حکومت نے آئینی ترمیم پر بحث کے لیے ٹاسک فورس کی ڈیڈ لائن بڑھا دی
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی
نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
کاٹھمانڈو
وفاقی حکومت نے آئینی ترمیم کے مسودے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت مکمل کرنے کے لیے قائم کردہ ٹاسک فورس کی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ٹاسک فورس کو اب اضافی وقت دیا گیا ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے شامل کی جا سکے۔وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئینی ترمیم ایک حساس معاملہ ہے۔ اس لیے جلد بازی کے بجائے مکمل اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ کابینہ نے ہدایت دی کہ ٹاسک فورس تمام صوبوں اور اقلیتی گروہوں سے تحری تجاویز لے کر رپورٹ مرتب کرے۔ٹاسک فورس کا کام آئینی ترمیم کے متنازعہ شقوں پر قانونی اور سیاسی جائزہ لینا تھا۔ اصل ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد کئی جماعتوں نے مزید وقت مانگا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئین میں تبدیلی کا معاملہ قومی مفاد سے جڑا ہے، اس لیے مشاورت کا دائرہ وسیع کرنا ضروری تھا۔سرکاری اعلامیے کے مطابق توسیع کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں اور سول سوسائٹی نے کچھ شقوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ٹاسک فورس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان تحفظات کا جائزہ لے کر متبادل تجاویزبھی رپورٹ کا حصہ بنائے۔اپوزیشن جماعتوں نے ڈیڈ لائن میں توسیع کو مثبت قدم قرار دیا
ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم پر قومی اتفاق رائے کے بغیر پارلیمنٹ سے منظوری لینا مناسب نہیں۔ حکومتی اتحادیوں نے بھی کہا کہ جلدی کے بجائے بہتر مسودہ سامنے آنا چاہیے تاکہ مستقبل میں قانونی پیچیدگیاں نہ پیدا ہوں۔اگلا ڈیڈ لائن کے بعد ٹاسک فورس اپنی حتمی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے گی۔ اس کے بعد مسودہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ترمیم کا عمل شفاف ہو گا اور عوام کو ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا جائے گا
