Aug 23, 2026 03:52 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
جلوس محمدی ﷺ کے آداب

جلوس محمدی ﷺ کے آداب

21 Aug 2026
1 min read

جلوس محمدی ﷺ کے آداب

ثاقب رضا علیمی ماتریدی  بانکے نیپال گنج

ماہ ربیع النور کی بارہویں تاریخ آتے ہی ہر عاشقِ رسول ﷺ کا دل غنچے کی مانند کھل اٹھتا ہے کیوں کہ اسی مبارک دن میں سرکارِ دو عالم، رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عاشقِ رسول ﷺ اس دن اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے جلوس کا اہتمام کرتا ہے، جسے ہم جلوسِ عید میلاد النبی ﷺ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

لیکن جب ہم اس جلوس میں شریک ہوتے ہیں تو بعض اوقات ہم سے ایسی باتیں اور ایسے اعمال بھی صادر ہو جاتے ہیں جو جلوس کے ادب، شائستگی اور محبتِ رسول ﷺ کے تقاضوں کے خلاف ہوتے ہیں۔

چوں کہ اس جلوس کا بنیادی مقصد سرکارِ دو عالم ﷺ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرنا ہے، اور محبت اطاعت و اتباع کے بغیر کامل نہیں ہوتی، اس لیے آئیے ہم جلوسِ محمدی ﷺ کے چند اہم آداب سیکھیں اور عہد کریں کہ ہمارا یہ جلوس واقعی محبتِ رسول ﷺ کا آئینہ دار ہوگا۔

: جلوس کا انداز باوقار اور مثالی ہو

جلوس ایسا ہونا چاہیے کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی اسے دیکھے تو رسولِ اکرم ﷺ کے ماننے والوں کے حسنِ اخلاق، نظم و ضبط، پاکیزگی، شائستگی اور باوقار انداز کو دیکھ کر اسلام کی طرف مائل ہو، نہ کہ ہمارے چلنے پھرنے، شور شرابے یا نامناسب حرکات کی وجہ سے اسلام سے بدظن ہو۔

 

لہٰذا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جلوسِ محمدی ﷺ کو نہایت ادب، وقار اور حسنِ انتظام کے ساتھ نکالیں اور اسے دوسروں کے لیے ایک بہترین نمونہ بنائیں۔

2 : نماز کو ہر حال میں مقدم رکھیں

اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جب مسجد سے نماز کے لیے اذان دی جائے تو تمام مصروفیات چھوڑ کر نماز کی طرف متوجہ ہوں ، کیوں کہ نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے، جبکہ جلوس میں شرکت فرض نہیں۔

لہٰذا کسی غیر فرض کام کی وجہ سے فرض نماز کو ترک کرنا ہرگز مناسب نہیں۔ جلوس محبت کا سب سے خوب صورت تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے محبوب ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے نماز کی پابندی کریں۔

3 : گانے بجانے اور نامناسب آوازوں سے اجتناب کریں

جلوس میں ڈی جے کا استعمال گانوں کے انداز پر ہرگز نہ کیا جائے۔ اسی طرح میوزک، ڈھول باجے اور دیگر ایسی چیزوں سے بھی اجتناب کیا جائے جو جلوس کے تقدس، وقار اور ادب کے خلاف ہوں۔

نعتِ رسول ﷺ محبت و عقیدت کے ساتھ پڑھی جائے اور اس کے لیے ایسا انداز اختیار کیا جائے جو حضورِ اکرم ﷺ کی عظمت و تعظیم کے شایان شان ہو۔

4 : درود و سلام اور نعت رسول ﷺ کا اہتمام کریں

جلوس میں نعت رسول ﷺ پڑھتے ہوئے چلیں، سرکارِ دو عالم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیں اور اپنے لبوں کو ذکرِ رسول ﷺ سے تر رکھیں۔

جلوس کو شور و شرابے، ناچ گانے، اچھل کود اور غیر مناسب حرکات سے محفوظ رکھیں کیوں کہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا وقار، ادب اور عاجزی ہے۔

5: نعرے بھی باادب اور پُرامن ہوں

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کی محبت و عقیدت کے اظہار کے لیے نعرے لگائے جائیں، لیکن نعرے لگاتے وقت بھی ادب، شائستگی اور امن و سکون کا خیال رکھا جائے۔

