خوف کی قید میں زندگی، فوبیا کی حقیقت اور اس کا علاج
{ڈاکٹر محمد ارشد خان علیمی}
انسان کی زندگی میں خوف ایک فطری جذبہ ہے۔ یہ جذبہ قدرت نے انسان کی حفاظت کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ وہ خطرناک حالات سے بچ سکے۔ اگر کوئی انسان آگ، گہرے پانی یا کسی خطرناک جانور کو دیکھ کر خوف محسوس کرتا ہے تو یہ ایک فطری اور مفید ردِعمل ہے۔ مگر بعض اوقات یہی خوف اپنی فطری حدود سے تجاوز کر کے ایک بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب کسی چیز، شخص، جگہ یا صورتحال سے حد سے زیادہ، غیر معقول اور بے وجہ خوف پیدا ہو جائے تو اسے طبِ نفسیات کی زبان میں فوبیا (Phobia) کہا جاتا ہے۔
فوبیا دراصل ایک ایسی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے خوف کی شدت سے اچھی طرح واقف بھی ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ اپنے خوف پر قابو نہیں پا پاتا۔ مریض کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خوف حقیقت سے زیادہ ہے اور اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، گھبراہٹ ہونے لگتی ہے اور وہ اس چیز یا صورتحال سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی کیفیت آہستہ آہستہ انسان کی روزمرہ زندگی، سماجی تعلقات اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی متاثر کرنے لگتی ہے۔ماہرینِ نفسیات کے مطابق فوبیا ایک عام نفسیاتی بیماری ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اگرچہ بعض لوگ اسے معمولی خوف سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ شدید فوبیا انسان کی زندگی کو ایک قید خانہ بنا سکتا ہے۔
فوبیا کی اقسام
فوبیا کو عام طور پر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1۔ عام فوبیا (Simple Phobia)
عام فوبیا میں انسان کسی خاص چیز یا صورتحال سے شدید خوف محسوس کرتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض افراد کو جانوروں، اندھیرے، اونچائی، تیز آواز یا آسمانی بجلی سے غیر معمولی خوف ہوتا ہے۔ایسے افراد حتیٰ الامکان ان چیزوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو کتوں سے فوبیا ہو تو وہ ایسی گلیوں یا جگہوں سے
گزرنے سے بھی گریز کرے گا جہاں کتے موجود ہوں۔عام طور پر اس قسم کا فوبیا انسان کی روزمرہ زندگی کو زیادہ متاثر نہیں کرتا کیونکہ مریض ان چیزوں سے بچنے کی کوشش کر لیتا ہے۔ تاہم بعض صورتوں میں یہ خوف بہت شدید بھی ہو سکتا ہے۔
تحقیقی مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عام فوبیا مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔
2۔ سوشل فوبیا (Social Phobia)
سوشل فوبیا کو نفسیات میں ایک اہم اور پیچیدہ بیماری سمجھا جاتا ہے۔ اس بیماری میں انسان سماجی مواقع اور لوگوں کے درمیان آنے سے خوف محسوس کرتا ہے۔ایسے مریض کو ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ لوگ اس کو دیکھ رہے ہیں، اس کی حرکات و سکنات پر نظر رکھ رہے ہیں اور اس پر تنقید کر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔اس خوف کے باعث مریض کے اندر شدید بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ محفلوں، تقریبات، اجلاسوں یا عوامی مقامات پر جانے سے گریز کرنے لگتا ہے۔اس بیماری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا پاتا۔ بہت سے ذہین اور باصلاحیت لوگ صرف اس خوف کی وجہ سے اپنی قابلیت کا اظہار نہیں کر پاتے۔
ماہرین کے مطابق سوشل فوبیا کے مریضوں میں افسردگی (Depression) پیدا ہونے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ بعض شدید صورتوں میں یہ بیماری انسان کو معاشرے سے بالکل الگ کر دیتی ہے۔3۔ اگوروفوبیا (Agoraphobia)
اگوروفوبیا فوبیا کی ایک پیچیدہ اور شدید شکل ہے۔ اس بیماری میں مریض کو بیک وقت کئی حالات سے
خوف محسوس ہوتا ہے۔ایسے مریضوں کو ہجوم والی جگہوں، بند کمروں، سنیما ہال، بازاروں، ٹرین میں سفر کرنے یا لفٹ میں جانے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ بعض مریضوں کو تو گھر سے باہر نکلنا بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔
اس بیماری کی ایک بڑی وجہ پینک ڈس آرڈر (Panic Disorder) بھی ہو سکتی ہے۔ پینک کے دورے میں مریض کو اچانک شدید خوف اور گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔
