Aug 23, 2026 03:53 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
جلوس میلاد مصطفیٰ ﷺ کے آداب و ہدایات اور منتظمین سے چند ضروری گزارشات*

جلوس میلاد مصطفیٰ ﷺ کے آداب و ہدایات اور منتظمین سے چند ضروری گزارشات*

21 Aug 2026
1 min read

جلوس میلاد مصطفیٰ ﷺ کے آداب و ہدایات اور منتظمین سے چند ضروری گزارشات*

مہراج گنج (محمد رمضان امجدی)

ماہ ربیع الاول اور جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے پیش نظر تنظیم المکاتب والمساجد ضلع مہراج گنج کے عہدے داران و ممبران کی ایک نشست جی ایم کار سروس سینٹر گبڑوا مہراج گنج میں منعقد ہوئی جس میں جشن عید میلاد منانے اور جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نکالنے کے لیے مختلف ہدایات جاری کیے گئے ۔ اس موقع پر نوری دارالافتاء مہراج گنج کے صدر مفتی نے کہا کہ جلوسِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مقام تمام دنیوی جلوسوں سے ممتاز اور جداگانہ ہے۔ یہ محض کسی تقریب یا تفریح کا جلوس نہیں، بلکہ اس عظیم ہستی کی ولادتِ باسعادت کی خوشی اور محبت کا اظہار ہے جو سراپا رحمت، امن و سلامتی اور ہدایت بن کر دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے اس جلوس میں شریک ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے قول و عمل سے اس کی عظمت، وقار اور پاکیزگی کو نمایاں کرے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے میلادِ پاک کی خوشی اور اس مقدس اجتماع کی شان متاثر ہو۔لہٰذا جلوس میں شرکت کرنے والے حضرات درج ذیل امور کا خصوصی خیال رکھیں:

(۱)غسل و طہارت کے بعد صاف ستھرے اور پاکیزہ کپڑے زیب تن کرکے جلوس میں شریک ہوں۔ حتی الامکان لباس اسلامی وضع کا ہو اور خوشبو وغیرہ کا بھی اہتمام کیا جائے۔ چوں کہ یہ حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی کا اجتماع ہے، اس لیے ظاہری صفائی کے ساتھ دل و باطن کی پاکیزگی کا بھی خیال رکھا جائے۔

(۲) جلوس کے دوران فضول، لغو، فحش اور دل آزاری والی باتوں سے مکمل اجتناب کریں۔ جب تک جلوس میں رہیں، اپنی زبان کو ذکرِ الٰہی، درود و سلام اور نعتِ پاک سے تر رکھنے کی کوشش کریں۔ کسی شخص سے جھگڑا، گالی گلوچ، طنز یا بدکلامی ہرگز نہ کریں۔

(۳) جلوس کے دوران حتی الامکان سڑک کے ایک ہی کنارے کو استعمال کیا جائے، تاکہ عام راہ گیروں اور دیگر گاڑیوں کی آمد و 

رفت میں رکاوٹ نہ ہو۔ خصوصاً ایمبولینس، فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کو فوراً راستہ دیا جائے۔ کسی شاہراہ، گلی یا چوراہے کو بلا ضرورت جام نہ کیا جائے۔ یاد رکھیں کہ دوسروں کو تکلیف پہنچانا میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی روح کے خلاف ہے۔

(۴) نعرہ لگاتے وقت اچھل کود، شور و ہنگامہ، موٹر سائیکلوں کی خطرناک ڈرائیونگ یا کسی بھی غیر سنجیدہ حرکت سے مکمل پرہیز کریں۔ نعرۂ رسالت محبت و عقیدت کا اظہار ہے، اسے ادب، وقار اور احترام کے ساتھ بلند کیا جائے۔

(۵)ہر شریکِ جلوس اپنے گفتار و کردار سے یہ باور کرانے کی کوشش کرے کہ یہ پیغمبرِ امن و سلامتی، رحمتِ عالم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا جلوس ہے۔ کسی راہ گیر، دکاندار، ڈرائیور یا کسی بھی دوسرے شخص کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ کسی کی چیز کو نقصان نہ پہنچائیں، راستے میں گندگی نہ پھیلائیں اور کسی کے ساتھ بدسلوکی نہ کریں۔

(۶) دورانِ جلوس پان، گٹکا، تمباکو، سگریٹ، بیڑی اور ہر قسم کی نشہ آور یا مضر اشیا سے اپنے منہ اور جسم کو پاک رکھیں۔ خاص طور پر جلوس جیسے مقدس اجتماع میں ایسی چیزوں کااستعمال اس کے وقار کے خلاف ہے۔

سے انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت "بلڈ ڈونیشن (عطیۂ خون)" کیمپ کا انعقاد کیا جائے۔ تمام صحت مند حضرات اپنے نبی اکرم ﷺ کی محبت میں عطیۂ خون پیش کریں، تاکہ مسلمانوں کے خلاف پھیلائی

جانے والی منفی پروپیگنڈوں اور بیانیے کا کافور کیا جا سکے، نیز پورے ملک میں امن و محبت کا ایک مثبت پیغام جائے اور مسلمانوں کی حب الوطنی کا عملی و حکمت عملی کی سطح پر ثبوت پیش کیا جا سکے۔ اس تمام تر پروگرام کو علماء کونسل نیپال کی سرپرستی اور ماتحتی میں انجام دینے پر تمام شرکاء نے متفقہ طور پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا۔

