Jun 25, 2026 12:20 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی شکایات، راسواپا نے تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان۔

پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی شکایات، راسواپا نے تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان۔

18 Jun 2026
1 min read

پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی شکایات، راسواپا نے تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان۔

نمائندہ نیپال اردو ٹائمز 

محمد رضوان احمد مصباحی 

 

کاٹھمنڈو: نیپال کی ایوان نمائندگان کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پارلیمنٹ میں بار بار اٹھائے جانے والے اہم قومی مسائل پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ اپوزیشن کے احتجاج کے بعد اسپیکر ڈول پرساد آریال نے ارکان کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دیا۔ رکن پارلیمنٹ نریندر کمار کیرونگ نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے قومی خودمختاری، ناجائز اثاثوں کی تحقیقات اور انسانی حقوق سے متعلق رپورٹوں پر عمل درآمد جیسے معاملات پر توجہ دلانے کے باوجود حکومت نے کوئی مؤثر جواب نہیں دیا۔اسی دوران رکن لکشمی پرساد پوکھریل نے مطالبہ کیا کہ نیپال کی مبینہ طور پر تجاوز شدہ زمین واپس لانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے اور وزیراعظم کی گزشتہ 17 جیتھ کو دی گئی متنازعہ تقریر واپس لی جائے۔ رکن رمیش کمار ملا نے افسوس ظاہر کیا کہ اپوزیشن کے سوالات کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے وزیراعظم کے بیان کو پارلیمانی ریکارڈ سے حذف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جمہوریت اور آئینی نظام کو کمزور ہونے سے بچانے کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں۔ رکن این مہر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کا تحفظ حکومت اور تمام ارکان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ ہرک راج رائی نے بھوٹانی پناہ گزینوں کے مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب رکن طاہر علی بھاٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ادھر راشٹریہ سواتنترا پارٹی (راسوپا) کے سیکریٹریٹ اجلاس نے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔ پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں مرکزی کمیٹی کے ارکان کی تعداد بڑھا کر 158 کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارٹی نے آئین میں سینئر لیڈر کے عہدے کو بھی شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی نمائندگیکو یقینی بنانے کے لیے مختلف عہدوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے ڈھانچے کے مطابق ایک چیئرمین، ایک سینئر لیڈر، تین نائب چیئرمین، دو جنرل سیکریٹری، پانچ نائب جنرل سیکریٹری، ایک ترجمان، تین معاون ترجمان، ایک خزانچی اور دو معاون خزانچی شامل ہوں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کا سیکریٹریٹ اب 33 رکنی ہوگا، جبکہ چیئرمین کی جانب سے نامزد کیے جانے والے مرکزی ارکان کی تعداد بڑھا کر 51 کر دی جائے گی۔پارٹی رہنماؤں کے مطابق یہ تبدیلیاں مختلف سیاسی جماعتوں سے شامل ہونے والے افراد، آزاد شخصیات اور انتخابی مفاہمتوں کو مناسب نمائندگی دینے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دوسری جانب راسواپا کی تنظیمی توسیع، نیپالی سیاست میں آنے والے دنوں میں اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)