Aug 23, 2026 03:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
تعلیمی ترقی کے باوجود اخلاقی پستی: ایک لمحۂ فکریہ

تعلیمی ترقی کے باوجود اخلاقی پستی: ایک لمحۂ فکریہ

21 Aug 2026
1 min read

تعلیمی ترقی کے باوجود اخلاقی پستی: ایک لمحۂ فکریہ

از: محمد شمیم احمد نوری مصباحی خادم: دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤشریف، باڑمیر ( راجستھان)

آج کا انسان علم و فن کی حیرت انگیز ترقی کے دور میں سانس لے رہا ہے۔ وہ سمندر کی گہرائیوں کو ناپ رہا ہے، آسمان کی وسعتوں کو مسخر کر رہا ہے، مصنوعی ذہانت سے ایسے کام لے رہا ہے جن کا تصور چند دہائیاں پہلے محض تخیل سمجھا جاتا تھا۔ ایک کلک پر دنیا بھر کی معلومات اس کی انگلیوں پر موجود ہیں، علاج کے نئے طریقے دریافت ہو رہے ہیں، مواصلات نے فاصلے مٹا دیے ہیں اور تعلیمی اداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن اس شاندار ترقی کے پردے کے پیچھے ایک سوال مسلسل ہمارا تعاقب کر رہا ہے:

کیا ہماری تعلیمی ترقی کے ساتھ ہماری اخلاقی ترقی بھی ہوئی ہے؟

اگر تعلیم انسان کو جھوٹ، ظلم، خیانت، بددیانتی، بدنگاہی، تکبر، خود غرضی اور بے حیائی سے نہ روک سکے؛ اگر اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والا شخص اپنے معاملات میں دیانت دار نہ ہو؛ اگر علم میں اضافہ ہو مگر دل میں خدا کا خوف، مخلوق کے لیے ہمدردی اور والدین کے لیے احترام پیدا نہ ہو تو ہمیں اپنی تعلیمی ترجیحات پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم اور تربیت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔

تعلیم کیا ہے اور تربیت کیا؟

تعلیم انسان کو معلومات دیتی ہے، جبکہ تربیت ان معلومات کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ تعلیم انسان کو یہ بتاتی ہے کہ کیا ہے؛ تربیت اسے یہ سکھاتی ہے کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

تعلیم انسان کو طاقت دیتی ہے، تربیت اس طاقت کے استعمال کا سلیقہ سکھاتی ہے۔

تعلیم انسان کو بولنا سکھاتی ہے، تربیت یہ بتاتی ہے کہ کب، کہاں اور کیسے بولنا ہے۔

تعلیم انسان کو کامیابی کا راستہ دکھاتی ہے، تربیت اسے یہ سمجھاتی ہے کہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے کسی کا حق نہیں مارنا۔

اسی لیے اسلام نے علم کے ساتھ عمل اور اخلاق کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم نے انسان کی کامیابی کو محض معلومات کے حصول سے وابستہ نہیں کیا، بلکہ ایمان، عملِ صالح اور حق و صبر کی تلقین کو کامیابی کا معیار قرار دیا:

﴿وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾

یعنی انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور حق و صبر کی تلقین کرتے رہے۔

یہی اسلامی تصورِ تعلیم ہے: علم جو ایمان سے جڑے، ایمان جو عمل میں ظاہر ہو، اور عمل جو اخلاق و کردار کو سنوار دے۔

ڈگریوں کا اضافہ، کردار کا زوال:

آج ہمارے معاشرے میں تعلیمی اداروں کی کمی نہیں۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، کوچنگ سینٹرز، آن لائن کورسز اور مختلف تعلیمی ذرائع عام ہو چکے ہیں۔ لوگ اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں، بیرونِ ملک جا رہے ہیں، جدید علوم پڑھ رہے ہیں اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو رہے ہیں۔

یہ سب بلاشبہ قابلِ قدر ہے۔

لیکن اسی معاشرے میں جھوٹ، رشوت، دھوکہ دہی، ملاوٹ، جعل سازی، وعدہ خلافی، غیبت، بہتان، قطع رحمی اور بدنگاہی بھی بڑھ رہی ہو تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے تعلیم سے کیا حاصل کیا؟

