اُردو زبان کی زبوں حالی کے ذمہ دار کون؟
محمد مسلم کبیر، لاتور
(آئینی ضمانتوں، تاریخی حقائق اور سماجی ذمہ داریوں کا تحقیقی جائزہ)
اُردو برصغیر کی صرف ایک زبان نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک مشترکہ تہذیب، ادبی روایت اور قومی ورثہ ہے۔ یہ زبان دہلی، دکن، لکھنؤ اور شمالی ہند کی مختلف بولیوں کے امتزاج سے پروان چڑھی اور بعد ازاں ہندوستان کی آزادی کی تحریک، صحافت، عدلیہ، تعلیم اور ادب کی اہم زبان بن گئی۔ میر تقی میر، مرزا غالب، سر سید احمد خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام آزاد، علامہ اقبال، پریم چند اور حسرت موہانی جیسے مفکرین نے اسی زبان کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔
آزادی کے بعد اگرچہ اُردو کو ہندوستان کے آئینی ڈھانچے میں مناسب تحفظ حاصل ہوا، لیکن عملی سطح پر اس زبان کی ترقی وہ رفتار حاصل نہ کر سکی جس کی توقع کی جاتی تھی۔ آج سوال یہ ہے کہ اُردو کی موجودہ زبوں حالی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف حکومت؟ یا پھر خود اُردو سماج، تعلیمی ادارے، اساتذہ، مدارس، ادبی انجمنیں اور والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں؟
@آئینی ضمانتیں اور عملی صورتِ حال-
ہندوستان کا آئین لسانی اقلیتوں کے حقوق کو واضح طور پر تسلیم کرتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 اقلیتوں کو اپنی زبان، تہذیب اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کا حق دیتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 350A ریاستوں کو ہدایت کرتا ہے کہ لسانی اقلیتوں کے بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں فراہم کرنے کے لیے مناسب سہولتیں مہیا کی جائیں۔ آرٹیکل 350B کے تحت لسانی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے خصوصی افسر (Special Officer for Linguistic Minorities) کا تقرر بھی آئینی ذمہ داری ہے۔
اس کے باوجود بیشتر ریاستوں میں اُردو میڈیم اسکولوں کی حالت، اساتذہ کی کمی، درسی کتابوں کی تاخیر اور سرکاری دفاتر میں اُردو کے محدود استعمال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آئینی ضمانتوں پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
@مردم شماری کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
2011 کی مردم شماری کے مطابق تقریباً 5.08 کروڑ افراد نے اُردو کو اپنی مادری زبان قرار دیا، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً 4.2 فیصد بنتا ہے۔ اس اعتبار سے اُردو ہندوستان کی بڑی زبانوں میں شامل ہے اور آٹھویں شیڈول کی تسلیم شدہ زبان بھی ہے۔ چونکہ 2021 کی مردم شماری تاحال مکمل طور پر شائع نہیں ہوئی، اس لیے یہی اعداد و شمار سرکاری حوالہ تصور کیے جاتے ہیں۔یہ حقیقت اس تصور کی نفی کرتی ہے کہ اُردو چند علاقوں تک محدود زبان ہے۔ مہاراشٹر، تلنگانہ ، کرناٹک، بہار، اتر پردیش، دہلی اور جموں و کشمیر سمیت کئی ریاستوں میں اُردو بولنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
@آزادی کی تحریک میں اُردو کا کردار-------
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ آزادیِ ہند کی تحریک میں اُردو صحافت نے نمایاں کردار ادا کیا۔ الہلال، البلاغ، زمیندار، کامریڈ اور دیگر اخبارات نے آزادی، قومی یکجہتی اور استعماری نظام کے خلاف عوامی شعور بیدار کیا۔
اسی طرح عدالتوں، دفتری نظام اور تعلیم میں بھی انیسویں صدی تک اُردو کا وسیع استعمال ہوتا رہا۔ اس لیے اُردو کو کسی ایک مذہب یا فرقے کی زبان قرار دینا تاریخی اعتبار سے درست نہیں بلکہ یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت کی زبان ہے۔
@حکومتی پالیسیوں کی کمزوریاں-----
آئینی تحفظ کے باوجود متعدد ریاستوں میں اُردو کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا جاتا۔ہزاروں اساتذہ کی اسامیاں برسوں خالی رہتی ہیں۔اُردو میڈیم اسکولوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔سرکاری ویب سائٹس، نوٹیفکیشنز اور عوامی خدمات میں اُردو کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومتیں آئینی ذمہ داریوں کو محض کاغذی وعدوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔
@اُردو تعلیمی اداروں کا محاسبہ----
