دیوان گنج سے پورے نیپال کے لیے ایک بڑا سبق
دیوان گنج، سنسری
میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ صرف ایک مقامی تنازع یا دو گروہوں کے درمیان جھڑپ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ پورے نیپال، خصوصاً سرحدی اور کثیر مذہبی معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اس واقعے کے دوران اور اس کے بعد مسلمانوں اور مجموعی طور پر تمام شہریوں کی جانب سے جس صبر، تحمل، حکمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔ خصوصاً علماء، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور مقامی ذمہ دار افراد نے لوگوں کو اشتعال کے بجائے امن، قانون اور باہمی احترام کی طرف متوجہ کرنے میں جو کردار ادا کیا، وہ قابلِ ذکر ہے۔ اس واقعے کے قانونی اور حکومتی پہلوؤں پر میں زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا، کیونکہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس معاملے پر اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔ البتہ اس موقع پر ہمیں بحیثیت معاشرہ کچھ بنیادی باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر اس واقعے کی ابتدائی جڑوں کو دیکھا جائے تو بلند آواز میں DJ یا ساؤنڈ سسٹم کا استعمال ایک اہم سبب کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہاں سوال صرف DJ کا نہیں بلکہ غیر ضروری اور حد سے زیادہ بلند آواز کے استعمال کا ہے۔ دنیا بھر میں Noise Pollution یعنی صوتی آلودگی کو ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور نیپال میں بھی شور کی سطح، اوقات اور مختلف سرگرمیوں کے حوالے سے ریاستی
قوانین اور ضوابط موجود ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مذہبی، ثقافتی یا سماجی سرگرمی کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسروں کے سکون، صحت اور بنیادی حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سرگرمی جاری رکھیں۔
یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں صرف دوسروں کے عمل پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے معاملات کا بھی احتساب کرنا چاہیے۔ اگر ہم DJ کی بلند آواز کو مسئلہ سمجھتے ہیں تو ہمیں اپنی شادی بیاہ کی تقریبات میں رات گئے تک بلند آواز میں DJ بجانے کے عمل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ اگر کسی دوسرے مذہب کے جلوس یا تہوار میں بلند آواز ہمیں تکلیف دیتی ہے تو ہمیں اپنے مذہبی جلسوں، میلاد، محافل، اجتماعات اور دیگر پروگراموں میں بھی آواز کی شدت اور اوقات کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہمارے حقوق اور مذہبی جذبات کا احترام کریں تو ہمیں بھی دوسروں کے آرام، سکون اور حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ یہی ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی علامت ہے۔
اسلام ہمیں صرف عبادات کا حکم نہیں دیتا بلکہ حسنِ معاشرت، اعتدال اور حقوق العباد کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ یعنی "اپنی آواز کو پست رکھو" (سورۃ لقمان: 19)۔ اس آیت سے ہمیں آواز کے استعمال میں اعتدال اور تہذیب کا ایک اہم اصول ملتا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو اس انداز میں بلند آواز سے قرآن پڑھنے سے منع فرمایا جس سے دوسرے نمازیوں کو خلل یا تکلیف
پہنچے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ایک نیک اور مقدس عمل بھی اس طریقے سے نہیں ہونا چاہیے جس سے دوسروں کو بلاوجہ اذیت پہنچے۔
اسلامی فقہ کا ایک معروف اصول ہے: "لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ" یعنی نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسرے کو
نقصان پہنچاؤ۔ یہ اصول ہماری پوری اجتماعی زندگی پر لاگو ہوتا ہے۔ پڑوسی کو تکلیف دینا، اس کی نیند خراب کرنا، بیمار یا بزرگ کے آرام میں خلل ڈالنا یا ایسی آواز پیدا کرنا جس سے لوگوں کو بلاوجہ اذیت ہو، اسلامی اخلاق کے مطابق درست رویہ نہیں ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا میری خوشی کسی دوسرے کے لیے تکلیف بن رہی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
اذان کے معاملے میں بھی ہمیں ایک متوازن اور علمی موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اذان اسلام کا عظیم شعار ہے اور اسے عام شور یا موسیقی کے برابر قرار دینا درست نہیں۔ لیکن لاؤڈ اسپیکر خود اذان نہیں بلکہ اذان کی آواز کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لیے اگر ٹیکنالوجی کا استعمال ضرورت سے تجاوز کرکے دوسروں کے لیے غیر ضروری تکلیف کا باعث بن جائے تو ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ مقصد لوگوں کو نماز کی طرف متوجہ کرنا ہے، کسی بیمار، بچے، بزرگ، طالب علم یا پڑوسی کے سکون کو بلاوجہ متاثر کرنا نہیں۔ اسی طرح اگر ریاست شور کی سطح کے حوالے سے عمومی ضابطے