ایک ڈاکٹر اگر مریض کو صرف آمدنی کا ذریعہ سمجھے، ایک تاجر ناپ تول میں کمی کرے، ایک ملازم اپنے فرائض میں خیانت کرے، ایک استاد تعلیم کو فقط ملازمت سمجھے، ایک طالب علم نقل کو کامیابی کا ذریعہ بنائے اور ایک صاحبِ اختیار اپنی طاقت کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرے تو ان سب کے پاس علم تو ہوسکتا ہے، مگر علم کی روح کہاں ہے؟

علم اگر انسان کو انسان نہ بنا سکے تو اس علم کے مقصد پر غور کرنا ضروری ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام اور تربیت کا فقدان:

یہ کہنا درست نہیں کہ جدید تعلیم ہی اخلاقی پستی کی ذمہ دار ہے۔ مسئلہ تعلیم نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ تربیت کے رشتے کا کمزور ہونا ہے۔

ہم بچوں سے یہ تو پوچھتے ہیں کہ’’کتنے نمبر آئے؟‘‘

لیکن یہ پوچھنے میں کوتاہی کرتے ہیں کہ

’’آج تم نے کسی کی مدد کی یانہیں؟‘‘

ہم یہ تو ضرور پوچھتے ہیں کہ’’کون سی پوزیشن حاصل کی؟‘‘

مگر یہ کبھی نہیں پوچھتے کہ’’تم نے آج سچ بولا یا نہیں؟‘‘

ہم بچے کے مستقبل کے لیے بہترین اسکول تلاش کرتے ہیں، لیکن اس کے کردار کی تعمیر کے لیے اتنی ہی فکر نہیں کرتے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، افسر یا کامیاب تاجر بنے؛ لیکن کیا ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ دیانت دار، بااخلاق، 

باحیا، رحم دل اور اللہ سے ڈرنے والا انسان 

بنے؟

اگر جواب ہاں ہے تو پھر ہمیں تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھی اپنی ترجیحات میں اولین مقام دینا ہوگا۔

گھر پہلی درس گاہ، والدین پہلے مربی:

بچے کی پہلی یونیورسٹی گھر ہے اور اس کے پہلے استاد والدین ہیں۔

اسکول چند گھنٹے بچے کو تعلیم دیتا ہے، مگر گھر کا ماحول اس کی شخصیت کو مسلسل تشکیل دیتا رہتا ہے۔ بچہ والدین کی گفتگو سنتا ہے، ان کے معاملات دیکھتا ہے، ان کے رویے سے سیکھتا ہے اور ان کے طرزِ زندگی کو اپناتا

ہے۔

اگر والدین بچے کو سچ بولنے کی نصیحت کریں مگر خود فون پر جھوٹ بولیں، اگر اسے دوسروں کا حق ادا کرنے کا درس دیں مگر خود کسی کا حق روکیں، اگر اسے نماز کی تلقین کریں مگر خود نماز سے غافل رہیں تو بچے کے ذہن میں الفاظ نہیں بلکہ عمل اثر انداز ہوگا۔

اس لیے تربیت کا پہلا اصول یہ ہے کہ "بچوں کو صرف نصیحت نہ کیجیے بلکہ اپنے کردار سے مثال پیش کیجیے"۔

موبائل، انٹرنیٹ اور نئی نسل:

آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بچہ صرف گھر اور اسکول سے نہیں سیکھ رہا، بلکہ اس کی جیب میں ایک ایسی دنیا موجود ہے جو ہر وقت اسے متاثر کر رہی ہے۔

موبائل فون خود کوئی برائی نہیں۔ یہی موبائل قرآنِ کریم پڑھنے، دینی و علمی معلومات حاصل کرنے، دنیا بھر کے اساتذہ سے استفادہ کرنے اور مفید علوم سیکھنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ لیکن یہی موبائل بے حیائی، جھوٹ، افواہ، فحش مواد، فضول مشاغل اور گمراہ کن نظریات کا دروازہ بھی بن سکتا ہے۔ اصل مسئلہ آلہ نہیں، استعمال کا طریقہ ہے۔لہٰذا والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ہاتھ میں موبائل دینے سے پہلے انہیں موبائل کے آداب سکھائیں۔ انہیں یہ شعور دیں کہ ہر چیز جو اسکرین پر دکھائی دیتی ہے، دیکھنے کے قابل نہیں؛ ہر خبر آگے بڑھانے کے قابل نہیں؛ ہر شخص کی نقل اتارنے کے قابل نہیں؛ اور ہر رجحان اختیار کرنے کے قابل نہیں۔

