عرصہ سے جاری ہے۔حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ لڑی گئی۔ایران اورامریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے،لیکن اب بھی غیر یقینی صورتحال ہے۔دیگر ممالک بھی خوف کا شکار ہیں۔یہ کہنا درست ہے کہ مشرق وسطی کا پورا خطہ بے چینی کا شکار ہو چکا ہے۔
مشرق وسطی کی بعض ریاستیں معاشی طور پر مضبوط ہیں،لیکن دفاعی لحاظ سے کمزور ہیں۔تیل نےبعض ریاستوں کو معاشی مضبوطی دی۔صنعتوں کء توانائی کےحصول کے لیے تیل کی ضرورت ہوتی ہے۔تیل کے بڑے ذخائرکی وجہ سے ریاستوں کو معاشی استحکام نصیب ہوا۔اب روس،وسط ایشیا اور امریکہ میں بھی بڑی مقدار میں تیل دریافت ہو چکا ہے۔کئی ریاستیں مستقبل میں تیل پر انحصار کرنے کی بجائے دیگر ذرائع آمدنی پر توجہ دے رہی ہیں۔سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ عرصے کے بعد تیل کے متبادل کوئی اور توانائی کا ذریعہ دریافت ہو جائے۔توانائی کا اگر کوئی اور ذریعہ دریافت ہو گیا تو تیل کی اہمیت ختم ہو جائے گی۔یہ بڑاالمیہ ہےکہ معاشی استحکام ہونے کے باوجود بھی دفاعی نظام کمزور ہے۔دفاعی نظام کی کمزوری مشرق وسطی کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔کویت،سعودی عرب،قطر اور کچھ دیگر ممالک سلامتی و تحفظ کے لیے بڑی طاقتوں کے محتاج ہیں۔تحفظ کے نام پر بہت بڑا خرچہ کیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی غیر یقینی
صورتحال ہے۔ایران اورامریکہ جنگ نے خلیجی ممالک کی سیکیورٹی پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔دیگر قیمتی خزانے بھی ان علاقوں میں پائے جاتے ہیں لیکن کمزور پوزیشن کی وجہ سے ان سے فائدہ اٹھانے سےقاصر ہیں۔مشرق وسطی کے اکثر ممالک کو بیرونی خطرات کا بھی سامنا ہے اور اندرونی طور پر بھی انارکی پھیلی ہوئی ہے۔جو معاشی طور پر کمزور ریاستیں ہیں وہاں غذائی قلت کے علاوہ دیگر سہولیات بھی ناپید ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ بدامنی ہے جو رکنے میں نہیں آ رہی۔بیرونی قوتیں بھی اپنے مفاد کے لیے اس خطے میں بد امنی کو فروغ دے رہی ہیں۔اس خطے میں اگر امن قائم ہو جائے تو یہ جدید تہذیب کا ایک روشن چہرہ ہوگا۔
اس خطے میں مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے پیروکار رہتے ہیں۔مذہبی اختلافات کے علاوہ دیگر اختلافات بھی موجود ہیں۔مشرق وسطی کے کچھ ممالک میں تہذیب و تمدن پر فخر و غرور بھی کیا جاتا ہے۔مصر میں اپنی تہذیب کو اعلی کہا جاتا ہے،اسی طرح دیگر ممالک کی تہذیبیں فخریہ طور پر پیش کی جاتی ہیں۔سنی،شیعہ اور دیگر مسلکی اختلافات سے بھی اس خطے میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ایران اور سعودی عرب کے درمیان فقہی اختلافات موجود ہیں جس کی وجہ سے امن قائم نہیں ہو سکا۔اسلامی ریاستیں بھی آپس میں اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔مشرق وسطی میں امن قائم کرنے کے لیے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔اس خطے کی پیچیدہ صورتحال خوفناک حد تک بگڑ چکی ہے۔بعض مبصرین کے نزدیک بڑی طاقتوں کےجغرافیائی اور معاشی مفادات نے اس خطے کے تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،اس لیےوہ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ یہ خطہ پرامن ہو جائے۔اگر یہاں امن قائم ہو گیا تو بہت سیطاقتوں کا کنٹرول ختم ہو جائے گا۔امن کے لیے ضروری ہے کہ مشرق وسطی کے تمام ممالک آپس میں متحد ہو کر ایک بلاک بنا دیں۔امن کی ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ اسرائیل بھی ہے۔اسرائیل کی غزہ کے علاوہ دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی جنگیں ہو چکی ہیں۔پرامن حل کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل کو بھی اپنی حد میں رہنے کا پابند کیا جائے۔ایران سمیت دیگر ممالک پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کریں۔بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے کچھ قربانیاں دینا پڑیں گی۔ان ممالک میں سیاسی مسائل بھی پائے جاتے ہیں لہذاسیاسی استحکام بہت ضروری ہے۔تجارت بھی شدید متاثر ہوچکی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں لاکھوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔یو این ڈی پی کے مطابق غزہ کی معیشت کئی دہائیاں پیچھے چلی گئی ہے۔مہاجرین کا مسئلہ بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔پانی کا بحران بھی بعض ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔کچھ گروہ غیر ملکی آلہ کار بن کر انتشار پھیلا رہے ہیں،ان کاسدباب کرنا بھی ضروری ہے۔لبنان اور شام کے حالات بھی انتہائی کشیدہ ہیں،ان علاقوں میں فوری امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔مشرق وسطی میں ظاہری طور پر امن کاقیام انتہائی مشکل نظرآرہا ہے۔بہرحال ناممکن بھی نہیں کہ امن قائم نہ ہوسکے۔عرصہ درکار ہوگا،لیکن صورتحال کنٹرول میں آجائے گی۔مشرق وسطی میں امن کے قیام سے عالمی صورتحال بھی بہتر ہو جائے گی۔عالمی معیشت بہتر ہو سکتی ہے اگر اس خطے میں بد امنی کو روک دیا جائے۔اس خطے میں موجود ممالک اپنی سلامتی اور بقا کے لیے بھرپور کوشش کریں،ورنہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
مشرق وسطی میں دیرپاامن کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل۔غزہ تنازع کا مستقل حل نکالا جائے۔دہشت گردی کا خاتمہ بھی ضروری ہے ورنہ امن نہیں آسکے گا۔اس خطے کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایران اور سعودی عرب بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ دونوں ممالک اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے کشیدگی ختم کر سکتے ہیں۔پاکستان سمیت دیگر ممالک سفارتی کوششیں کر کے امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔ایک واضح جامع امن کے لیے منصوبہ بنا کر اس پر عمل کیا جائے۔سب سے بڑا ایشواسرائیل۔فلسطین تنازع ہے،اس کو اولین بنیادوں پر حل کیا جائے۔بین الاقوامی قوانین کا احترام ضروری ہے۔مشرق وسطی میں اگر امن کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی تو بہت سے مسائل پیدا ہوتے جائیں گے۔آبنائے ہرمز کی بھی مستقبل بنیادوں پر بندش ہو سکتی ہے۔غذائی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔صحت اور دیگر مسائل پیدا ہو جائیں گے۔اس خطے کی ابتر صورتحال پوری دنیا کو متاثر کرے گی۔بہتر یہی ہے کہ امن لانے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔
