Jul 14, 2026 06:51 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مدارس کے اساتذۂ کرام کی ناقدری: امت کے لیے لمحۂ فکریہ

مدارس کے اساتذۂ کرام کی ناقدری: امت کے لیے لمحۂ فکریہ

02 Jul 2026
1 min read

مدارس کے اساتذۂ کرام کی ناقدری: امت کے لیے لمحۂ فکریہ

*✍🏻 ابوالخالد محمد اظہرالدین علیمی*

پرنسپل دارالعلوم حسینیہ نظامیہ رضا نگر بھٹنڈی جموں 

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قومیں تلواروں، محلات اور خزانوں سے نہیں بلکہ علم، فکر اور کردار سے زندہ رہتی ہیں۔ اور علم و کردار کے یہ چراغ ہمیشہ اساتذہ اور معلمین کے ہاتھوں روشن ہوتے ہیں۔ جس معاشرے نے اپنے معلم کو عزت دی، اسے عزت ملی؛ جس نے اپنے استاد کو بھلا دیا، وہ تاریخ کے اندھیروں میں گم ہوگیا۔

اسلام نے استاد کو جو مقام عطا کیا ہے، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ قرآن کریم نے علم والوں کے درجات بلند کیے، رسول اللہ ﷺ نے علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا، اور امتِ مسلمہ نے صدیوں تک اپنے علماء اور معلمین کی تعظیم کو عبادت سمجھا۔ مگر آج کا ایک دردناک المیہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے کندھوں پر دین کی حفاظت اور نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے، وہی معاشی پریشانیوں، مالی تنگی اور بے قدری کا شکار ہیں۔

یہ کوئی افسانہ یا مبالغہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بے شمار مدارس میں ایسے علماء اور اساتذہ موجود ہیں جو دس، بارہ یا پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے، دوسری طرف محدود آمدنی؛ ایک طرف گھریلو اخراجات کا بوجھ ہے، دوسری طرف صبر و قناعت کی چادر۔

جب دنیا سو رہی ہوتی ہے تو ایک معلمِ دین اپنی جائے نماز پر بیٹھا قرآن کی تلاوت کر رہا ہوتا ہے۔ جب لوگ کاروبار اور ملازمتوں میں مصروف ہوتے ہیں تو وہ مسجد یا مدرسے میں بیٹھ کر بچوں کو قرآن کے نور سے منور کر رہا ہوتا ہے۔ جب نوجوان دنیاوی کامیابیوں کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں تو وہ آنے والی نسلوں کو جنت کے راستے سمجھا رہا ہوتا ہے۔

وہ صرف سبق نہیں پڑھاتا، بلکہ کردار بناتا ہے۔

وہ صرف الفاظ نہیں سکھاتا، بلکہ ایمان سکھاتا ہے۔

وہ صرف کتابیں نہیں کھولتا، بلکہ دلوں کے دروازے کھولتا ہے۔ اس کی زبان سے نکلنے والا ایک جملہ کسی نوجوان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔

اس کے ہاتھوں سے تیار ہونے والا ایک شاگرد ہزاروں لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مگر افسوس! وہی معلم جب شام کو اپنے گھر واپس آتا ہے تو اس کے سامنے زندگی کی تلخ حقیقتیں کھڑی ہوتی ہیں۔

ایک عالم کے گھر کا منظر

ذرا تصور کیجیے! شام کا وقت ہے۔ایک عالمِ دین پورا دن درس و تدریس کے بعد گھر لوٹتا ہے۔

گھر میں داخل ہوتے ہی بیٹا کہتا ہے: "ابو! اسکول کی فیس جمع کرنی ہے۔" بیٹی کہتی ہے: "ابو! میری کتابیں خریدنی ہیں۔" والدہ کہتی ہیں:

"بیٹا! دوائیں ختم ہوگئی ہیں۔"

بیوی آہستہ سے کہتی ہے: "گھر میں راشن بھی کم ہے۔"

اور اس عالم کی جیب میں چند سو روپے بھی باقی نہ ہوں۔

سوچیے! اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟

وہ جو دوسروں کو صبر کا درس دیتا ہے، خود صبر کے سمندر میں ڈوبا ہوتا ہے۔ وہ جو دوسروں کو اللہ پر توکل سکھاتا ہے، خود اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ کر سکنے کے غم سے گزر رہا ہوتا ہے۔

اس کی زبان خاموش رہتی ہے، لیکن اس کا دل فریاد کرتا ہے۔ اس کی آنکھیں خشک نظر آتی ہیں، مگر اندر کتنے آنسو دفن ہوتے ہیں، یہ صرف اللہ جانتا ہے۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ مدرسہ ایک عمارت کا نام ہے۔

نہیں! مدرسہ عمارت کا نام نہیں، معلم کا نام ہے۔

مدرسہ دیواروں کا نام نہیں، کردار سازی کا نام ہے۔

مدرسہ فرش، پنکھوں اور کمروں کا نام نہیں، قرآن کے نور کا نام ہے۔ اگر مدرسے کی عمارت عالی شان ہو، دفاتر خوبصورت ہوں، جلسے شاندار ہوں، مگر معلم پریشان حال ہو تو یہ ترقی نہیں بلکہ ایک خطرناک عدم توازن ہے۔کیونکہ مدرسے کی اصل روح اس کا استاد ہے۔