سوشل میڈیا اور اخلاقی ذمہ داری:

سوشل میڈیا نے انسان کی زبان کو ایک نئی طاقت دے دی ہے۔ پہلے ایک شخص کی بات چند افراد تک پہنچتی تھی، آج ایک 

پوسٹ چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔

اس لیے سوشل میڈیا کا اخلاقی استعمال پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

غیبت، بہتان، تمسخر، بدگمانی اور کسی کی عزت مجروح کرنا صرف اس لیے جائز نہیں ہوجاتا کہ یہ کام موبائل کی اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر کیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے﴿وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾

’’اور تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔‘‘

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خبر کی تحقیق کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:﴿فَتَبَيَّنُوا﴾

یعنی تحقیق کرلیا کرو۔

لہٰذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صحت جانچے۔ ممکن ہے ایک غلط پیغام کسی بے گناہ انسان کی عزت، کسی خاندان کے سکون یا کسی ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا دے۔

اخلاقی پستی کا ایک بڑا سبب: مادہ پرستی:

آج کامیابی کا معیار بڑی حد تک مال و دولت، عہدہ، مکان، گاڑی، لباس اور ظاہری شان بن گیا ہے۔

ہم نے بچوں کو یہ بتانا کم کردیا ہے کہ اچھا انسان کون ہوتا ہے، اور یہ بتانا زیادہ شروع کردیا ہے کہ کامیاب انسان کون ہوتا ہے۔

اسلام دولت حاصل کرنے سے منع نہیں کرتا، بلکہ حلال کمائی، سخاوت اور معاشی خود کفالت کی ترغیب دیتا ہے؛ لیکن مال کو مقصدِ زندگی بنا دینا انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

اگر دولت ہمارے ہاتھ میں ہو تو نعمت ہے، مگر اگر دولت ہمارے دل پر قابض ہوجائے تو آزمائش ہے۔

فحاشی اور حیا کا بحران:

اخلاقی پستی کی ایک خطرناک علامت حیا کا کمزور ہونا ہے۔

اسلام نے حیا کو ایمان سے جوڑا ہے۔ قرآنِ کریم نے مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا:﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾

اور فرمایا:﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ﴾

آج ضرورت ہے کہ حیا کو محض لباس کے مسئلے تک محدود نہ سمجھا جائے۔ حیا نگاہ میں بھی ہے، گفتگو میں بھی، لباس میں بھی، سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی، تنہائی میں بھی اور عوامی زندگی میں بھی۔

 

والدین، اساتذہ، علماء اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کو نئی نسل کے اندر حیا اور پاکیزگی کا شعور حکمت و محبت کے ساتھ پیدا کرنا ہوگا۔

نوجوانوں کو موردِ الزام نہیں، رہنمائی کی ضرورت ہے:

اکثر ہم نوجوان نسل کو دیکھ کر کہتے ہیں:’’آج کے بچے خراب ہوگئے ہیں۔‘‘

لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ انہیں کس نے پالا؟ ان کے سامنے کون سے نمونے پیش کیے؟ انہیں کس نے وقت دیا؟ ان کے سوالات کا جواب کس نے دیا؟ انہیں زندگی کا مقصد کس نے سمجھایا؟

نوجوانوں میں توانائی ہے، صلاحیت ہے، جذبہ ہے اور کچھ کر گزرنے کی قوت ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس قوت کو صحیح سمت دی جائے۔

انہیں صرف روکنے کے بجائے متبادل فراہم کرنا ہوگا۔

صرف یہ نہ کہیں کہ موبائل کم استعمال کرو؛ بلکہ انہیں کتاب، کھیل، مطالعہ، علمی نشست، دینی مجلس، خدمتِ خلق اور مثبت سرگرمیوں کی طرف بھی متوجہ کریں۔