ایسے اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اجتناب کیا جائے جن سے کسی فرد، جماعت یا مذہب کی دل آزاری ہو یا معاشرے میں انتشار اور نفرت پیدا ہو۔

6 : صفائی کا خاص خیال رکھیں

جلوس کے دوران صفائی کا خاص اہتمام کریں اور راستوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر گندگی نہ پھیلائیں۔

اس عمل کے ذریعے دنیا کو یہ پیغامدیں کہ اسلام پاکیزگی اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے:" الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ "یعنی: پاکیزگی ایمان کا نصف حصہ ہے۔لہٰذا صفائی کا خاص خیال رکھنا بھی ہمارے دینی شعور اور حسنِ اخلاق کا حصہ ہونا چاہیے۔

7: تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے حتی الامکان اجتناب کریں

جلوس میں غیر ضروری طور پر تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مشغول ہونے سے پرہیز کریں۔ اس کے بجائے ادب و احترام کے ساتھ نظریں جھکائے ہوئے لبوں پر درود و سلام کا ورد جاری رکھیں اور اپنے دل کو محبتِ رسول ﷺ سے منور کریں۔

ہم جلوس میں یادگار تصاویر بنانے کے لیے نہیں، بلکہ محبت و عقیدت کے اظہار اور دینی جذبات کو تازہ کرنے کے لیے شریک ہوتے ہیں۔

8: دوسرے مسلمانوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں جلوس میں شریک تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت، اخوت اور حسنِ سلوک سے پیش آئیں۔ ایک دوسرے کو گالی دینے، بدزبانی کرنے، لڑائی

 

جھگڑا کرنے اور کسی کی دل آزاری سے مکمل اجتناب کریں۔

یاد رکھیں  بدزبانی اور بدسلوکی محبت رسول ﷺ کے دعوے کے شایان شان نہیں۔ اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے اخلاق و کردار میں بھی اس محبت کی جھلک نظر آنی چاہیے۔

9 : لنگرِ رسول ﷺ اور غرباء کا خاص  خیال رکھیں

جلوس کے موقع پر لنگر کا اہتمام کریں اور بالخصوص غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خصوصی خیال رکھیں۔

محبتِ رسول ﷺ کا ایک خوب صورت مظہر یہ بھی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ محبت، ہمدردی اور خیر خواہی کا معاملہ کریں۔

10 : لنگر، شیرینی اور شربت کی تقسیم میں صفائی کا خیال رکھیں ۔

جہاں لنگر، شیرینی، شربت یا دیگر اشیائے خورد و نوش تقسیم کی جائیں، وہاں صفائی کا خصوصی اہتمام کریں۔ کھانے پینے کی اشیا کو ضائع نہ کریں اور شیرینی و دیگر نعمتوں کا احترام ملحوظ رکھیں۔

یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ تقسیم کے بعد وہاں کچرا نہ پھیلنے دیں اور جگہ کو صاف ستھرا رکھیں۔

11 : نظم و ضبط کے ساتھ جلوس میں چلیں

حتی الامکان پیدل جلوس میں شرکت کریں اور باقاعدہ ترتیب و نظم کے ساتھ چلیں۔ ایک دوسرے کو دھکا دینے، آگے نکلنے کی کوشش کرنے اور بدانتظامی سے مکمل اجتناب کریں۔

یاد رکھیں کہ ایک منظم، پُر امن اور باوقار جلوس ہی محبتِ رسول ﷺ کے خوب صورت پیغام کو مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔

12 : بچوں کو سیرتِ رسول  ﷺ سے روشناس کرائیں

جلوس عید میلاد النبی ﷺ میں شرکت سے قبل اپنے بچوں کو نبیِ کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت، حیات طیبہ، اخلاق کریمانہ اور سیرت مبارکہ کے بارے میں ضرور بتائیں  تاکہ ان کے دلوں میں بھی محبتِ رسول ﷺ پیدا ہو اور ان کا دینی تعلیم و سیرت نبوی ﷺ سے تعلق مزید مضبوط ہو۔

صرف جلوس میں شرکت کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ ہماری نئی نسل رسول اللہ ﷺ کی سیرت، اخلاق اور تعلیمات سے بھی واقف ہو اور اپنی زندگی کو آپ ﷺ کی مبارک تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ اللہ کریم عمل کی توفیق بخشے

آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔

 

از قلم : محمد ثاقب علیمی ماتریدی 

نیپال گنج بانکے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)