Jul 14, 2026 06:48 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سوشل میڈیا اور امت مسلمہ کا مفتی کلچر: ڈاکٹر سلیم انصاری  جھاپا نیپال

سوشل میڈیا اور امت مسلمہ کا مفتی کلچر: ڈاکٹر سلیم انصاری  جھاپا نیپال

02 Jul 2026
1 min read

سوشل میڈیا اور امت مسلمہ کا مفتی کلچر

ڈاکٹر سلیم انصاری  جھاپا نیپال

اسلام بنیادی طور پر دعوت، خیر خواہی اور اصلاح کا دین ہے۔ قرآن مجید انسانوں کو حکمت، حسنِ اخلاق اور بہترین اندازِ گفتگو کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ آپ نے لوگوں کے دل جیتے، انہیں دین سے جوڑا اور غیر ضروری سختی یا تحقیر کو کبھی اپنا طریقہ نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا: "اگر آپ سخت مزاج اور سنگ دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے۔" (آل عمران: 159)

نبی کریم ﷺ کی دعوتی زندگی اس حقیقت کی بہترین مثال ہے۔ طائف میں آپ ﷺ کو پتھر مارے گئے، جسم مبارک لہولہان ہو گیا، مگر جب فرشتۂ نے ان لوگوں کو ہلاک کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔ یہ فتویٰ نہیں بلکہ دعوت کا مزاج تھا۔

فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے سامنے وہی لوگ کھڑے تھے جنہوں نے آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، آپ کے ساتھیوں پر ظلم کیا اور برسوں جنگیں مسلط کیں۔ اس کے باوجود آپ ﷺ نے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت 

نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔" انتقام کے بجائے معافی نے ہزاروں دلوں کو اسلام سے جوڑ دیا۔اسی طرح مسجد میں پیشاب کرنے والے دیہاتی کو صحابہؓ نے روکنا چاہا، مگر آپ ﷺ نے انہیں منع فرمایا اور بعد میں نہایت شفقت سے اس شخص کو سمجھایا کہ مسجد اللہ کی عبادت کے لیے ہے۔ اگر اس موقع پر سختی کی جاتی تو شاید وہ شخص دین سے متنفر ہو جاتا۔

ایک نوجوان آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور زنا کی اجازت طلب کی۔ صحابہؓ سخت ناراض ہوئے، لیکن آپ ﷺ نے اسے اپنے قریب بٹھایا، محبت سے اس کی رہنمائی کی، اس کے دل کو مخاطب کیا اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گناہ سے نفرت کرنے لگا۔ یہ اسلوب ہمیں سکھاتا ہے کہ اصلاح دلائل، محبت اور خیر خواہی سے ہوتی ہے، محض سخت الفاظ سے نہیں۔

لیکن افسوس کہ سوشل میڈیا کے دور میں ایک نیا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جسے "مفتی کلچر" کہا جا سکتا ہے۔ آج ہر شخص اپنے موبائل فون کے ذریعے حلال و حرام، ایمان و کفر اور صحیح و غلط کے فیصلے سنانے لگا ہے۔ چند ویڈیوز، چند پوسٹس یا چند اقتباسات پڑھ لینے کے بعد بعض لوگ خود کو ہر مسئلے میں شرعی رائے دینے کا اہل سمجھنے لگتے ہیں۔

یہ رجحان صرف عام مسلمانوں تک محدود نہیں 

رہا بلکہ بعض اوقات ایسے علماء، مقررین اور خطباء بھی ہر نئے واقعے پر فوری فتویٰ دینے لگتے 

ہیں جن کا اصل میدان دعوت، تدریس یا 

خطابت ہے، نہ کہ افتاء۔ اس جلد بازی کا نتیجہ یہ ہے کہ امت میں علمی احتیاط کم اور باہمی اختلافات زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔

اسلام نے فتویٰ کو ایک نہایت حساس ذمہ داری قرار دیا ہے۔ فتویٰ محض ذاتی رائے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی ترجمانی ہے، اس لیے اس کے لیے قرآن و سنت، فقہ، اصولِ فقہ، عربی زبان اور حالاتِ زمانہ پر گہری مہارت ضروری ہے۔ اسلافِ امت فتویٰ دینے میں غیر معمولی احتیاط کرتے تھے اور اگر کسی مسئلے میں تردد ہوتا تو اسے اپنے سے زیادہ اہل عالم کی طرف منتقل کر دیتے۔ انہیں اپنی مقبولیت سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کی فکر ہوتی تھی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عام مسلمان سوشل میڈیا پر فتویٰ دینے، لوگوں کے ایمان و کردار پر فیصلے صادر کرنے اور ہر اختلاف کو دین کا بنیادی مسئلہ بنانے سے اجتناب کریں۔ اسی طرح عام علماء، ائمہ، خطباء اور مقررین بھی ہر مسئلے میں فتویٰ دینے کے بجائے اہلِ افتاء کی طرف رجوع کریں۔ ہر عالم قابلِ احترام ہے، لیکن ہر عالم مفتی نہیں ہوتا۔ افتاء ایک مستقل تخصص ہے جس کے لیے برسوں کی علمی تیاری اور عملی تربیت درکار ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر مسلمان داعی بن سکتا ہے۔ اچھے اخلاق، خیر 

خواہی، نرمی، علم کی صحیح بات آگے پہنچانا اور لوگوں کو اللہ سے جوڑنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، لیکن ہر شخص مفتی نہیں بن سکتا۔

اگر ہم اس فرق کو سمجھ لیں تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہو جائیں۔

آج امت کو فتووں سے زیادہ داعیوں کی ضرورت ہے؛ ایسے داعی جو لوگوں کے دل جیتیں، نوجوانوں کو دین سے قریب کریں، اختلاف کے باوجود احترام سکھائیں اور رسول اللہ ﷺ کے رحمت بھرے اسلوب کو زندہ کریں۔ اگر ہم سوشل میڈیا کے مفتی کلچر کے بجائے دعوتی کلچر کو فروغ دیں، اختلاف کے بجائے خیر خواہی کو اپنائیں اور فتویٰ کو اس کے اصل اہل کے سپرد کر دیں، تو یقیناً امت کے بہت سے فکری اور سماجی مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ یہی قرآن و سنت کا مزاج، اسلافِ امت کا منہج اور امت کی وحدت و اصلاح کا راستہ ہے۔

محرر کے بارے میں

ڈاکٹر سلیم انصاری بن الکاس انصاری کا تعلق جھاپا، نیپال سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی، اس کے بعد جامعہ اسلامیہ، براٹ نگر سے دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ سن 2008 میں جامعہ الفلاح سے عالمیت کی سند حاصل کی اور 2009 میں دارالعلوم دیوبند (قدیم) سے دورۂ حدیث مکمل کیا۔

اعلیٰ عصری تعلیم کے لیے انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے عربی میں گریجویشن کیا، جبکہ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی سے حاصل کیں۔

پیشہ ورانہ طور پر ڈاکٹر سلیم انصاری ایک تجربہ کار مترجم اور ماہرِ لغت ہیں، جو بنیادی طور پر عربی، انگریزی، اردو اور نیپالی زبانوں میں کام کرتے ہیں۔ انہیں ترجمہ اور مراجعہ (ریویو/ایڈیٹنگ) کے میدان میں دس برس سے زائد کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے ٹی سی ایس اور ایکسنچر جیسی عالمی و کارپوریٹ کمپنیوں میں سینئر عربی دان اور ٹیم لیڈ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ فی الوقت وہ مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں اور کمپنیوں کو اعلیٰ معیار کی ترجمہ اور مراجعہ کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)