صرف یہ نہ کہیں کہ غلط صحبت سے بچو؛ بلکہ اچھی صحبت کی اہمیت بھی سمجھائیں۔

صرف گناہ سے ڈرائیں نہیں؛ اللہ وحدہ لاشریک اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور خشیت الٰہی بھی دل میں پیدا کریں۔

علماء و اساتذہ کی ذمہ داریاں:

علماء اور اساتذہ معاشرے کے فکری معمار ہیں۔ ان کی ذمہ داری صرف کتاب پڑھانا نہیں بلکہ انسان بنانا بھی ہے۔

دینی خطابات اور تعلیمی مجالس میں موجودہ دور کے مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے سوالات کو سننا، ان کی ذہنی الجھنوں کو سمجھنا اور ان کے ساتھ محبت و حکمت سے گفتگو کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

استاد اگر صرف مضمون پڑھا دے تو وہ معلّم ہے، لیکن اگر وہ طالب علم کے اندر سچائی، دیانت، محنت، نظم، احترام اور ذمہ داری پیدا کردے تو وہ حقیقی مربی ہے۔

ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کو صرف امتحان پاس کرنے کے قابل نہیں بناتا، بلکہ زندگی کا امتحان پاس کرنے کے قابل بناتا ہے۔

والدین کے لیے لمحۂ فکریہ:

والدین کو اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

بچے کو اچھا لباس دینا ضروری ہے، مگر اچھا کردار دینا اس سے زیادہ ضروری ہے۔

اچھی تعلیم دینا ضروری ہے، مگر اچھی تربیت اس سے زیادہ ضروری ہے۔

اسے دنیا میں کامیاب بنانا ضروری ہے، مگر آخرت میں کامیابی کا راستہ دکھانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

گھر میں نماز کا ماحول قائم کیجیے، قرآن کی تلاوت کا معمول بنائیے، بچوں کے ساتھ دینی و اخلاقی گفتگو کیجیے، ان کے دوستوں اور مشاغل سے واقف رہیے اور سب سے بڑھ کر انہیں اپنا وقت دیجیے۔

اولاد کو صرف چیزیں نہیں، اپنا وقت دیجیے؛ کیونکہ بچے کی شخصیت مہنگے تحفوں سے نہیں، والدین کی توجہ اور محبت سے بنتی ہے۔

نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری:

نوجوان یہ نہ سمجھیں کہ ہر خرابی کا ذمہ دار معاشرہ ہے۔

ان کے پاس عقل، ارادہ اور اختیار ہے۔ انہیں اپنے وقت کی قدر کرنی ہوگی۔ اپنی نگاہ، زبان، موبائل، دوستوں اور مشاغل کی نگرانی خود کرنی ہوگی۔

انہیں یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ سوشل میڈیا کے صارف بنیں گے یا اس کے غلام؟

وہ دوسروں کی زندگی دیکھتے رہیں گے یا اپنی زندگی بنائیں گے؟

وہ ہر روز چند گھنٹے اسکرین پر گزاریں گے یا اپنے مستقبل کی تعمیر پر؟

انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جوانی زندگی کا وہ سرمایہ ہے جس کا حساب ضرور ہوگا۔

ہمیں کس قسم کی تعلیم درکار ہے؟

ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو انسان کو ڈاکٹر بنائے تو رحم دل ڈاکٹر، تاجر بنائے تو دیانت دار تاجر، استاد بنائے تو مخلص استاد، افسر بنائے تو عادل افسر، صحافی بنائے تو ذمہ دار صحافی اور عالم بنائے تو بااخلاق عالم بنائے۔

ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جس کے نتیجے میں

طالب علم صرف یہ نہ جانے کہ دنیا میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے، بلکہ یہ بھی جانے کہ:

حق کیا ہے؟باطل کیا ہے؟

حلال کیا ہے؟حرام کیا ہے؟

انسان کا حق کیا ہے؟اللہ کا حق کیا ہے؟

اور زندگی کا مقصد کیا ہے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں جدید علوم اور اسلامی اخلاق ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔

