Jul 14, 2026 07:04 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نیپال اردو ٹائمز اردو صحافت کا  ایک روشن چراغ

نیپال اردو ٹائمز اردو صحافت کا ایک روشن چراغ

09 Jul 2026
1 min read

نیپال اردو ٹائمز اردو صحافت کا  ایک روشن چراغ

*ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی

بخدمتِ محترم مدیر

و نائب مدیر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعض جرائد و رسائل اور اخبار صرف اپنے عہد کی ضرورت پوری نہیں کرتے بلکہ تاریخ کے اوراق میں اپنے وجود کا مستقل نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ بعض قلم قوموں کی فکری سمت متعین کرتے، تہذیبوں کی حفاظت کرتے اور نسلوں کی تربیت کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ نیپال اردو ٹائمز انہی میں سے ایک ہے جس نے دیارِ نیپال میں اردو زبان، اسلامی تہذیب، ملی شعور،ملکی وقار اور صحافتی اقدار کی حفاظت کا ایک عظیم فریضہ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔

آج کا دور ایسا ہے کہ بے شمار اخبارات و رسائل نہ مالی دشواریوں کا بوجھ اٹھا سکے، نہ حالات کے طوفانوں کا مقابلہ کرسکے اور نہ ہی قارئین سے اپنا رشتہ برقرار رکھ سکے۔ کتنے ہی جرائد چند شماروں کے بعد خاموش ہوگئے، کتنے ہی اخبارات صرف تاریخ کا حصہ بن کر رہ گئے، لیکن ان تمام نامساعد حالات کے باوجود نیپال اردو ٹائمزنے جس استقلال، استقامت، اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے اشاعتی سفر کو مسلسل جاری رکھا ہے، وہ حقیقتاً لائقِ تحسین، قابلِ تقلید اور باعثِ صد افتخار ہے۔میں سب سے پہلے محترم سرپرستِ اعلیٰ و بانی کی خدمت میں ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں، جن کی سرپرستی،توجہات، دعائیں، علمی بصیرت اور دور اندیشی اس کاروان کے لیے ایک مضبوط سائبان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پھر محترم مدیر صاحب جن کی فکری قیادت، صحافتی بصیرت، موضوعات کے انتخاب میں توازن، زبان و بیان کی شائستگی اور خبروں کی ترتیب اس اخبار کے معیار کو ممتاز بناتی ہے۔ اسی طرح محترم نائب مدیر  حضرت مولانا مفتی محمد کلام الدین نعمانی صاحب بھی مبارک باد کے مستحق ہیں، جن کی خاموش مگر مسلسل محنت، مواد کی ترتیب، تصحیح، نگرانی،معیت فکری تعاون اور ادارتی معاونت ہر شمارے میں نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ 

اس اخبار کی ایک نمایاں خوبی اس کا متوازن اور ہمہ جہت مواد ہے۔ مقامی خبریں قاری کو اپنے وطن اور اپنے معاشرے سے جوڑے رکھتی ہیں، عالمی خبریں اس کے شعور کو بین الاقوامی منظرنامے سے آشنا کرتی ہیں، مذہبی کالم ایمان و عقیدہ کی تازگی بخشتے ہیں، حالاتِ حاضرہ پر مضامین فکر و نظر کے نئے دریچے وا کرتے ہیں، جبکہ ادبی اور تحقیقی مضامین اردو زبان کی علمی عظمت کو مزید جلا بخشتے ہیں۔خصوصاً مختلف کالم اس اخبار کا سرمایہ ہیں۔ کالم کسی بھی اخبار کی روح ہوتے ہیں، کیونکہ وہ صرف واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ ان کی تعبیر بھی پیش کرتے ہیں۔ وہ قوموں کے مزاج بناتے، فکر کی آبیاری کرتے اور اجتماعی شعور کو جلا بخشتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیپال اردو ٹائمز     ایک علمی، ادبی اور فکری درسگاہ کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔نیز  اس تمام کامیابی اور ان خوبیوں کے ساتھ چند مخلصانہ اور تعمیری مشورے بھی پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں، جنہیں تنقید نہیں بلکہ محبت، خیر خواہی اور اس مبارک سفر میں ایک ادنیٰ شریک کی گزارش سمجھا جائے۔

میری پہلی گزارش یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو اخبار کے دو یا تین صفحات نیپالی زبان کے لیے بھی مستقل طور پر مختص کیے جائیں۔ نیپال کی ایک بڑی تعداد اردو رسم الخط سے واقف نہیں، لیکن وہ بھی اپنے ملک کے حالات، عالمی خبریں، سماجی مسائل، اخلاقی تعلیمات اور دینی رہنمائی سے مستفید ہوسکتے ہیں ،اگرچہ اور بھی کئی اخبار نیپالی زبان میں برسوں سے نکل رہے ہیں ،مگر اس اخبار کے ذریعہ اگر یہ فریضہ انجام دیا جائے تو اس کا اثر ہی کچھ اور ہوگا۔اگر ایک صفحہ اہم ملکی و عالمی خبروں کے لیے اور دو صفحات مختصر مگر جامع دینی، ملی، اخلاقی اور سماجی مضامین کے لیے مخصوص کر دیے جائیں تو اس سے دو بڑے فوائد حاصل ہوں گے۔ ایک طرف نیپالی زبان پڑھنے والے طبقہ تک بھی اس اخبار کا پیغام پہنچے گا، دوسری طرف صرف اسی مقصد کے لیے الگ سے کوئی نیا اخبار یا رسالہ نکالنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہے گی۔ اس طرح نیپال اردو ٹائمز  حقیقی معنوں میں پورے نیپال کے علمی و فکری حلقوں کی نمائندگی کرنے والا اخبار بن سکتا ہے۔ یقیناً اس اقدام سے اخبار کا دائرۂ اثر، اس کی مقبولیت اور اس کی افادیت کئی گنا بڑھ جائے گی۔