دوسری طرف خود اُردو تعلیمی اداروں کو بھی اپنی کارکردگی کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔اکثر اُردو اسکول جدید سائنسی تعلیم، انگریزی، کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل مہارت اور روزگار پر مبنی تعلیم میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کر سکے۔ نتیجتاً والدین نے بہتر مستقبل کی امید میں اپنے بچوں کو دوسرے میڈیم کے اسکولوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا۔اگر اُردو اسکول معیاری تعلیم، جدید لیبارٹریاں، ڈیجیٹل کلاس روم اور مسابقتی ماحول فراہم کریں تو والدین کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔
@اُردو اساتذہ کی ذمہ داری----
استاد کسی بھی زبان کا حقیقی محافظ ہوتا ہے۔بعض اُردو اساتذہ نے تدریس کو صرف سرکاری ملازمت سمجھ لیا ہے۔ مسلسل مطالعہ، تحقیق، نئی کتابوں سے واقفیت، ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال، تخلیقی تحریر اور طلبہ میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔ حکومت مہاراشٹر کی جانب سے ریاست بھر میں ہزاروں اُردو اداروں کو صد فی صد اور چند اسکول تقریباً مالی امداد فراہم کرکے اُردو اسکولوں کا جال بچھا دیا ہے۔جہاں ہزاروں اساتذہ کی روزی روٹی سے جُڑے ہیں۔ لیکن چند اساتذہ چھوڑ دیں تو نوے فیصد اساتذہ میں اُردو زبان سے عملی دلچسپی کا فقدان ہے حتٰی کہ اپنی اولاد کو بھی انگریزی یا مراٹھی اسکولوں میں داخلے دلواتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اُردو اساتذہ خود،اُردو اخباروں اور جرائد کا مطالعہ، کتب بینی کا شوق ،جدید تحقیق، ٹیکنالوجی اور عالمی ادبی رجحانات سے واقف ہوں تاکہ
نئی نسل زبان کو مستقبل سے جوڑ کر دیکھے، صرف ماضی سے نہیں۔
@مدارس کا کردار------
مدارس نے اُردو زبان کی بقا میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی لاکھوں طلبہ مدارس میں اُردو لکھنا اور پڑھنا سیکھتے ہیں، اور دینی علوم کا بڑا سرمایہ اُردو میں محفوظ ہے۔تاہم وقت کا تقاضا ہے کہ مدارس اپنے نصاب میں کمپیوٹر، انگریزی، ریاضی، سماجی علوم، تحقیق اور جدید ابلاغی مہارتوں کو بھی شامل کریں تاکہ طلبہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
@ادبی انجمنیں اور سماجی تنظیمیں----
اکثر ادبی انجمنیں صرف مشاعروں اور رسمی تقریبات تک محدود ہو گئی ہیں۔نوجوان نسل کے لیے آن لائن کورسز، کتاب بینی کی تحریک، ڈیجیٹل لائبریری، تحقیقی ورکشاپ، ادبی مقابلے اور سوشل میڈیا پر معیاری مواد تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اگر ادبی انجمنیں نئی نسل تک نہیں پہنچیں گی تو اُردو صرف یادگار بن کر رہ جائے گی، زندہ زبان نہیں۔
@والدین کی ذمہ داری-----
کسی بھی زبان کا پہلا مدرسہ گھر ہوتا ہے۔آج بہت سے تعلیم یافتہ والدین گھروں میں اُردو بولنے سے گریز کرتے ہیں۔ بچوں کو انگریزی ضرور سکھائیں، لیکن اپنی مادری اور تہذیبی زبان سے محروم نہ کریں۔ دو یا تین زبانیں سیکھنا ذہنی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، اس لیے اُردو اور انگریزی ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ تکمیل کرنے والی زبانیں ہیں۔
@ڈیجیٹل دور میں اُردو-----
آج علم کا بڑا حصہ انٹرنیٹ پر منتقل ہو چکا ہے۔ اگر اُردو کو زندہ رکھنا ہے تو مصنوعی ذہانت، ای بکس، آڈیو بکس، آن لائن جرائد، ڈیجیٹل لغات، موبائل ایپس، یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور سوشل میڈیا پر معیاری اُردو مواد تیار کرنا ہوگا۔زبانیں صرف ماضی کے کتب خانوں میں نہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی میں بھی زندہ رہتی ہیں۔اُردو زبان کی زبوں حالی کا ذمہ دار صرف حکومت نہیں، بلکہ مجموعی طور پر ہمارا پورا سماج ہے۔ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے، تعلیمی ادارے معیار بلند کریں، اساتذہ تحقیق و تدریس میں جدت لائیں، مدارس عصری علوم کو اپنائیں، ادبی انجمنیں نوجوان نسل تک پہنچیں اور والدین اپنے گھروں میں اُردو کو زندہ رکھیں۔
اُردو کا مسئلہ محض ایک زبان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافتی تنوع اور آئینی اقدار کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے آج سنجیدگی سے اس کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ایک عظیم ادبی اور تہذیبی سرمایہ کھو دیں گی۔"زبانیں حکومتوں کے سہارے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ اپنے بولنے والوں کے شعور، محبت، عمل اور مسلسل جدوجہد سے زندہ رہتی ہیں۔"
محمد مسلم کبیر، لاتور
8208435414
---------------------------------------------
MD.MUSLIM KABIR,
Freelance Journalist,
Latur(Maharashtra)
Urdu/Marathi/Hindi Media,
Email: alkabir786@gmail.com
Cell- 09175978903/8208435414
