Aug 22, 2026 04:00 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سرکاری دفاتر میں فارم بھرنے کے لیے ’مفت سہولت مراکز‘ قائم کرنے کا فیصلہ

سرکاری دفاتر میں فارم بھرنے کے لیے ’مفت سہولت مراکز‘ قائم کرنے کا فیصلہ

20 Aug 2026
1 min read

سرکاری دفاتر میں فارم بھرنے کے لیے ’مفت سہولت مراکز‘ قائم کرنے کا فیصلہ

احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی

نمائندہ نیپال اردو ٹائمز

کاٹھمانڈو

حکومت نیپال نے عام شہریوں کو سرکاری خدمات کی فراہمی میں درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی قدم اٹھایا ہے۔وزیراعظم و وزراء کونسل کے دفتر نے سرکاری دفاتر میں استعمال ہونے والے درخواست فارم کے نمونے اور اس کے نفاذ سے متعلق رہنما اصول، ۲۰۸۳‘ جاری کر دیا ہے۔ نئے رہنما اصول کے تحت اب شہریوں کو سرکاری دفتر میں درخواست دینے یا فارم پر کرنے کے لیے کسی دلال، غیر مجاز شخص یا واسطے کا سہارا لینے اور اضافی رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔حکومت نے سرکاری دفاتر کے اطراف میں پھیلی ہوئی دلالی پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے ہر دفتر میں"مفت شہری سہولت مرکز" قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔رہنما اصول ۲۰۸۳ کے مطابق اب ملک کے وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح کے تمام سرکاری اداروں میں دلالی پر سخت پابندی ہوگی۔اصول میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری دفتر کےاندر یا اس کے اطراف فیس لے کر یا بغیر فیس کے شہریوں کی درخواست تیار کرنے، فارم پر کرنے، مطلوبہ دستاویزات کا بندوبست کرنے یا سرکاری خدمت حاصل کرانے کے نام پر کام کرنے والے کسی بھی غیر مجاز شخص یا ادارے کی سرگرمی مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان غیر مجاز درمیانی افراد کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے جو برسوں سے سرکاری دفاتر کے باہر سرگرم تھے اور جن کی وجہ سے عام شہری معمولی سرکاری کام کے لیے بھی مجبوراً اضافی رقم ادا کرتے تھے۔نئے انتظام کی سب سے اہم

خصوصیت"شہری سہولت مرکز"کا قیام ہے۔ رہنما اصول کے مطابق اگر کوئی شہری خود فارم پر نہ کرسکے یا اسے مطلوبہ دستاویزات اور طریقۂ کار سمجھنے میں دشواری پیش آئے تو ہر سرکاری دفتر میں لازمی طور پر یہ مرکز قائم کیا جائے گا۔اس مرکز میں تربیت یافتہ عملہ شہریوں کو درخواست لکھنے، فارم بھرنے اور مطلوبہ دستاویزات کے بارے میں مکمل مفت مدد فراہم کرے گا۔ اس طرح اب ناخواندہ اور کم تعلیم یافتہ شہری بھی بغیر کسی واسطے کے اپنا کام کروا سکیں گے۔

حکومت نے سرکاری ملازمین کی ذمہ داری

بھی متعین کر دی ہے۔ رہنما اصول میں کہا گیا ہے کہ کسی مجاز ضرورت کے علاوہ کوئی بھی سرکاری ملازم شہری کو کسی مخصوص شخص، ادارے یا خدمت فراہم کرنے والے سے رابطہ کرنے یا اس کی خدمت حاصل کرنے کی سفارش، ہدایت یا پابند نہیں کرسکے گا۔خلاف ورزی کرنے والے ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ہر سرکاری دفتر کو اپنے احاطے اور اس کے اطراف میں غیر مجاز واسطہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ضروری انتظامی اور حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی آن لائن درخواست جمع کرانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے تمام دفاتر کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے درخواست فارم ویب سائٹ، کیو آر کوڈ اور الیکٹرانک فارم کی صورت میں بھی دستیاب کرائیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس نئے انتظام کے مؤثر نفاذ سے شہریوں کا وقت، محنت اور اخراجات نمایاں طور پر کم ہوں گے۔ سرکاری خدمات کے حصول میں غیر ضروری جھنجھٹ اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)