تمام علمائے کرام اور بیدار مغز ذمہ داران (۷)شیرینی، کھانا یا دیگر تبرکات تقسیم کرتے وقت چھینا جھپٹی اور بد نظمی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ منتظمین بھی حتی الامکان منظم طریقے سے تقسیم کا انتظام کریں، تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور سڑک پر ٹریفک بھی متاثر نہ ہو۔ تبرک کو احترام سے لیا اور استعمال کیا جائے۔

(۸)جلوس کے دوران جہاں کسی ضرورت مند، غریب، مسکین، معذور یا پریشان حال شخص پر نظر پڑے، اس کی مدد کریں۔ صدقہ و خیرات، کھانا کھلانا اور ضرورت مندوں کی حاجت پوری کرنا بھی محبتِ رسول ﷺ کا حسین مظہر ہے۔

(۹) جلوس کے راستے میں کاغذ، پلاسٹک، پانی کی بوتلیں، کھانے کے لفافے یا دیگر اشیا نہ پھینکیں۔ جہاں تک ممکن ہو صفائی کا اہتمام کریں اور واپسی پر بھی راستہ صاف رکھنے میں تعاون کریں۔ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے صفائی اور دوسروں کو تکلیف سے بچانے کی تعلیم دی ہے۔

(۱۰) جلوس کی مصروفیت کی وجہ سے نماز ہرگز قضا نہ ہونے دیں۔ اگر دورانِ جلوس نماز کا وقت ہوجائے تو نماز کی ادائیگی کا مناسب انتظام کیا جائے۔ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی کا سب سے خوب صورت اظہار یہی ہے کہ ہم حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے بنیں۔

(۱۱)جلوس میں بچوں، بزرگوں اور کمزور افراد کو ہجوم میں بے احتیاطی سے نہ آنے دیں۔ والدین اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور منتظمین بھی ہجوم کو منظم رکھنے کا اہتمام کریں، تاکہ کسی کو حادثے یا تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

(۱۲)جلوس کے انتظامات میں متعلقہ انتظامیہ اورمنتظمین کی ہدایات پر عمل کریں۔ ٹریفک کےنظم،راستوں کی پابندی اور دیگر ضروری انتظامات میں تعاون کریں۔ کسی انتظامی اہل کار سے بدتمیزی یا مزاحمت نہ کریں۔

(۱۳) اس اجتماع میں اپنی نمود و نمائش، مقابلہ بازی، غیر ضروری اخراجات یا ایسی حرکات سے بچیں جن کا مقصد صرف دوسروں پر برتری جتانا ہو۔ اصل مقصد محبتِ رسول ﷺ، اظہارِ تشکر، ذکر و درود اور سیرتِ طیبہ کے پیغام کو عام کرنا ہے۔

   تمام شرکائے جلوس یہ عہد کریں کہ وہ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں نکلنے والے اس مقدس جلوس کو محبت، ادب، نظم و ضبط، پاکیزگی اور امن و سلامتی کا نمونہ بنائیں گے۔ ہماری ہر حرکت سے یہ پیغام ظاہر ہونا چاہیے کہ ہم اس نبیِ رحمت ﷺ کے امتی ہیں جنہوں نے انسانیت کو محبت، اخوت، رحم، عفو، امن اور حسنِ اخلاق کا درس دیاہے۔

*جلوسِ کےمنتظمین کے لیے ضروری ہدایات*

    جلوسِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ ایک دینی و ایمانی اجتماع ہے، اس لیے اس کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری بھی بڑی اہم ہے۔ منتظمین کی ذمہ داری صرف جلوس کو چلانا نہیں، بلکہ اس کے ادب، وقار، نظم، امن اور شرعی حدود کی حفاظت بھی ہے۔ چند اہم گزارشات پیشِ خدمت ہیں:

(۱) جلوس کو تہذیب، شائستگی، سادگی اور وقار کے ساتھ نکالنے کا اہتمام کریں۔ غیر

ضروری نمائش، فضول خرچی اور ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کریں جو جلوس کے دینی مقصد اور وقار کے خلاف ہوں۔

(۲) بہت بھاری ساؤنڈ سسٹم، ڈی جے اور غیر ضروری صوتی آلات استعمال نہ کیے جائیں جلوس کی اصل زینت بلند آواز نہیں، بلکہ بلند کردار ہے؛ اور محبتِ رسول ﷺ کا سب سے خوب صورت ثبوت یہ ہے کہ ہمارے عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔

(۳)آواز اتنی رکھی جائے کہ لوگوں کے لیے باعثِ اذیت نہ بنے۔ مقامی قوانین اور انتظامیہ کی مقرر کردہ صوتی حدود کی بھی پابندی کی جائے۔

(۴) لاؤڈ اسپیکر پر نعتِ پاک، درود و سلام، ذکر، دینی کلام اور با معنی و مہذب اشعار ہی پیش کریں،میوزک سے بالکل اجتناب کریں۔

(٥) علما ومشائخ کو جلوس میں پیش پیش رکھیں ان کی ہدایت اور نگرانی ہی میں کام کریں۔

    *یاد رکھیں!* جلوس کی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ اس میں کتنے لوگ شریک ہوئے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کتنے ادب، نظم، امن، پاکیزگی اور محبت کے ساتھ شریک ہوئے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ جلوس گزرنے کے بعد لوگ یہ کہیں کہ یہ واقعی اس نبیِ رحمت ﷺ کے ماننے والوں کا جلوس تھا، جن کی تعلیمات میں انسانوں کو راحت پہنچانا اور تکلیف سے بچانا شامل ہے۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)