اگر روح کمزور ہو جائے تو جسم کی خوبصورتی بے معنی رہ جاتی ہے۔

دنیا کی ہر قوم اپنے سرمایہ کی حفاظت کرتی ہے۔

کوئی سونے کی حفاظت کرتا ہے، کوئی تیل کی، کوئی صنعت کی۔

لیکن مسلمانوں کا اصل سرمایہ علماء اور مدارس ہیں۔

یہی وہ قلعے ہیں جنہوں نے چودہ سو سال سے اسلام کی حفاظت کی ہے۔

جب سلطنتیں ختم ہوگئیں، حکومتیں بدل گئیں، بادشاہتیں مٹ گئیں، تب بھی مدارس باقی رہے۔

جب بڑی بڑی طاقتیں تاریخ کے صفحات میں دفن ہوگئیں، تب بھی قرآن کے یہ مراکز زندہ رہے۔

اور ان مراکز کو زندہ رکھنے والے یہی بے لوث معلمین ہیں۔ محرم الحرام ہمیں قربانی، ایثار اور وفاداری کا درس دیتا ہے۔

کربلا کا میدان صرف ایک  تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ایک پیغام ہے۔

سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ چاہتے تو دنیا کے تمام آرام حاصل کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے دین کی بقا کو دنیا کی آسائشوں پر ترجیح دی۔

انہوں نے اپنے اہل و عیال، اپنے جانثار ساتھیوں اور اپنی جان تک کو قربان کردیا مگر حق کا دامن نہ چھوڑا۔

آج مدارس کے علماء بھی اسی دین کی خدمت کر رہے ہیں جس کی خاطر امام حسین رضی اللہ عنہ نے قربانی دی۔ لہٰذا ان کی خدمت، ان کی عزت اور ان کی کفالت درحقیقت دین کی خدمت ہے۔

اگر یہی حالات رہے تو کل کیا ہوگا؟

اگر علماء کے بچے بنیادی تعلیم سے محروم رہیں گے تو کیا ہوگا؟ اگر مدارس کے اساتذہ معاشی دباؤ کا شکار رہیں گے تو کیا ہوگا؟اگر دین کی خدمت کرنے والوں کو عزت اور تحفظ نہیں ملے گا تو آنے والی نسلیں کس طرف جائیں گی؟یہ سوال صرف مدارس کا نہیں بلکہ پوری امت کے مستقبل کا سوال ہے۔

قوموں کے عروج و زوال کا راز

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قوموں کا عروج صرف معاشی ترقی سے نہیں ہوتا۔حقیقی ترقی اس وقت آتی ہے جب علم، اخلاق اور کردار کو اہمیت دی جائے۔

جاپان، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں استاد کو عزت دی جاتی ہے۔

استاد کو قوم کا معمار سمجھا جاتا ہے۔

جب دنیاوی تعلیم کے استاد کو یہ مقام حاصل ہے تو پھر قرآن اور حدیث پڑھانے والے استاد کا مقام کتنا بلند ہونا چاہیے؟

اے اہلِ اسلام!

اپنے مدارس کو صرف چندوں سے نہیں بلکہ فکر سے بھی مضبوط کیجیے۔

اساتذہ کی تنخواہوں کو ترجیح دیجیے۔

ان کے بچوں کی تعلیم کا انتظام کیجیے۔

ان کے علاج معالجے کا خیال رکھیے۔

ان کی عزت نفس مجروح نہ ہونے دیجیے۔

ان کی خاموش قربانیوں کو محسوس کیجیے۔

ان کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنائیے۔

اختتامی کلمات

مدرسے کا استاد محض ایک ملازم نہیں، وہ امت کی روح کا معمار ہے۔

وہ قوم کا مربی، نسلوں کا رہبر، ایمان کا محافظ اور دین کا سپاہی ہے۔

اس کے ہاتھ میں قرآن ہے، اس کی زبان پر حدیث ہے، اس کے سینے میں امت کا درد ہے اور اس کی آنکھوں میں آنے والی نسلوں کی فکر۔

اگر آج ہم نے اپنے علماء اور معلمین کی قدر نہ کی تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔

آئیے! اس محرم الحرام میں ہم یہ عہد کریں کہ مدارس کے اساتذہ کی عزت کریں گے، ان کے حقوق ادا کریں گے، ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھیں گے اور دین کے ان خاموش خادموں کا سہارا بنیں گے۔

یاد رکھیے! "جس قوم کے علماء روتے ہوں، اس قوم کی روح زخمی ہوتی ہے؛ اور جس قوم کے علماء مسکراتے ہوں، اس قوم کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔"

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے علماء، اساتذہ اور مدارس کی صحیح قدر کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور ان کی دعائیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)