بناتی ہے تو ان کا اطلاق تمام مذاہب، عبادت گاہوں، ثقافتی پروگراموں،
شادی بیاہ، سیاسی جلسوں اور دیگر سرگرمیوں پر یکساں ہونا چاہیے۔
یہاں ریاست کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ نیپال میں ماحول کے تحفظ اور آلودگی کے کنٹرول کے لیے قانونی نظام موجود ہے اور شور کی آلودگی کے حوالے سے بھی سرکاری معیار اور ضوابط موجود ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ ان قوانین کو کسی خاص مذہب یا طبقے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے سب پر یکساں طور
پر نافذ کرے۔ مسجد، مندر، چرچ، گرجا گھر، مذہبی جلوس، شادی، سیاسی جلسہ یا ثقافتی پروگرام—اگر کسی سرگرمی سے مقررہ حد سے زیادہ شور پیدا ہوتا ہے تو قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ یہی قانون کی حکمرانی، مساوات اور شہری انصاف کا تقاضا ہے۔
اس معاملے میں علماء اور دانشوروں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ علماء کو صرف اس وقت عوام کو نصیحت نہیں کرنی چاہیے جب کسی دوسرے مذہب یا گروہ کی طرف سے شور کیا جائے، بلکہ اپنے لوگوں کو بھی یہ سمجھانا چاہیے کہ پڑوسی کے حقوق اسلام کا بنیادی حصہ ہیں۔ مسجد اللہ کا گھر ہے، لیکن مسجد کے اردگرد رہنے والے لوگ بھی اللہ کے بندے ہیں اور ان کے آرام، سکون اور حقوق کا خیال رکھنا بھی ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح شادی، میلاد، جلسہ، محفل یا کسی بھی مذہبی پروگرام کے منتظمین کو چاہیے کہ ساؤنڈ سسٹم کا استعمال ضرورت کے مطابق کریں اور رات کے اوقات میں خاص احتیاط برتیں۔
دیوان گنج کا واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایک چھوٹا سا تنازع اگر بروقت حکمت، گفتگو اور انتظامی
مداخلت سے حل نہ ہو تو وہ بہت بڑی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی معمولی اختلاف کو مذہبی یا اجتماعی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر کسی کو شکایت ہے تو اس کا حل قانون، انتظامیہ، مقامی مذاکرات اور باہمی گفتگو کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ اشتعال، افواہ، نفرت یا تشدد کے ذریعے۔
مسلمانوں کے لیے بھی اس واقعے میں ایک بڑا سبق ہے کہ ہمیں ردِعمل کے بجائے مثال بننے کی
ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مذہبی حقوق کا احترام ہو تو ہمیں دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اذان اور مذہبی پروگراموں میں کوئی غیر ضروری مداخلت نہ کرے تو ہمیں بھی دوسروں کے آرام اور قانونی حقوق کا خیال رکھنا ہوگا۔ اگر ہم دوسروں سے قانون کی پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں خود بھی قانون کی پابندی کرنی ہوگی۔ یہی ہمارے موقف کو اخلاقی اور دینی قوت فراہم کرے گا۔
آخر میں، دیوان گنج کا سانحہ ہمیں صرف یہ سوال نہیں پوچھتا کہ غلطی کس کی تھی؟ بلکہ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ کیا بہتر کرسکتے ہیں تاکہ دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہو؟ ہمیں حکومت سے شفاف تحقیقات، قانون کی یکساں عمل داری اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی ہمیں اپنے معاشرے کے اندر بھی اصلاح کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ ہمیں شادیوں، میلاد، جلسوں، مذہبی اجتماعات اور دیگر پروگراموں میں
غیر ضروری بلند آواز سے بچنا ہوگا، لاؤڈ اسپیکر کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ہوگا اور رات کے اوقات میں دوسروں کے آرام کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔
نیپال کسی ایک مذہب، ذات یا برادری کا ملک نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ وطن ہے۔ یہاں ہندو بھی محفوظ ہوں، مسلمان بھی؛ بدھ بھی محفوظ ہوں، عیسائی بھی؛ پہاڑ، پہاڑیاں اور ترائی کے تمام شہری برابر عزت، امن اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ہمیں ایسا نیپال بنانا ہے جہاں کسی کی عبادت دوسرے کے لیے خوف نہ بنے، کسی کی خوشی دوسرے کے لیے اذیت نہ
بنے اور کسی کا اختلاف تشدد کا سبب نہ بنے۔ امن صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر ہم واقعی امن چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے شور پر اعتراض کرنے سے پہلے اپنے شور کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ یہی انصاف ہے، یہی حکمت ہے، یہی حسنِ معاشرت ہے اور یہی ایک ذمہ دار شہری اور ذمہ دار مسلمان کا طرزِ عمل ہونا چاہیے۔
ڈاکٹر سلیم انصاری
جھاپا نیپال