اصلاح کا آغاز کہاں سے ہو؟

اصلاح کا آغاز حکومت سے، ادارے سے، معاشرے سے یا دوسرے شخص سے کرنے کے بجائے اپنے آپ سے ہونا چاہیے۔

ہم خود سے سوال کریں کہ کیا ہم سچ بولتے ہیں؟

کیا ہمارے معاملات پاکیزہ ہیں؟

کیا ہم والدین کے حقوق ادا کرتے ہیں؟

کیا ہم اپنی اولاد کو وقت دیتے ہیں؟

کیا ہم اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں؟

کیا ہمارا موبائل ہمارے لیے علم و خیر کا ذریعہ ہے؟

کیا ہم سوشل میڈیا پر کسی کی عزت مجروح تو نہیں کرتے؟ کیا ہم کسی کا حق تو نہیں مارتے؟

کیا ہم اپنی تعلیم کو اپنے کردار میں تبدیل کر رہے ہیں؟

اگر ہر فرد اپنے گریبان میں جھانکنے لگے تو معاشرتی اصلاح کا سفر خود بخود شروع ہوجائے گا۔

ہماری اجتماعی ذمہ داری:

آج ضرورت ہے کہ گھر، مدرسہ، اسکول، کالج، مسجد، میڈیا اور معاشرے کے تمام ذمہ دار طبقات مل کر تعلیم و تربیت کے مشترکہ منصوبے پر کام کریں۔

اسکولوں میں اخلاقی تربیت کو اہمیت دی جائے۔ مدارس میں جدید معاشرتی مسائل سے آگاہی پیدا کی جائے۔ مساجد میں نوجوانوں کے لیے علمی و تربیتی پروگرام ہوں۔ والدین کے لیے تربیتی نشستیں منعقد کی جائیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت اور اصلاحی مواد کو فروغ دیا جائے۔

اور سب سے اہم بات یہ کہ ہم اپنے قول سے زیادہ اپنے عمل کے ذریعے اصلاح کی کوشش کریں۔

ہمیں صرف عالم نہیں، باعمل انسان بھی چاہیے:ہمیں علم کے خلاف نہیں بلکہ بے روح علم کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔

ہمیں ترقی سے کوئی شکایت نہیں؛ شکایت اس ترقی سے ہے جو انسان کو اس کے خالق سے دور کردے۔

ہمیں ٹیکنالوجی سے کوئی دشمنی نہیں؛ دشمنی اس استعمال سے ہے جو انسان کا وقت، حیا، سکون اور کردار چھین لے۔

ہمیں جدید تعلیم سے کوئی اختلاف نہیں؛ اختلاف اس تصورِ تعلیم سے ہے جس میں

ڈگری تو ہو مگر دیانت نہ ہو، معلومات تو ہوں مگر شعور نہ ہو، ذہانت تو ہو مگر انسانیت نہ ہو۔

یاد رکھیے!

قومیں صرف یونیورسٹیوں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔

نسلیں صرف کتابوں سے نہیں سنورتیں، تربیت سے سنورتیں ہیں۔

معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بدلتا، انسانوں کے بدلنے سے بدلتا ہے۔

آج ہمیں ایسی نسل تیار کرنے کی ضرورت ہے جو علم میں آگے ہو، کردار میں بلند ہو، فکر میں متوازن ہو، ایمان میں مضبوط ہو، معاملات میں دیانت دار ہو، والدین کی خدمت گزار ہو، انسانیت کی خیر خواہ ہو اور اپنے رب کے حضور جواب دہی کا احساس رکھنے والی ہو۔

اگر ہماری درس گاہیں علم دیں، گھر تربیت دیں، مسجد ایمان دے، استاد کردار بنائے، والدین نمونہ پیش کریں اور نوجوان مقصدِ زندگی سمجھ لیں تو یقیناً ہمارے معاشرے کی سمت بدلی جاسکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا علم عطا فرمائے جو نافع ہو، ایسا عمل عطا فرمائے جو مقبول ہو، ایسا اخلاق عطا فرمائے جو دلوں کو جیت لے، اور ہماری نئی نسل کو ایمان، علم، حیا، کردار اور انسانیت کا پیکر بنائے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)