قاری محمد سعید نظامی کے عقد مسنونہ پر جلسہ عید میلاد النبی کا انعقاد
نکاح دین کی تکمیل، جسم و روح کی طاقت اور ’’بامقصدعطیۂ خداوندی‘‘ ہےـ مولانا قاری محمد زید ازہری
گورکھپور (اخلاق احمد نظامی)
دارالعلوم اہل سنت انوار العلوم گولا بازار گورکھپور کے سابق پرنسپل مولانا الحاج قطب الدین نظامی کے لخت جگر حافظ وقاری محمد سعید نظامی کے عقد مسنون کے موقع پر سے ایک روز قبل شب میں ایک عظیم الشان جلسہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم محلہ ٹیچر کالونی بیوری شہر پنچایت گولا بازار میں منعقد ہوا جس کی قیادت قاری اخلاق احمد نظامی پرنسپل دارالعلوم اہلسنت انوار العلوم گولا بازار و نظامت معروف نقیب مولانا آفاق رضا مشاہدی گونڈوی نے کی
پروگرام کا اغاز حافظ محمد عارف نظامی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا اس کے بعد ملک کے مشاہیر شعراء و نعت خواں خصوصا شاعر اسلام فیروز راحت کلکتوی ، نور احمد نور خلیل آبادی، ضیاء یزدانی بہرائچی ، محمد حسین انصاری اور حافظ امجد رضا نظامی سمیت درجنوں شعراء و نعت خواں نے بارگاہ رسالت میں دیر شب تک منظوم خراج عقیدت پیش کرتے رہے اس دوران مولانا الحاج قطب الدین نظامی اور ان کے شہزاد گان بالترتیب محمد طلحہ نظامی (جی ایس ٹی افسر) محمد سعد نظامی (پولیس) اور مولانا محمد زید نظامی سمیت ان کے رشتہ داروں و دیگر لوگوں نے شعراء کو ڈھیروں انعام و اکرام سے نوازا
تاہم پروگرام کے خصوصی مقرر فارغ ازہر مولانا حافظ و قاری محمد زید نظامی علیمی ازہری نے اپنے خطاب کا موضوع نکاح بنایا اور کہا کہ اسلام نے نکاح کے نظام کوبڑا مرتب،منظم اور مہذب کیا ہے،اس کی بنیادیں مضبوط کی ہیں اور اس کے نوک پلک سنوارکر اس مقدس اور پاکیزہ تعلق کو حسن و جمال دیا ہے۔ جس میں ہر طرح کا رکھ رکھاؤ ہے قانونی بھی اور اخلاقی بھی،یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اسلام کی نظرمیں نکاح کا تعلق صرف دنیاداری کا تعلق نہیں ہے بلکہ یہ خدا پرستی کا بھی ذریعہ ہے کیوںکہ اسلام میں ترکِ دنیا کا
کوئی تصورنہیں ہے۔اس لئے ترکِ نکاح بھی مستحسن نہیں ہے بلکہ حقیقت میں نکاح دین کی تکمیل ہے۔ جسم اور روح کی یہ طاقت ایک ’’بامقصدعطیۂ خداوندی‘‘ ہے اور اسے صحیح رخ پر اور ٹھیک حدوں میں پوری طرح کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔
مولانا ازہری نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نکاح میری سنت ہے اور جس نے میری سنت پہ عمل نہیں کیا وہ میرا نہیں ہے۔
اور فرمایا کہ جب بندہ نکاح کرلیتا ہے تو وہ اپنا آدھا دین پورا کرلیتا ہے بس باقی آدھے کے بارے میں بھی تقویٰ کی روش اختیار کرے۔مولانا ازہری نے کہا کہ اسلام میں نکاح کے کئی مقاصد ہیں اس میں پہلا مقصدمردوعورت کے اخلاق اور پاکیزگی کی حفاظت ہے یہ اسلام کی نگاہ میں نکاح کا اولین اور اہم ترین مقصدہے کہ مردوعورت دونوں کے اخلاق اور ان کی عفت و عصمت کی پوری طرح حفاظت کی جائے۔ اسلامی قانون میں ناجائز تعلق حرام ہے اوراس کی
سخت سزا ہے۔ اسلام مرد و عورت دونوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے فطری تعلق اور نفسانی
خواہش کو ایسے ضابطے کا پابند بنائیں جو ان کے اخلاق کو بے حیائی سے او رانسانی تمدن کوفساد سے محفوظ رکھ سکے۔
