Apr 12, 2026 02:13 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
تلنگانہ کی طرز پر ’ہیٹ اسپیچ' کے خلاف قومی قانون کا نفاذ  وقت کا تقاضا

تلنگانہ کی طرز پر ’ہیٹ اسپیچ' کے خلاف قومی قانون کا نفاذ وقت کا تقاضا

09 Apr 2026
1 min read

تلنگانہ کی طرز پر ’ہیٹ اسپیچ' کے خلاف قومی قانون کا نفاذ  وقت کا تقاضا

جاوید جمال الدین

ہندوستان ایک کثیر مذہبی، کثیر الثقافتی اور جمہوری ملک ہے، جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔ یہی تنوع اس ملک کی اصل طاقت رہا ہے، لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں یہ طاقت ایک امتحان سے گزر رہی ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی، نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی اشتعال انگیزی نے نہ صرف سماجی تانے بانے کو کمزور کیا ہے بلکہ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کے لیے خوف اور عدم تحفظ کی فضا بھی پیدا کی ہے۔

ایسے حالات میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے “ہیٹ اسپیچ اور ہیٹ کرائم روک تھام بل 2026” کا پیش کیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے، جس نے ملک گیر سطح پر اس بحث کو نئی جہت دی ہے کہ آیا اس نوعیت کا سخت اور جامع قانون پورے ہندوستان میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس بل کے تحت نفرت انگیز تقاریر اور ان سے جڑے جرائم کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جن میں کم از کم ایک سال سے لے کر دس سال تک قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں، جبکہ اسے غیر ضمانتی جرم قرار دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

یہ قانون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویے اور اشتعال انگیز بیانات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کہیں مسلمانوں کی دکانوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی جاتی ہے، کہیں مذہبی بنیادوں پر کاروبار کرنے سے روکا جاتا ہے، اور کہیں معمولی تنازعات کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر تشدد بھڑکایا جاتا ہے۔ ان تمام واقعات میں ایک قدر مشترک ہے—نفرت کو ہوا دینے والی زبان اور بیان۔

 

کرناٹک بھی اس سلسلے میں ایک قدم آگے بڑھ چکا ہے، جہاں ہیٹ اسپیچ کے خلاف سخت قانون نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون میں مذہب، ذات یا برادری کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کو جرم قرار دیا گیا ہے، چاہے وہ زبانی ہو، تحریری ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہو۔ تلنگانہ کا بل دراصل اسی ماڈل کی ایک جدید اور زیادہ جامع شکل ہے، جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی براہ راست قانون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔

ڈیجیٹل دور میں نفرت انگیز تقاریر کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک ویڈیو، ایک ٹوئٹ یا ایک واٹس ایپ پیغام چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ کر نہ صرف جذبات کو بھڑکا سکتا ہے بلکہ زمینی سطح پر تشدد کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے، اور ایک مربوط قومی قانون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

لیکن اس تمام تر صورتحال کے بیچ ایک اور حقیقت بھی موجود ہے—اور وہ ہے مسلمانوں کی برداشت، صبر اور انسان دوستی۔ بڑھتے ہوئے دباؤ اور امتیازی رویوں کے باوجود ملک کے مختلفحصوں میں مسلمان آج بھی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی ایک زندہ مثال ہریانہ میں پیش آنے والا واقعہ ہے، جہاں ایک مسلمان بھنگار فروش، حاجی اختر خان، کو کباڑ میں لاکھوں روپے مالیت کے سونے کے زیورات ملے، لیکن انہوں نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ زیورات پولیس کے حوالے کر دیے۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک فرد کی دیانتداری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ نفرت کے اس ماحول میں بھی انسانیت زندہ ہے۔ جب شرما خاندان کو ان کے زیورات واپس ملے تو جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے—ایک مسلمان اور ایک ہندو خاندان کے درمیان وہی محبت اور اعتماد جو اس ملک کی اصل پہچان ہے۔ ایسے واقعات اس بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں جو مسلمانوں کو مشکوک یا مخالف کے طور پر پیش کرتا ہے۔

دوسری جانب، بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں ہندوستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے جہاں مذہبی آزادی کے حوالے سے ’خاص تشویش‘ پائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور دیگر اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جبکہ

امریکی حکومت کو ان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اگرچہ ہندوستانی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیا ہے، لیکن اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ مسئلہ اب عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ایسے قوانین آزادیٔ اظہار رائے کو محدود کر سکتے ہیں؟ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، لیکن یہ آزادی مطلق نہیں ہے۔ اگر کوئی تقریر یا بیان دوسروں کے خلاف نفرت، تشدد یا امتیاز کو فروغ دیتا ہے تو اسے روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہیٹ اسپیچ کے خلاف قانون سازی کرتے وقت ایک متوازن نقطہ نظر اپنایا جائے، جس میں نہ صرف سختی ہو بلکہ شفافیت اور احتساب بھی یقینی بنایا جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق، کسی بھی مؤثر قانون کے لیے ضروری ہے کہ اس میں “ہیٹ اسپیچ” کی واضح تعریف دی جائے، تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔ اگر تعریف مبہم ہوگی تو یہ قانون سیاسی مخالفین یا اختلافی آوازوں کو دبانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لیے عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اس عمل میں شامل کرنا ضروری ہے تاکہ ایک متفقہ اور منصفانہ قانون تشکیل دیا جا سکے۔

مسلمانوں کی زندگی اور ان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف اعداد و شمار یا سیاسی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کا جائزہ لیں۔ ایک عام مسلمان آج بھی اپنے روزگار، تعلیم،

مذہبی آزادی اور سماجی وقار کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کا سب سے زیادہ اثر عام لوگوں پر پڑتا ہے، جو نہ تو سیاست میں شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی طاقتور ادارے کا حصہ ہوتے ہیں۔ جب کسی کمیونٹی کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اندر خوف، بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، جو ایک صحت مند معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

تلنگانہ ا ور کرناٹک کی مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر سیاسی عزم موجود ہو تو ایسے قوانین بنائے جا سکتے ہیں جو نفرت انگیز تقاریر کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوں۔ لیکن اصل چیلنج ان قوانین کا منصفانہ نفاذ ہے۔ اگر قانون صرف کاغذوں تک محدود رہے یا اسے امتیازی انداز میں نافذ کیا جائے تو اس کے نتائج بھی منفی ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ مرکزی حکومت ایک جامع قومی پالیسی مرتب کرے، جس میں تمام ریاستوں کے تجربات کو مدنظر رکھا جائے۔ اس پالیسی میں نہ صرف قانون سازی شامل ہو بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے، تعلیمی نصاب میں رواداری کو فروغ دینے اور میڈیا کے کردار کو بھی واضح کیا جائے۔اس موقع پرکہنا بجا ہوگا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی وحدت میں ہے، اور یہ وحدت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ہرشہری کو برابر کا احترام اور تحفظ حاصل ہو۔ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانون سازی اسی سمت میں ایک اہم قدم ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے دیانتداری، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ نافذ کیا جائے۔فی الحال ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں، تقسیم کے بجائے اتحاد کو ترجیح دیں، اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کو برقرار رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ہندوستان کو ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Javed Jamaluddin,

 Editor In Chief ./HOD

Contact :9867647741.

02224167741

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383