اسی طرح ایک نہایت مفید اضافہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اخبار میں مستقل طور پر فقہی سوالات و جوابات کے عنوان سے ایک مستقل گوشہ قائم کیا جائے، جس کے لیے ایک مستند اور باصلاحیت مفتی صاحب کو ذمہ داری دی جائے۔ قارئین اپنے روزمرہ زندگی، عبادات، معاملات، معاشرت، نکاح، طلاق، وراثت اور دیگر شرعی مسائل سے متعلق سوالات ارسال کریں۔ پھر ہر شمارے میں آئندہ ہفتے کے منتخب سوالات پہلے ہی شائع کر دیے جائیں اور اگلے شمارے میں انہی سوالات کے مدلل، مختصر اور عام فہم جوابات شائع کیے جائیں۔ اس سے قارئین کی دلچسپی بھی بڑھے گی، دینی رہنمائی بھی ہوگی اور اخبار ایک معتبر فقہی و اصلاحی مرجع کی حیثیت بھی اختیار کر لے گا۔ ایک اور مخلصانہ گزارش یہ ہے کہ خبروں کے علاوہ مضامین کی تعداد اور طوالت میں بھی اعتدال کو ملحوظ رکھا جائے۔ علمی و تحقیقی مضامین یقیناً اخبار کی زینت ہوتے ہیں، لیکن جب ایک ہی شمارے میں بہت زیادہ اور طویل مضامین شامل ہوجائیں تو عام قارئین کے لیے ان کا مکمل مطالعہ دشوار ہوجاتا ہے اور اکثر وہ صرف سرخیاں پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ مضامین مختصر، جامع، بامقصد اور فکر انگیز ہوں تاکہ ان کا پیغام زیادہ مؤثر انداز میں قارئین تک پہنچ سکے۔البتہ کسی حساس، اہم اور تحقیقی موضوع پر ایک دو مضامین اگر قدرے تفصیل کے ساتھ ہوں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ ایسے مضامین قارئین کو فکری وسعت اور علمی لطف فراہم کرتے ہیں۔

اسی مناسبت سے تمام محترم مضمون نگار حضرات سے مخلصانہ گزارش ہے کہ اپنے مضامین اپنی علمی محنت، مطالعہ، فکری کاوش اور ذاتی اسلوب کا آئینہ دار بنائیں۔ بلاشبہ مصنوعی ذہانت (AI) ایک مفید معاون ذریعہ ہے، لیکن قلم کار کی اصل پہچان اس کی اپنی فکر، تحقیق اور علمی صلاحیت سے ہوتی ہے، اس لیے اس پر مکمل انحصار کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ گزشتہ عرصہ میں بعض ایسے طویل مضامین بھی نظر سے گزرے جن کے محررین کی تحریری صلاحیت میں اچانک نمایاں اضافہ محسوس ہوا۔ اگر یہ تبدیلی مطالعہ، محنت اور علمی ترقی کا نتیجہ ہے تو قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر اس میں مصنوعی ذرائع پر زیادہ اعتماد شامل ہو تو یہ حقیقی فکری نشوونما کے لیے مفید نہیں۔ البتہ بڑے تحقیقی منصوبوں اور طویل مدتی دینی کاموں میں، اگر کوئی صاحبِ علم اپنے مطالعے اور تحقیق کے ساتھ AI کو محض معاون کے طور پر استعمال کرے تو یہ جدید ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال شمار ہوگا۔

آخر میں بس اتنی سی مخلصانہ گزارش ہے

کہ آپ حضرات اس مبارک علمی و صحافتی سفر کو اسی عزم، استقلال اور اخلاص کے ساتھ جاری رکھیں اور اپنی محنتوں، خلوص و وفا اور خدمتِ زبان و ملت کی خوشبو سے اس گلشن کو یونہی مہکاتے رہیں۔ مجھ جیسے ایک ادنیٰ خیرخواہ اور طالب خیر  کے لائق اس کارِ خیر میں جو بھی خدمت ہو، بلا تکلف ضرور مطلع فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے بھی اس سعادت سے نوازا کہ جب اس موقر اخبار کے نائب مدیر محترم مفتی محمد کلام الدین نعمانی صاحب قبلہ نے ویب سائٹ کی تیاری کے سلسلے میں معاونت کا حکم فرمایا تو حسبِ توفیق اس خدمت میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ آئندہ بھی اگر کسی مرحلے پر مالی یا کسی دیگر معاونت کی ضرورت محسوس ہو تو اسے میرے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہوئے ضرور موقع عطا فرمائیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیپال اردو ٹائمز کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اس کے سرپرستِ اعلیٰ، بانیِ محترم، مدیر، نائب مدیر، مجلسِ ادارت، قلم کاروں، معاونین اور تمام وابستگان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے قلموں میں اخلاص، تاثیر اور برکت عطا فرمائے، اور اس علمی و صحافتی چراغ کو ہمیشہ روشن و فروزاں رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔

خاکپائے جیش ملت

ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی

تاراپٹی،دھنوشا(نیپال)

مقیم حال:دوحہ قطر

07/07/2026

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)