علاج گاہ یا عذاب گاہ؟ سرکاری اسپتالوں کی گرتی ہوئی حالت پر ایک تلخ سوال
ابوالخالد محمد اظہرالدین علیمی
دارالعلوم حسینیہ نظامیہ بھٹنڈی جموں
گورنمنٹ اسپتال… یہ نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی جگہ کا تصور آتا ہے جہاں بیمار انسان کو راحت، صفائی اور امید ملے۔ مگر جب یہی جگہ انسان کو مزید اذیت دینے لگے، تو یہ صرف ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک کڑوا سچ بن جاتا ہے، جسے نظر انداز کرنا خود ایک جرم ہے۔
حال ہی میں Government Medical College Hospital Jammu کے ماتحت Chest Diseases Hospital Jammu کے
وارڈ نمبر 1 کا جو منظر دیکھنے کو ملا، وہ کسی بھی حساس دل رکھنے والے انسان کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ کہنا شاید مکمل سچ نہ ہو کہ وہاں مہینوں سے صفائی نہیں ہوئی، مگر جو حالت آنکھوں نے دیکھی، وہ یہی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ یہاں صفائی کا تصور بھی دم توڑ چکا ہے۔
بات صرف گندگی تک محدود نہیں، بلکہ بات ہے اس بے حسی کی، اس لاپرواہی کی، اور اس نظام کی جو شاید مریضوں کو انسان سمجھنا ہی بھول چکا ہے۔
🧼 صفائی یا مذاق؟
ایک اسپتال کے باتھروم کا حال کسی ادارے کی سنجیدگی کا آئینہ ہوتا ہے۔ مگر یہاں کا حال ایسا تھا کہ انسان اندر جانے سے پہلے ہی سو بار سوچے۔ دیواروں پر جمی میل، فرش پر پھیلی گندگی، بدبو جو سانس لینا مشکل کر دے—یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں صفائی صرف کاغذوں میں موجود ہے، حقیقت میں نہیں۔
یہ کہنا کہ “مہینوں سے صفائی نہیں ہوئی” شاید مبالغہ ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو منظر سامنے تھا، وہ اسی کا گمان دلاتا ہے۔ اور اگر کسی جگہ کی حالت دیکھ کر ایسا لگے، تو اس کا مطلب ہے کہ صفائی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
🚰 پانی ہے… مگر سہولت نہیں!
حیرت کی بات یہ ہے کہ پانی موجود ہے، مگر بنیادی چیز یعنی لوٹا یا مگ تک دستیاب نہیں۔ یہ چھوٹی سی چیز لگ سکتی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی وقار سے جڑی ہوئی بات ہے۔
سوچئے، ایک بیمار، کمزور انسان جو خود سے چلنے پھرنے کے قابل بھی مشکل سے ہو، وہ ایسی حالت میں کیا کرے گا؟ کیا وہ اپنی بیماری بھول کر سہولتیں تلاش کرے؟ یا اس اذیت کو برداشت کرے؟
یہ صرف ایک چیز کی کمی نہیں، بلکہ یہ نظام کی مکمل بے حسی کی علامت ہے۔
🦠 بیماریوں کا گھر؟
اسپتال وہ جگہ ہوتی ہے جہاں بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے، مگر جب باتھروم کی حالت ایسی ہو، تو یہ خود بیماریوں کا مرکز بن جاتا ہے۔ گندگی، جراثیم، بدبو—یہ سب مل کر نہ صرف مریض بلکہ تیمارداروں کے لیے بھی خطرہ بن جاتے ہیں۔
خاص طور پر چیسٹ (سینے) کے مریض، جو پہلے ہی سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کے لیے ایسی بدبو اور گندگی مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ سوال اٹھتا ہے: کیا یہاں علاج ہو رہا ہے یا بیماری بڑھائی جا رہی ہے؟
💔 غریب مریض کا درد
سرکاری اسپتالوں میں زیادہ تر وہی لوگ آتے ہیں
جو پرائیویٹ علاج کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ امید لے کر آتے ہیں کہ یہاں کم از کم انہیں انسان سمجھا جائے گا۔
مگر جب انہیں ایسی حالت دیکھنے کو ملے، تو ان کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ وہ مجبور ہوتے ہیں، اس لیے خاموش رہتے ہیں۔ مگر کیا ان کی خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے؟
یہ صرف ایک مریض کا مسئلہ نہیں، بلکہ لاکھوں غریب لوگوں کی کہانی ہے جو روزانہ ایسے حالات کا سامنا کرتے ہیں۔
🏥 انتظامیہ کہاں ہے؟
یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوتا۔ یہ مسلسل لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
کیا کوئی افسر کبھی ان باتھرومز کا معائنہ کرتا ہے؟
کیا صفائی کے لیے کوئی ذمہ دار مقرر نہیں؟
کیا صرف رپورٹیں بنانا ہی کافی سمجھ لیا گیا ہے؟
اگر نظام موجود ہے، تو وہ نظر کیوں نہیں آتا؟
اور اگر نہیں ہے، تو پھر یہ ایک بہت بڑی ناکامی ہے۔
⚖️ ذمہ داری کس کی؟
یہ کہنا آسان ہے کہ صفائی والا نہیں آیا، یا اسٹاف کم ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری اوپر سے شروع ہوتی ہے۔
جب تک اعلیٰ حکام سنجیدہ نہیں ہوں گے، تب تک نیچے کوئی کام نہیں کرے گا۔
جب تک احتساب نہیں ہوگا، تب تک بہتری ممکن نہیں۔
📢 ضرورت ہے آواز اٹھانے کی
ایسے مسائل پر خاموش رہنا، دراصل انہیں بڑھاوا دینا ہے۔ اگر آج اس پر آواز نہیں اٹھائی گئی، تو کل یہی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔
یہ ضروری ہے کہ:
میڈیا اس مسئلے کو اٹھائے
عوام اپنی آواز بلند کریں
اور حکام فوری کارروائی کریں
✍️ اصلاح کی راہ
تنقید کے ساتھ ساتھ حل بھی ضروری ہے:
روزانہ کی بنیاد پر صفائی کا نظام قائم کیا جائے
باتھرومز میں بنیادی سہولیات (لوٹا/مگ) فراہم کی جائیںاچانک معائنہ (surprise inspection) کیا جائے
شکایات کے ازالے کے لیے فوری نظام بنایا جائے
یہ کوئی ناممکن کام نہیں، صرف ارادے کی ضرورت ہے۔
🧠 آخری بات
اسپتال صرف دیواروں اور مشینوں کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں انسان اپنی سب سے کمزور حالت میں آتا ہے۔ وہاں اسے عزت، صفائی اور سکون ملنا چاہیے۔
اگر وہاں بھی اسے گندگی، بے عزتی اور لاپرواہی ملے، تو یہ صرف ایک ادارے کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں:
کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرہ ہیں، اگر ہمارے اسپتالوں کا حال ایسا ہے؟
یہ مضمون صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے۔
اگر ہم نے اب بھی اس آئینے میں خود کو نہ دیکھا، تو شاید بہت دیر ہو جائے گی۔