مولانا ازہری نے کہا کہ قرآن میں نکاح کی تعبیر ’احصان‘‘ سے کی گئی ہے،احصان کے معنیٰ ہیں قلعہ بندی،نکاح کرنے والا مرد ’’محصن‘‘ یعنی قلعہ تعمیر کرنے والا ہے اور نکاح میں آنے والی عورت ’’محصنہ‘‘ یعنی اس قلعہ کی حفاظت میں آنے والی ہے۔ نکاح کا پہلا کام اس قلعہ کومستحکم اور مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح کا دوسرا مقصد ہے نسل انسانی کی بقا اوراس کی افزائش،نسل انسانی کی بقا اور افزائش کے خدائی منصوبے کاذریعہ مردوعورت کا تعلق ہے، نکاح کا تیسرا مقصد ہے سکون قلب اور مؤدت و رحمت،یعنی یہ رشتہ مردوعورت کے درمیان دلی تعلق کی بنیاد بنے تاکہ دونوں کی گھریلو زندگی میں وہ راحت ومسرت اور سکون قلب حاصل ہو جو انسانی تمدن کو آگے بڑھانے کے لئے ان کو طاقت و قوت فراہم کرے۔
مولانا ازہری نے کہا کہ نکاح کا چوتھا مقصد ہے دینی اور معاشرتی مصلحت ،نکاح میں کبھی کوئی دینی مصلحت بھی ہوتی ہے جس کی بہترین مثال خود حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں
مولانا ازہری نے کہا کہ نکاح ایک بامقصد عبادت ہے اور نکاح کی مجلس عبادت کی مجلس ہے اور شاید اسی لئے عبادت کی جگہ ’’مسجد‘‘ نکاح کے لئے افضل ہے اور اگر جمعہ کا دن ہوتواوربھی بہتر ہے کہ جمعہ کے دن کی فضیلت اور برکت اس پاکیزہ رشتے کو اوربابرکت بنادے گی۔نکاح کی فضیلتیں اور یہ فوائد اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب نکاح کو مسنون طریقہ پر سادہ اور آسان انداز میں منعقد کیا جائے ،چوں کہ نکاح ایک عبادت ہے اور ہماری عبادت کی انجام دہی میں ہمیں اس بات کا پابند کیاگیا ہے کہ ہم اسوہ ٔرسولؐ کی پیروی کریں ،ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ نکاح کے سلسلے میں اسلامی ہدایات اور نبوی تعلیمات سے واقفیت حاصل کرے اور ان کے مطابق نکاح کے امور انجام دے۔
مولانا ازہری نے کہا کہ افسوس آج مسلمانوں کا مزاج اور ان کی سوچ رشتۂ نکاح کے سلسلہ
میں بدل چکی ہے اورجب کسی سماج اورمعاشرے میں سوچنے کاانداز بدل جاتا ہے
اور دین و اخلاق، نیکی و شرافت کے بجائے دوسری چیزیں عزت و ذلت کا معیاربن جاتی ہیں توسارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہےانہوں نے کہا کہ’’صالح قدریں‘‘ سوسائٹی کا سب
سے بڑا سرمایہ ہیں۔ان کی حفاظت کرنا ساری سوسائٹی کی ذمہ داری ہے۔ صالح معاشرہ کی بنیاد صالح خاندان اور صالح خاندان کی بنیاد ’’صالح جوڑا‘‘ ہے اس لئے خوب سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیے ایک غلط قدم تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، آپ کے لئے بھی اور معاشرے کے لئے بھی۔
مولانا ازہری نے کہا کہ اسلام نے نکاح میں محض لڑکے کے اوپر مہر کی ادائیگی لازم کی ہے اور دعوست ولیمہ کو اس کے لیے سنت قرار دیا ہے، رہی بات لڑکی والوں کی تو ان پر کوئی خرچ عائد نہیں کیا ہے ،جب کہ لڑکے کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نکاح کے بعد ولیمہ کرے ،
بعض علاقوں میں جہیز کے علاوہ لڑکی والوں سے نقد رقم کا مطالبہ ہوتا ہے،لڑکے کی مالی تعلیمی اور سماجی حیثیت کے مطابق رقم ادا کی جاتی ہے،ایسا کرنا صریح گناہ اور ظلم و زیادتی ہے مولانا ازہری نے کہا کہ نکاح کو سادہ اور آسان بنانے اور شادی بیاہ میں شامل ہوچکی بیجا رسوم ورواج کو مٹانے کے لیے ہم سب کو آگے آنا ہوگا پروگرام میں مولانا مفتی اقبال احمد مصباحی،مولانا محمد صدیق قادری، مولانا حامد علی قادری،قاری جمال الدین نظامی،ڈاکٹر عبدالکریم نظامی مولانا شمس الوری قادری،حافظ امیر عالم مصباحی،قاری محمد محمود عالم برکاتی،حافظ عبدالوحید برکاتی،حافظ مسعود رضا برکاتی، حافظ فدا حسین پرساں،حافظ محمد عباس نظامی،حافظ محمد اشفاق نظامی اور حافظ ریاض اللہ انصاری کے علاوہ کثیر تعداد میں فرزندان توحید و رسالت تھے پروگرام کا اختتام صلوۃ و سلام اور مولانا قطب الدین نظامی کی رقت امیز دعا پر ہوا