اس دوران دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، جسم میں کپکپی پیدا ہو جاتی ہے اور پسینہ آنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت چند منٹوں سے لے کر کچھ گھنٹوں تک جاری رہ سکتی ہے۔پینک کے دورے کے بعد مریض کو اس بات کا خوف رہتا ہے کہ دوبارہ ایسا نہ ہو جائے۔ یہی خوف اسے مختلف جگہوں اور حالات سے دور رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔فوبیا کے اسباب فوبیا کی وجوہات پیچیدہ ہوتی ہیں اور ان میں نفسیاتی، حیاتیاتی اور سماجی عوامل شامل ہو سکتے ہیں۔
بعض ماہرین کے مطابق فوبیا دراصل قدرت کی طرف سے دی گئی ایک حفاظتی ردعمل کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ بچپن میں انسان بعض چیزوں سے فطری طور پر ڈرتا ہے، جیسے اندھیرا، اجنبی لوگ یا تیز آواز۔یہ خوف بچے کی حفاظت میں مدد دیتے ہیں۔ مگر بعض صورتوں میں یہی خوف غیر معمولی شدت اختیار کر لیتے ہیں اور بڑے ہونے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔تحقیقی مطالعات یہ بھی بتاتے ہیں کہ سوشل فوبیا اور اگوروفوبیا کا تعلق دماغ میں بعض کیمیائی مادوں، خصوصاً سیروٹونن اور نورایڈرینالین کی تبدیلیوں سے بھی ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ بچپن کے تجربات، تربیت کا انداز، خاندانی ماحول اور زندگی کے تلخ واقعات بھی فوبیا کے پیدا ہونے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔فوبیا کا علاج خوش آئند بات یہ ہے کہ فوبیا ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔ جدید نفسیات میں اس کے علاج کے کئی مؤثر طریقے موجود ہیں۔عام فوبیا کے علاج میں عموماً دواؤں کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اس کے لیے رویّہ جاتی علاج (Behavior Therapy) بہت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔اسطریقہ علاج میں مریض کو آہستہ آہستہ ان چیزوں کا سامنا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے جن سے اسے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ابتدا میں مریض کو نسبتاً کم خوف پیدا کرنے والی صورتحال کا سامنا کرایا جاتا ہے اور پھر بتدریج مشکل حالات کی طرف بڑھا جاتا ہے۔اس طریقے کو نفسیات میں گریجویٹڈ ایکسپوژر (Graduated Exposure) کہا جاتا ہے۔سوشل فوبیا اور اگوروفوبیا کے علاج میں بعض اوقات دوائیں بھی استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر وہ ادویات جو دماغ میں کیمیائی توازن کو بہتر بناتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مریض کو ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے بھی سکھائے جاتے ہیں، جیسے سانس کی مشقیں، مراقبہ اور مثبت سوچ کی تربیت۔خوف سے فرار نہیں، مقابلہ ضروری ہے فوبیا کے علاج کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خوف سے بھاگنے کے بجائے اس کا سامنا کیا جائے۔ جب انسان کسی چیز سے بار بار بچنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ خوف وقتی طور پر تو کم ہو جاتا ہے، مگر حقیقت میں وہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔اس کے برعکس اگر انسان مناسب رہنمائی اور تربیت کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنے خوف کا سامنا کرے تو وقت کے ساتھ وہ خوف کم ہونے لگتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ نفسیات مریض کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے خوف کی فہرست بنائے اور پھر بتدریج ان کا سامنا کرنے کی مشق کرے فوبیا بظاہر ایک معمولی خوف معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسان کی ذہنی آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔ یہ بیماری انسان کو سماجی زندگی، پیشہ ورانہ ترقی اور ذاتی خوشیوں سے محروم کر سکتی ہے۔تاہم یہ بات امید افزا ہے کہ جدید نفسیاتی علاج کے ذریعے زیادہ تر مریض اس بیماری پر قابو پا سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ فوبیا کو کمزوری یا شرمندگی کا سبب سمجھںے کے بجائے ایک قابلِ علاج بیماری کے طور پر تسلیم کیا جائے اور بروقت ماہرِ نفسیات سے مدد حاصل کی جائے۔جب انسان اپنے خوف کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیتا ہے تو وہ نہ صرف اس بیماری پر قابو پا لیتا ہے بلکہ اپنی زندگی کو ایک نئی آزادی اور اعتماد کے ساتھ گزار سکتا ہے۔از قلم ڈاکٹر محمد ارشد خان علیمی
(ماہر نفسیات وذہنی امراض)
